- الإعلانات -

افغان حکومت سے مذاکرات نہیں کریں گے،ہیبت اللہ اخونزادہ

کابل فغان طالبان کے نومنتخب امیر مولانا ہیبت اللہ اخونزادہ نے امن مذاکرات کو دھوکہ قرار دیتے ہوئے اتحادی افواج پر حملوں میں تیزی لانے کا حکم دے دیا۔ذرائع  کے مطابق نومنتخب افغان طالبان امیر مولانا ہیبت اللہ اخونزادہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ افغان حکومت سے مذاکرات نہیں کریں گے کیونکہ مذاکرات کے نام پر دھوکہ کیا جاتا ہے اور افغانستان میں اتحادی افواج کی موجودگی تک مذاکرات کا لفظ بھی نہیں سنیں گے ۔ انہوںنے طالبان جنگجوؤں کو حکم دیا کہ افغانستان میں موجود اتحادی افواج پر حملے تیز کیے جائیں۔
واضح رہے کہ افغان طالبان کے ساتھ جب بھی مذاکرات کی کوشش کی جاتی ہے تو کوئی نہ کوئی ایسا کام کر دیا جاتا ہے جس سے مذاکرات پس پشت چلے جاتے ہیں۔ گزشتہ سال جس سے مذاکرات رک گئے ۔ ملا عمر کے بعد ملا اختر منصور افغان طالبان کے دوسرے امیر منتخب ہوئے جس کے بعد افغانستان میں قیام امن کیلئے مختلف فورمز پر مذاکرات جاری تھے تاہم 21 مئی کو امریکہ نے پاکستانی مذاکرات کی آڑ میں 2 امیروں کی جان گنوانے کے بعد طالبان کے تیسرے امیر نے مذاکرات کے امکانات کو یکسر مسترد کردیا ہے اور حملوں میں تیزی لانے کا حکم دے دیا ہے۔