- الإعلانات -

ملک ویڈیو کانفرسز سے نہیں چل سکتا سڑکوں پر آنے کے سوا کوئی چارہ نہیں:عمران خان

اسلام آباد پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ ٹی او آر ز کے معاملہ پر ڈیڈلاک پیدا ہواتو ہمارے پاس سڑکوں میں آنے کے علاوہ اور کوئی آپشن موجود نہیں ہو گا،ملک میں مارشل لاء نہیں لگے گا ،یہ تھوڑی دیر تو خوشیاں بڑھاتے ہیں لیکن اس سے ادارے کمزور ہو جاتے ہیں ،خواجہ آصف کو صرف بلیک میل کرنے کے لیے رکھا ہوا ہے ،آرمی چیف کی مدت بڑھانا یا کم کرنا مک مکا ہے ،اور اب مک مکا کا کوئی ٹائم نہیں ہے ،جس انداز سے ہماری اسمبلی میں جھوٹ بولا جاتا ہے اگر دنیا میں کسی اور اسمبلی میں ایسا ہو تو گھنٹوں میں استعفیٰ لے لیا جائے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ میاں نواز شریف کی صحت یابی کے لئے دعا گو ہیں ،میاں نواز شریف کی بیماری سے مسلم لیگ نواز بری طرح ایکسپوز ہو گئی ہے ،وہاں بادشاہ کے علاوہ کوئی دوسرا ہے ہی نہیں ،حالات یہ ہیں کہ ملک کے چیف ایگزیکٹو کی سیریس اوپن ہارٹ سرجری ہوئی ہے ،اس آپریشن کے بعد کوئی ہفتے بعد تو ٹھیک نہیں ہو جاتا ،اس میں وقت لگتا ہے ،یہ ملک اور خود میاں صاحب سے بھی زیادتی ہے کہ وہ اقتدار سے ہی چمٹے ہوئے ہیں ،ملک اس وقت کئی کرائسز کا شکار ہے ،وزیر اعظم کو فوری طور پر کسی کو نامزد کر دینا چاہئے لیکن ان کی پارٹی کے اندر ایسا کوئی انتظام ہی نہیں ہے کیونکہ وہ کوئی سیاسی پارٹی ہے ہی نہیں ہے ،کیا کوئی ملک ’’ویڈیو کانفرنس ‘‘ کے ذریعے چل سکتا ہے ؟ عمران خان کا کہنا تھا کہ 1977ء میں دھاندلی کے خلاف صرف 10 پٹیشن عدالت میں داخل کی گئیں تھیں جبکہ 2013ء میں 413پٹیشن دھاندلی کے خلاف عدالتوں میں داخل کروائی گئیں ،۔انہوں نے کہا کہ حالانکہ میں ایک جمہوری آدمی ہوں مگرآج حالات یہ ہیں کہ اگر فوج ٹیک آور کر کے احتساب شروع کر دے تو لو گ مٹھائیاں کیا سڑکوں پر نکل کر فوج کو مبارکبادیں دیں گے اور جشن منائیں گے،ہم دنوں طرف سے مارے گئے ہیں ،آج ملک میں نہ جمہوریت ہے اور نہ ہی بادشاہت ،بادشاہت تب تک چلتی ہے جب تک بادشاہ مضبوط ہوتا ہے ،اوپن ہارٹ سرجری کوئی چھوٹا عمل نہیں ہے ،میں نہیں سمجھتا کہ ملک اس طر ح چل سکے گا ۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ اگر پانامہ لیکس پر حکومت پیچھے ہٹتی تو ثابت ہو جائے گا کہ وزیر اعظم کے بچے کرپٹ ہیں ، کرپشن نے ملک کی جڑیں کھوکھلی کر دی ہیں، اس کے باوجو د اللہ پاک نے اس ملک کو بے پناہ نوازا ہے، اگر اس میں حکمران نیک نیت اور قوم کا سوچنے والے آجائیں تو گارنٹی سے کہتا ہوں ہمارا نام دنیا کے بڑے ملکوں میں چند میں سے ہو۔انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ ملک میں مارشل لاء نہیں لگے گا ،یہ تھوڑی دیر تو خوشیاں بڑھاتے ہیں لیکن اس سے ادارے کمزور ہو جاتے ہیں ،اگر قائم مقام پرائم منسٹر نہ بنایا تو ایک خلا پیدا ہو جائے گا ،ساری دنیا دیکھ رہی ہے .عمران خان کا کہنا تھا کہ میں نے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کے ہمراہ خیبر پختونخوا کے بعض اہم مسائل کے حوالے سے آرمی چیف سے ملنا تھا لیکن پھر میں نے سوچا کہ اگر میں موجودہ صورت حال میں جنرل راحیل شریف سے ملاتو ملک میں افواہوں کا نیا بازار گرم ہو جائے گا، اس لئے ملاقات کا پلان ہی ختم کر دیا ۔

کرپٹ لوگوں کا برا وقت دیکھ رہا ہوں ،اللہ نے موقع دیا ہے ملک کی سمت درست کرنے کا ،جولائی سے آگے ایسے حالات نہیں رہیں گے ،صدارتی نظام کی بات کی تو تین چھوٹے صوبے شور مچا دیں گے کہ ان کا تو صدر نہیں بنے گا ،صدارتی سسٹم بہتر ہے ،پانامہ لیکس کے حوالے سے کوئی کمیشن بن گیا تو ٹھیک وگرنہ ملک بھر میں سخت احتجاج ہو گا ۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ یہاں صرف میٹرو ،اورنج ٹرین،اور موٹر ویز کے نام پر ملک کو لوٹا جارہا ہے ،جو ہمارا زیور ہے اس سے محروم رکھا جا رہا ہے، اس وقت دو کروڑ سے زائد بچے سکول نہیں جاتے ان کے بارے میں کو ن سوچے گا؟حقیقت ہے کہ کرپشن کو ختم کرنے کے لیے اوپر سے نیچے تک صفائی نہیں ہوگی اس وقت تک اس موزی مرض میں مبتلا رہیں گے ،پانامہ لیکس پر اگر صاف و شفاف تحقیقات ہو گئیں تو دعوے سے کہتا ہوں کہ موجودہ حکمران جیل میں ہونگے یہ عوام کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پانامہ لیکس عمران خان نے نہیں بنائی یہ باہر ملک سے آئی ہے ،جہانگیر ترین اور علیم خان کا نام پانامہ پیپرز میں نہیں ہے اس کے باوجود میرے سمیت سب کا احتساب کیا جائے مگر وزیر اعظم اپنے آپ کو مبرا نہ سمجھیں ان کی گردن بر ے طریقہ سے پھنس چکی ہے ۔