- الإعلانات -

محکمہ صحت سندھ میں کی جانے والی بھرتیوں کو مستقل کرنے سے روک دیا ۔

اسلام آباد سپریم کورٹ نے حکومت کو محکمہ صحت سندھ  میں کی جانے والی بھرتیوں کو مستقل کرنے سے روک دیا ۔

چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں قائم 3رکنی بینچ نے محکمہ صحت سندھ میں غیر قانونی بھرتیوں پر از خود نوٹس کی سماعت کی اور فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے کیس کا فیصلہ ہونے تک حکومت کو بھرتی کیے جانے والے ملازمین کو مستقل کرنے سے روکتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ میں بھرتیوں سے متعلق فیصلہ عدالت کریگی ۔عدالت نے وزیر اعلیٰ سندھ کی جانب سے بنائی جانے والی تحقیقاتی کمیٹی سے 2ہفتوں میں رپورٹ طلب کر تے ہوئے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی

سماعت کے دوران حکومتی وکیل نے عدالت کو بتایا کہ وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے واقعہ منظر عام پر آنے کے بعد تحقیقاتی کمیٹی بنادی ہے جو 1ماہ میں اپنی رپورٹ پیش کریگی ۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کمیٹی عدالت سے جان چھڑانے کیلئے بنائی گئی ہے،کمیٹی آپس میں تمام معاملات طے کر لے گی۔

چیف جسٹس نے حکومتی وکیل سے استفسار کیا کہ سندھ حکومت میرٹ پر بھرتیاں کیوں نہیں کرتی ؟میرٹ پر کام نہ کرنے کی کوئی تو وجہ پتہ چلے ، کیا سندھ میں سب لوگ برابر نہیں۔ حکومت بھرتیوں کے قانونی طریقہ پر عمل درآمد کیوں نہیں کرتی ؟