- الإعلانات -

پائیدار ترقی کا مقصد جمہوریت کے بغیر حاصل کرنا ممکن نہیں: صدر مملکت

اسلام آباد صدر مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ مضبوط پاکستان کی تعمیر کیلئے مضبوط معیشت ضروری ہے اور معیشت کے استحکام کیلئے پالیسیوں کا تسلسل جاری رہنا چاہئے۔ ملکی استحکام اورترقی کیلئے مزید مشکل فیصلے کرنا ہوں گے، اب غطی کی گنجائش نہیں، قوم کو یکجا ہونے کی ضرورت ہے، اپوزیشن بھی قائداعظم کے فرمان کے تحت حکومت پر تنقید کرے۔ زندہ قومیں اپنے شہیدوں کو یاد رکھتی ہیں، ہم اپنی افواج کی قربانیوں پر فخر کرتے ہیں اور پاکستان کے تحفظ کی جنگ میں شہید ہونے والوں کیلئے یادگار بنائیں گے۔مسئلہ کشمیر حل ہونے تک خطے کے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔
سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے زیر صدارت پارلیمینٹ کا مشترکہ اجلاس ہوا جس میں مسلح افواج کے سربراہان اور غیر ملکی سفارتکاروں کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی تاہم وزیراعظم نواز شریف بیرون ملک علاج کے سبب اجلاس میں نہیں آسکے۔ صدر مملکت ممنون حسین نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ پارلیمینٹ کی تین برسوں سے کامیابی سے تکمیل اور چوتھے سال کے آغاز پر مبارکباد دیتا ہوں۔ تین برس کا یہ سفر اس حقیقت کا غماز ہے کہ ہمارے سیاسی نظام میں اتنی صلاحیت پیدا ہو گئی ہے کہ وہ مختلف قسم کے بحرانوں کا سامنا کامیابی سے کر سکے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ پائیدار ترقی کا مقصد جمہوریت کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا۔ گزشتہ تین برس کے دوران نرم گرم اور تلخ و شیریں ہر طرح کے ماحول میں جمہوری سفر جاری و ساری رہا، قوم کے ہر فرد، طبقے اور ادارے کی ذمہ داری ہے کہ وہ فروغ پانے والے مثبت رجحان کو جاری و ساری رکھنے کیلئے اپنا اپنا کردار ادا کریں۔ جمہوریت کی آبیاری اور افزائش کے ذریعے ہی عوام کی خدمت اور ان کے معیار زندگی میں بہتری پیدا ہوتی ہے اور نظام کو مزید مستحکم اورپائیدار بنایا جا سکتا ہے ۔ جو حکومتیں فرد اور ریاست کے تعلق کی اس نوعیت کو سمجھ کر قانون کی یکساں حکرمرانی، معاشی ترقی اور عوام کو ان کی بنیادی ضرورتوں کی فراہیم کو یقینی بنا دیتی ہیں، ایسی حکومتیں مشکل مقامات سے باآسانی گزر کر نظام اور جمہوریت کو مضبوط کرتی ہیں۔
مجھے خوشی ہے کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں اس حقیقت سے آگاہ ہیں اور اپنی پالیسیاں اسی فلسفے کی روشنی میں ترتیب دے رہی ہیں جس کے نتیجے میں جمہوریت مستحکم ہو رہی ہے۔ میں چاہوں گا کہ حکومت چاہے کسی بھی جماعت کی ہو، وہ اپنی پالیسیاں اسی آزمودہ اصول کی روشنی میں ترتیب دے تاکہ جمہوری نظام کی جڑیں مضبوط ہوں اور پاکستانی عوام آسودگی اور خوشحالی کی زندگی بسر کر سکیں۔ معزز ارکان پارلیمان کسی قوم کی ترقی اور خوشحالی کا اندازہ اس کی معاشی کارکردگی سے لگایا جا سکتا ہے۔ ایک پرانے سیاسی کارکن اور معاشیات کے طالب علم کی حیثیت سے میری نظر ہمیشہ ان معاملات پر رہی ہے۔ خطے میں پائی جانے والی بے چینی کئی دہائیوں سے جاری رنگو، جنگوں، دہشت گردی اور مختلف ادوار کے دوران مالی نظم و نسق برقرار رکھنے میں ناکام کی وجہ سے ملک بہت سے مسائل سے دوچار رہا ہے جس سے قومی آمدنی اور پیداوار تشویشناک حد تک متاثر ہوئی اور یہ صورتحال تقاضہ کرتی تھی کہ زرمبادلہ کے ذخائر اور قومی پیداوار میں اضافے کے ساتھ بجٹ خسارے اور اشیائے صرف کی بڑھتی ہوئی قیمتوں میں کمی لائی جائے۔ اس تناظر میں جب ہم غیر جانبدار بین الاقوامی اداروں کی حالیہ رپورٹس کا جائزہ لیتے ہیں تو صورتحال حوصلہ افزاءنظرآتی ہے۔ عالمی مالیاتی اداروں کے ذریعے سامنے آنے والے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں ٹیکسوں کے نظام اور وصولی میں بہتری ہوئی۔ زرمبادلہ کے ذخائر اور قومی پیداوار کی شرح نمو اطمینان بخش طریقے سے بڑھ رہی ہے اور اس برس یہ چار اعشاریہ 7 فیصد رہی ہے۔ بجٹ خسارے میں کمی آئی ہے، افراط زر کی شرح قابو میں رہی اور روپیہ مستحکم ہوا۔ یہ اشارے مثبت ہیں جن سے بیرونی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہو گی۔ ہماری اقتصادی ترقی کی رفتار تیز ہوگی اور پاک چین اقتصادی راہداری سے اسے مزید رفتار ملے گی۔
انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ معاشی میدان میں ایسی خوش آئند پیش رفت مستقل مزاجی کے ساتھ تشکیل دی گئی حقیقت پسندانہ پالیسیوں کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ میں چاہوں گا کہ معیشت کے استحکام کیلئے پاکستان کے معروضی حالات کے مطابق پالیسیوں کا تسلسل جاری رہے اور معیشت کی بہتری کے ثمرات عام آدمی تک پہنچانے کیلئے بھی مزید اقدامات کئے جائیں کیونکہ اچھی حکومت کی یہی پہچان ہے۔ بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح نے فرمایا تھا کہ اگر ہم پاکستان کو خوشحال دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے عوام اور خاص طور پر غریب طبقات کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانا ہوگا۔ مجھے یہ کہنے میں ذرا بھی ہچکچاہٹ نہیں ہے کہ پاکستان کی اقتصادی پالیسی کا محور قائداعظم کا یہی فرمان ہونا چاہئے۔ گزشتہ برسوں کے دوران عوامی بہبود کے کئی اقدامات سامنے آئے ہیں جن میں نوجوانوں کیلئے کاروبار کے مواقع، فنی تربیت، غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے والی آبادی کی مدد کیلئے جامع پروگرام، بنیادی اشیائے صرف پر سبسڈی، کسانوں اور کاشتکاروں کیلئے خصوصی پیکیج، پسماندہ علاقوں کے بچوں کیلئے مفت تعلیمی سہولتیں اور وظائف، ہونہار اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے طلباءکیلئے لیپ ٹاپ کی فراہمی اور ہیلتھ انشورنس سکیم جیسے کئی منصوبے شامل ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ کمزور اور غریب طبقات کے مسائل میں کمی کیلئے اس طرح کے اقدامات مسلسل کئے جاتے رہیں تاہم معاشی پالیسیوں پر حزب اختلاف کی تنقید کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ایک سمجھدار حکومت کی طرح اپنی طاقت بنا لینا چاہئے تاکہ ان پالیسیوں میں مزید بہتری آئے اور ان کی افادیت مزید بڑھ جائے لیکن اس کے ساتھ ہی حزب اختلاف کی بھی ہی ذمہ داری ہے کہ وہ تنقید کرتے ہوئے بابائے قوم کی اس ہدایت کو ہمیشہ پیش نظر رکھے کہ حزب اختلاف یا کسی بھی گروہ کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ منتخب حکومت پر غیر قانونی طریقے سے اپنی مرضی مسلط کرنے کی کوشش کرے۔
قائداعظم کے بتائے ہوئے اس رہنماءاصول میں یہ حکمت پوشیدہ ہے کہ ضد اور ذاتی اختلافات کو قومی مفادات پر غالب نہ آنے دیا جائے تو اس کے نتیجے میں معاشرے کا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے جس کا تلخ تجربہ ہم اپنی پارلیمانی، جمہوری اور سیاسی تاریخ میں بارہا کر چکے ہیں لیکن آئندہ اس کے متحمل نہیں ہو سکتے کیونکہ اب غلطی کی گنجائش بالکل نہیں ہے اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ اپنی تاریخ کے اس مرحلے پر قوم کو اتفاق رائے اور یکجہتی کی جتنی ضرورت آج ہے اس سے پہلے کبھی نہ تھی۔ پاک چین اقتصادی راہداری کے تناظر میں اس کی اہمیت تو اور بھی زیادہ ہے۔ اس منصوبے کی تشکیل پاک چین معاہدوں اور مختلف روٹس کی منصوبہ بندی کے بہت سے امور میں مختلف مواقع پر آنے والی پیش رفت کی تفصیلات براہ راست میرے علم میں ہیں۔ ان معاملات میں بعض حلقوں کی جانب سے جو تحفظات سامنے آئے ان میں وزن نہیں۔ قومی معیشت کیلئے اس اہم ترین منصوبے پر پروگرام کے مطابق کام جاری رہنا ۔ مجھے امید ہے کہ اس معاملے میں قومی اتفاق رائے کیلئے موثر کوششیں کی گئی ہیں جن سے شکوک و شبہات کے خاتمے میں مدد ملی ہے لیکن اگر ہمارے درمیان اس منصوبے کے کسی بھی پہلو کے بارے میں خواہ چند لوگوں کے ذہن میں ہی کوئی خدشہ ہے تو بات چیت کے ذریعے اسے بھی دور کیا جائے تاکہ غیروں کو کسی قسم کی شہ نہ مل سکے۔ پاک چین اقتصادی راہداری قومی معیشت کی احیاءکیلئے کتنی اہم ہے یہ محتاج بیان نہیں لیکن میں آپ کو یہ ضرور بتانا چاہوں گا کہ اس راہداری سے مستفید ہونے کیلئے ہمارے پڑوسی اور خاص طور پر وسط ایشیاءکے ممالک نے ابھی سے تیاری شروع کر دی ہے۔ کئی ممالک کے قائدین نے مجھے ذاتی طور پر بتایا کہ یہ راہداری ان کی معیشت کی ترقی کیلئے ایک سنہری موقع ثابت ہو گی۔ پاکستان اور تاجکستان کے درمیان زمینی روابط بڑھانے کیلئے جن شاہراہوں کی تعمیر کیلئے معاہدے ہوئے ہیں ان کا سبب بھی یہی راہداری ہے۔ اس لئے میں اپنے ہم وطنوں سے صرف اتنا کہوں گا کہ
”اٹھ کے اب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے
مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے“
اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اقتصادی راہداری کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کیلئے تندہی سے کام کیا جائے۔ اس مقصد کیلئے چینی ماہرین اور کارکنوں کی حفاظت کیلئے خصوصی سیکیورٹی ڈویژن کا قیام عمل میں آ گیا ہے اور سڑکوں کی تعمیر کا سلسلہ بھرپور طریقے سے جاری ہے۔ مجھے امید ہے کہ اقتصادی راہداری کے مغربی اور چند دوسرے روٹس پر بیشتر کام اس سال کے آخر تک مکمل ہو جائے گا جبکہ اس منصوبے کے کلی طور پر مکمل ہونے میں کچھ وقت لگے گا۔ اس دوران ملک میں کئی بار انتخابات ہوں گے اور کئی حکومتیں ملک کی باگ دوڑ سنبھالیں گی۔ اقتصادی راہداری منصوبے کے اس نظام الاوقات سے واضح ہے کہ اس کا تعلق کسی حکومت، کسی جماعت یا چند خاص سیاسی شخصیات کے مفاد سے نہیں بلکہ خالصتاً قومی منصوبہ ہے اس لئے قوم کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام تحفظات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اس منصوبے میں حائل ہر داخلی و خارجی رکاوٹ کو ناکام بنا دے تاکہ قوم معاشی خودانحصاری کی منزل حاصل کر سکے۔ یاد رکھئے جو قومیں اپنے داخلی تنازعات کے سبب اقتصادی استحکام سے محروم رہتی ہیں انہیں غیروں کے سامنے ہاتھ پھیلانا پڑتے ہیں اور جو قومیں اپنے تضادات پر قابو پا کر معیشت کو مضبوط بنا لیتی ہیں، زمانہ ان کے سامنے سرنگوں ہو جاتا ہے اور وہ اپنے مقدر کو سنوارنے اور اپنی مرضی کے مطابق فیصلے کرنے میں آزاد ہو جاتی ہیں۔ ہمیں بھی یہی کرنا ہے، اس مقصد کیلئے ابھی کچھ مزید مشکل فیصلے کرنے ہوں گے لیکن اس کے ساتھ ہی آسودہ حال طبقات اور کاروباری و صنعتی شعبوں کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری خوش دلی سے پوری کریں تاکہ ہم سب اپنے وطن کے طفیل جن سہولتوں اور نعمتوں سے فیضیاب ہو رہے ہیں ان کا حق ادا کر سکیں جس کا سب سے بڑا طریقہ ٹیکس کی ادائیگی ہے۔ زندہ قومیں اپنی یہ ذمہ داری قومی اور سماجی فریضہ سمجھ کر ادا کرتی ہیں جس کے ساتھ ہی حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ٹیکس وصولی کے دائرے میں مزید وسعت کی تدابیر کرے اور اس سلسلے میں حقیقت پسندانہ پالیسی تیار کر کے ٹیکس وصولی کے نظام میں بہتری لانے کا سلسلہ جاری رکھے۔
ان معاملات میں ہمارے یہاں نظیریں موجود ہیں اور کاروباری برادری کے تعاون سے مزید بہتر تجاویز بھی تیار کی جا سکتی ہیں۔ معزز اراکین پارلیمان حکومتیں اور حکمران آتے جاتے رہتے ہیں مگر ریاست برقرا ررہتی ہے اور یہی حقیقت پورے نظام کی بنیاد ہے اس لئے ہمیں اپنے سیاسی اختلافات برقرار رکھتے ہوئے بھی معیشت کو متاثر نہیں ہونے دینا چاہئے کیونکہ مضبوط پاکستان کی تعمیر مضبوط معیشت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ اس سلسلے میں میری تجویز یہ ہے کہ قوم معاشی استحکام کے ایجنڈے پر متفق ہو جائے تاکہ ہر طرح کے حالات میں اقتصادی پالیسیوں کا سلسلہ برقرار رہ سکے۔ مجھے یقین ہے کہ ہماری سیاسی جماعتیں اس تجویز پر غور کر کے جلد ہی کوئی ٹھوس قدم اٹھائیں گے۔ خواتین و حضرات معیشت کا استحکام اور اقتصادی خودانحصاری ہماری ہر حکومت کا نصب العین ہونا چاہئے ، جراتمندانہ معاشی فیصلے اور اقتصادی راہداری کی تعمیر جیسے منصوبے انہی مقاصد کی جانب پہلا قدم ہیں جن کے روبہ عمل آنے سے علاقائی روابطہ میں اضافہ ہو گا بلکہ انفراسٹرکچر کی تعمیر میں بھی مدد ملے گی۔معاشی استحکام کا یہ مقصد اس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتا جب تک ہم توانائی کے معاملے میں مکمل طور پر خودکفیل نہ ہو جائیں۔ یہی وجہ بھی کہ بجلی کی پیداوار کے منصوبوں کو اقتصادی راہداری کے منصوبے کا حصہ بنا دیا گیا۔ اب اس کے فوائد سامنے آ رہے ہیں۔ بجلی کی پیداوار میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس کی تقسیم کے نظام میں بہتری آئی ہے جس عوام نے کافی حد تک سکون کا سانس لیا ہے۔ میں توقع کرتا ہوں کہ 2018ءتک بجلی کے تمام منصوبوں کی تکمیل کے بعد توانائی کے بحران پر قابو پا لیا جائے گا۔ توانائی کے بحران کی ایک بڑی وجہ قدرتی گیس کے ذخائر میں پیدا ہونے والی کمی بھی تھی۔ قطر سے ایل این جی کی درآمد سے صنعتی پیداوار میں رونما ہونے والی کمی پر قابو پانے میں مدد ملی ہے۔ سرکاری اور نجی سرمایہ ڈوبنے سے بچا ہے اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو روزگار بھی ملا ہے لیکن اس کے باوجود میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں مزید متبادل ذرائع سے توانائی کے حصول پر کام جاری رکھنا چاہئے، جن میں ہائیڈل، سولر، ونڈ اور کوئلہ وغیرہ شامل ہیں۔ اس سلسلے میں میری تجویز ہوگی کہ ہمیں گلگت بلتستان ، آزاد کشمیر اور دیگر بالائی علاقوں کے ندی نالوں اور آبی گزرگاہوں سے بھی بجلی کی پیداوار شروع کرنے پر توجہ دینی ہو گی کیونکہ ان ذرائع سے ہمیں بہت سستی اور وافر بجلی میسر آ سکتی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ دیامر بھاشا اور داسو ڈیموں کی تعمیر پر توجہ دینے کیساتھ ساتھ ان چھوٹے منصوبوں پر بھی ابھی سے غور شروع کر دیا جائے۔ اس سلسلے میں ایک قابل عمل تجویز یہ ہو سکتی ہے کہ سستی بجلی کی پیداوار کے ان مواقع کی طرف درمیانہ درجے کے نجی سرمایہ کاروں کو متوجہ کیا جائے اورگلگت بلتستان کو نیشنل گرڈ سے منسلک کر دیا جائے، اس طرح دیکھتے ہی دیکھتے حالات بدل جائیں گے۔
بجلی کی پیداوار میں اضافے کیساتھ ساتھ اس کی ترسیل کے نظام میں بھی بہتری اور سرمایہ کاری کی ضرورت ہے تاکہ جس علاقے میں بجلی پیدا ہو، سرمایہ کار اور تقسیم کار کو اسی علاقے میں بجلی فروخت کرنے کی اجازت مل جائے تو اس کے نتیجے میں ہمارے ہاں سرمایہ کاری بھی بڑھ جائے گی اور بجلی کی پیداوار اور تقسیم کے نظام میں بھی خاطر خواہ بہتری آ جائے گی۔ قومی ترقی کا خواب صرف اسی صورت میں شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے جب ملک میں امن و امان ہو، کاروباری ماحول سازگار ہو اور سرمایہ کار بلاخوف سرمایہ کاری کر سکے۔ مجھے خوشی ہے کہ اب ملک کے مختلف حصوں، بالخصوص وزیرستان، بلوچستان اور کراچی میں بحالی امن کی کارروائیوں کے بھی حوصلہ افزاءنتائج سامنے آئے ہیں اور ملکی سطح پر معاشی ترقی کی شرح بہتر ہوئی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس سال کے آخر تک داخلی سلامتی کو یقینی بنا کر ہم ضرب عضب کے تمام اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اس لئے ہمیں اب اپنی توجہ ان آپریشن سے حاصل ہونے والے نتائج کو برقرار رکھنے پر بھی مبذول کرنی چاہئے۔ اس سلسلے میں ضروری ہے کہ متعلقہ علاقوں میں سول انتظامیہ کی بھی رٹ بحال کر کے ذمہ داریاں بتدریج اسے منتقل کر دی جائیں۔ ملک بھر اور خاص طور پر متاثرہ علاقوں میں ماضی کے تکلیف دہ حالات کے اعادے سے بچنے کیلئے خصوصی منصوبے بنائے جائیں۔ ایسے تاجر اورصنعتکار جن کے کاروبار تباہ ہو چکے ہیں، ان کی بحالی کیلئے سہولتیں فراہم کی جائیں تاکہ ان علاقوں کے لوگ ایک بار پھر زندگی کی گہما گہمی میں شریک ہو سکیں۔ اس مقصد کیلئے ان علاقوں کے نوجوانوں کو مایوسی سے بچانا اور ماضی کی تلخ یادوں سے ان کا پیچھا چھڑانا ناگزیر ہے تاکہ وہ مستقبل کی ذمہ داریاں سنبھالنے کیلئے تیار ہو سکیں۔ اس سلسلے میں سکولوں، کالجوں اور گلی کوچوں سے لے کر قومی سطح پر کھیلوں کے فروغ کیلئے بھرپور پالیسی تشکیل دی جائے اور ایسے اقدامات کئے جائیں کہ کھیل کے میدانوں میں زندگی کی ایک نئی لہر دوڑ جائے تاکہ ملک میں صحت مند زندگیاں فروغ پا سکیں اور بیرون ملک وطن عزیز کا سبز ہلالی پرچم بلند ہو سکے۔
پاکستان اس اعتبار سے دنیا کے خوش قسمت ترین ملکوں سے ہے جس کی آبادی کا غالب حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے اور اسے مفید طاقت میں بدلنا ہماری ذمہ داری ہے تاکہ وہ اپنے مستقبل کے بارے میں پراگندہ خیالی کا شکار نہ ہوں اور ان کا ذاتی اور قومی ایجنڈا ہم آہنگ ہو جائے۔ یہ انتہائی نزاکت، باریک بینی اور کھلے ذہن کے ساتھ کرنے والا کام ہے، معیشت کی طرح اس معاملے میں بھی حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان مکمل ہم آہنگی ہونی چاہئے۔ یاد رکھیے اگر ہم نوجوانوں کو قومی مقاصد کے حصول کیلئے اپنی قوت میں بدلنے میں کامیاب ہو گئے تو ہمارے بیشتر مسائل حل ہو جائیں گے جن میں انتہاءپسندی کا مسئلہ بھی شامل ہے۔ مستقبل میں اس طرح کے حالات سے بچنے کیلئے دانشورانہ سطح پر بھی کام کرنے کی ضرورت ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اس سلسلے میں ملک کے غیر جانبدار و غیر سیاسی علماءو سماجی علوم کے ماہرین کا گروپ تشکیل دیا جائے جو انتہاءپسندی کے اسباب کا مطالعہ کر کے جوابی بیانیہ کی تیاری میں ریاست کے ساتھ شریک ہو جائے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہمارا دین، اخلاقی اقداراور ملک کا قانون خونریزی، عبادت گاہوں کی بے حرمتی اور خاص طور پر اقلیتوں کیساتھ زیادتی کی اجازت نہیں دیتا لیکن ہم یہ بات جن لوگوں کو سمجھانا چاہتے ہیں ان سے انہی کی زبان، اسلوب اور دلائل کے ساتھ بات کرنی ہو گی، میں سمجھتا ہوں کہ ہمارا یہ قدم حالات میں بہتری لانے کیساتھ ساتھ مستقبل کیلئے پیش بندی کا ذریعہ بھی ثابت ہو گا۔ خواتین و حضرات دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قوم نے بے مثال عزم و ہمت کا مظاہرہ کیا ہے۔ قوم اس جنگ میں شہید ہونے والے مرد و زن، بزرگوں اور بچوں کو اپنا محسن سمجھتی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ بینظیر مثالیں رقم کرنے والے عوام کو اور افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے ایک قومی یادگار قائم کی جائے جس پر اس جنگ میں شہید ہونے والے ہر فرد کا نام کندہ کیا جائے ۔ زندہ قومیں اپنے شہیدوں کو ہمیشہ ایسے ہی عزت و احترام دیا کرتی ہیں جن کی دنیا میں بے شمار مثالیں موجود ہیں۔
اس طرح کی یادگاریں وطن کے تحفظ اور اس کے دفاع کا جذبہ پیدا کرتی ہیں۔ دفاع وطن کی اس جنگ میں ہمارے سول و فوجی اداروں کے جوانوں، افسروں نے بھی شاندار کارکردگی مظاہرہ کیا ہے جس پر قوم انہیں خراج تحسین پیش کرتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے ان جی دار جوانوں نے اپنی دلیر اور جانباری کے مظاہروں سے قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔ جس قوم کے محافظوں کے دل قربانی اور شہادت کے ایسے جذبات سے لبریز ہو، انہیں دنیا کی کوئی طاقت شکست سے دوچار نہیں کر سکتی۔ ہم اپنی افواج کی قربانیوں کی قدر کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ قوم بدامنی کے مستقل خاتمے کیلئے ان اداروں کی پشت پر کھڑی ہو جائے۔ ہم اس جنگ کے دوران قبائلی علاقوں کے بے گھر ہو جانے والے عوام کی قربانیوں پر بھی انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ امن و امان کی بحالی کے بعد ہمارے ان بھائی بہنوں کی اپنے گھروں کی واپسی کا سلسلہ جاری ہے۔ ان کی دوبارہ آباد کاری کے اقدامات کو مزید تیز اور آسان بنا دیا جائے تاکہ قوم کی بقاءکیلئے اپنا گھر بار چھوڑ کر پریشان حالی کا شکار ہونے والے ہمارے بھائی، بہنیں اور بچے آسانی کے ساتھ اپنے علاقوں کو لوٹ سکیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دینے والے بہادروں کی طرح انسداد پولیو مہم میں جان کی قربانی پیش کرنے والے رضاکار اور پولیس کے افسر و جوان بھی ہمارے ہیرو ہیں۔ ہم اپنے ان تمام شہیدوں کے بلندی درجات کیلئے دعاگو ہیں اور ان کی جرات اور بہادری کو سلام پیش کرتے ہیں۔
پاکستانی قوم کی خواہشات کی ترجمانی کرنے والے اس فورم کے ذریعے میں عالمی برادری تک قوم کے جذبات و احساسات بھی پہنچانا چاہتا ہوں۔ ہم دنیا پر واضح کرتے ہیں کہ ہماری خارجہ پالیسی کی بنیاد امن برائے ترقی اور پرامن ہمسائیگی ہے۔ یہ پالیسی بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کی تعلیمات کی روشنی میں تشکیل دی گئی تھی جس میں انہوں نے فرمایا تھا کہ ہماری خارجہ پالیسی تمام اقوام عالم سے دوستی اور بھائی چارے پر مبنی ہو گی ہم کسی قوم یا ملک پر جارحیت کا ارادہ نہیں رکھتے۔ ہم قومی اور عالمی معاملات میں ایمانداری، غیر جانبداری پر یقین رکھتے ہیں۔ ہم واضح کرتے ہیں کہ پاکستان دنیا کے مظلوم اور کچلے ہوئے عوام کی مادی و افلاقی مدد اور اقوام متحدہ کے منشور کی پاسبانی سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔ انہی اصولوں کی روشنی میں ہماری خارجہ پالیسی تین بنیادی نکات پر استوار کی گئی ہے۔
1۔ تعمیری سفارتکاری
2۔ عدم مداخلت
3۔ تجارت کا فروغ اور معاشی تعاون
عالمی امن اور ہم آہنگی کے اس پرخلوص جذبے کے تحت ہم دنیا کے تمام ملکوں بالخصوص ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات اور پرامن بکائے باہمی کے خواہشمند ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ خطے کے مسائل کی بنیادی وجہ مسئلہ کشمیر ہے جو تقسیم برصغیر کا نامکمل ایجنڈا ہے۔ جب تک یہ مسئلہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی خواہشات اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق طے نہیں ہو جاتا اس وقت تک خطے کے مسائل حل نہیں ہو سکیں گے۔ گزشتہ برس اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں بھی یہی پیغام دیا گیا تھا کہ ہم پڑوسیوں کے ساتھ بلا تعطل، مسلسل اور بامعنی مذاکرات کے خواہشمند ہیں، مجھے افسوس ہے کہ ہماری طرف سے خلوص اور گرمجوشی کے ساتھ بڑھائے گئے ہاتھ کا اسی جذبے کے ساتھ جواب نہیں دیا گیا۔ بدقسمتی سے حال ہی میں چند مزید ناخوشگوار واقعات رونماءہوئے ہیں جن سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی ضرورت پر بار بار زور دینے اور پٹھان کوٹ واقعے کی مذمت اور مشترکہ تحقیقات کی پیشکش کے باوجود خارجہ سیکرٹری کی سطح پر مذاکرات التواءکا شکار ہیں جس پر ہمیں تشویش ہے۔ اس طرح کے حالات نیک نیتی اور اخلاص کے اسی جذبے کے روبہ عمل لانے سے بہتر ہو سکتے ہیں جس پر پاکستان کاربند ہے۔ پاکستان سمجھتا ہے کہ خطے میں امن و استحکام کیلئے افغانستان کا امن ناگزیر ہے۔ یہ مقصد فریقین کے درمیان مکمل مفاہمت کے ذریعے ہی ممکن ہے اور اس کا کوئی فوجی حل نہیں ہو سکتا۔ افغانستان میں نئی حکومت کے قیام کے بعد پاکستان نے پورے اخلاص کے ساتھ نئی قیادت سے رابطے کئے تاکہ ماضی کی بدگمانیوں کا خاتمہ کر کے دیرپا امن کی راہ ہموار کی جا سکے۔
اس سلسلے میں پاکستان ہی کی تحریک پر چار ملکی تعاون گروپ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان بات چیت میں معاونت کر رہا ہے جس کے اب تک کئی اجلاس ہو چکے ہیں۔ افغانستان میں رونما ہونے والے حالیہ چند واقعات کی وجہ سے ان کوششوں کو نقصان پہنچا ہے لیکن ہمیں توقع ہے کہ یہ کوششیں جلد کامیاب ہوں گی۔ 14 ملکی ہارٹ آف ایشیاءکانفرنس بھی اسی سلسلے میں کڑی ہے جس میں پاکستان کا کردار بہت اہم ہے۔ اسلامی برادری سے تعلقات پاکستان کی خارجہ پالیسی کی بنیاد ہے۔ یہی وجہ ہے تمام مسلم ممالک کے ساتھ ہمارے تعلقات نہایت دوستانہ اور قریبی ہیں۔ ان ملکوں میں کام کرنے والے لاکھوں تارکین وطن نے بھی ان تعلقات کو مزید وسعت دی ہے۔ ہم خلیج تعاون کونسل کے ساتھ افرادی قوت، دفاع اور توانائی کے شعبوں میں تعاون سمیت فری ٹریڈ ایگریمنٹ پر بات چیت کر رہے ہیں جو باہمی تجارت کیلئے سودمند ثابت ہو گی۔کچھ عرصہ قبل مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے خاتمے کیلئے پاکستان نے مثبت کردار ادا کیا جس میں ہمارے عزیز دوست ترکی نے بھی ہماری معاونت کی۔ ہماری ان کوششوں کے مثبت نتائج برآمد ہوئے اور اس پس منظر میں ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی کا دورہ پاکستان نہایت اہم تھا۔ جس سے دونوں برادر ملکوں کے تعلقات میں نئی گرم جوشی پیدا ہوئی ہے۔ ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے جس کے نتیجے میں دوطرفہ تجارت کو پانچ بلین ڈالر تک پہنچانے کیلئے پانچ سالہ سٹریٹجک منصوبے کی تشکیل پر کام جاری ہے۔ اس کے علاوہ تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو وسعت دینے کیلئے مزید اینٹری پوائنٹس کھولنے پر بھی اتفاق ہوا ہے جبکہ پاک ایران گیس پائپ لائن ہماری توانائی کی ضروریات کی تکمیل میں بھی معاون ثابت ہو گی۔
ہمسایہ ملکوں کے ساتھ تجارت اسی صورت میں فروغ پا سکتی ہے اگر مشترکہ سرحدیں محفوظ ہوں۔ آمدورفت کا ریکارڈ تیار کیا جائے اور سرحدوں پر کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمی کو ناممکن بنا دیا جائے۔ اس مقصد کیلئے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے موثر نگرانی کا نظام ناگزیر ہے۔ میں چاہوں گا کہ حکومت ان معاملات کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل کر لے۔ سعودی عرب کی قیادت میں 35 ملکی فوجی اتحاد میں ہماری شمولیت اہم واقعہ ہے جس سے دہشت گردی اور انتہاءپسندی کے خاتمے کیلئے ہمارے عزم کا اظہار ہوتا ہے کیونکہ انتہاءپسندی کے قلع قمع کیلئے اس اتحاد کا قیام بہت اہم ہے۔ وسط ایشیائی اور دیگر ہمسایہ ریاستوں کے ساتھ پاکستان کے پرجوش قریبی تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز ہو چکا ہے جو آنے والے برسوں میں سیاسی و اقتصادی ہی نہیں بلکہ ثقافتی و سماجی شعبوں تک بھی وسیع ہو جائیں گے۔ ان دوست اور برادر ملکوں کے ساتھ ہمارے تعلقات خطے میں تعاون اور ترقی کے ایک نئے شاندار دور کی نوید ثابت ہوں گے۔ انہی پرخلوص دوستوں کے تعاون سے پاکستان نے شنگھائی تعاون تنظیم کی رکنیت حاصل کی جس سے روسی فیڈریشن کے ساتھ ہمارے تعلقات کو ایک نئی جہت ملی۔ حال ہی میں دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی تعاون کا سمجھوتہ بھی ہوا ہے۔ تعاون کے ایک اور معاہدے کے تحت اچی سے لاہور تک گیس پائپ لائن بچھانے کیلئے دو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے جو دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتے ہوئے خوشگوار تعلقات کا مظہر ہے۔ برادر مسلم ممالک تاجکستان اور ترکمانستان کے صدور نے گزشتہ برس پاکستان کے دورے کئے جن میں تاریخ ساز معاہدے ہوئے۔ حال ہی میں کاسا ایک ہزار منصوبے کا آغاز ہوا ہے اسی طرح تاپی گیس پائپ لائن منصوبے کا افتتاح بھی ہوا ہے۔ اس ضمن میں یہ ایک اہم پیش رفت ہے جن سے ہمیں اپنی توانائی کی ضروریات کی تکمیل کیساتھ ساتھ علاقائی روابط، امن و استحکام اور خوشحالی کے فروغ میں بھی مدد ملے گی۔ میں سمجھتا ہوں کہ وسط ایشیائی ممالک کے ساتھ تعلقات کا یہ نیا دور تاریخ کا ایک اہم سنگ میل بن جائے گا۔
اسی خطے کے ایک اور اہم ملک بیلاروس کے ساتھ ہمارے تعلقات فروغ پذیر ہیں۔ بیلاروس کے صدر اور وزیراعظم نے یکے بعد دیگرے پاکستان کے دورے کئے اور مجھے خوشی ہے کہ اس گرمجوشی کا جواب گرمجوشی کے ساتھ دیا گیا۔ دونوں ممالک کے درمیان باہمی روابط کے نہایت مفید نتائج سامنے آئے ہیں۔ اس سے قبل میں نے آذربائیجان کا دورہ کیا جس سے دونوں برادر ملکوں کے درمیان مزید قربت پیدا ہوئی اور تعاون کے کئی سمجھوتے بھی عمل میں آئے۔ گزشتہ برسوں کے دوران یورپی یونین اور اس کے رکن ممالک کے ساتھ ہمارے تعلقات میں مزید وسعت آئی ہے۔ یورپی یونین میں پاکستان کو جی ایس پی پلس کا درجہ حاصل ہے جس سے ہماری برآمدات میں اضافہ ہوا ہے۔ برطانیہ کے ساتھ سٹریٹجک مذاکرات میں مزید موضوعات کو شامل کر لیا گیا ہے جو دونوں ملکوں کے بڑھتے ہوئے تعلقات کا مظہر ہے۔ امریکہ کیساتھ ہمارے تعلقات دیرینہ اور تاریخی ہیں۔ ان تعلقات میں سٹریٹجک ڈائیلاگ کے ذریعے مزید گہرائی پیدا ہو رہی ہے۔ بات چیت کے ایجنڈے میں معیشت، توانائی، تعلیم، سلامتی، سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے بھی شامل کر لئے گئے ہیں جبکہ باہمی تحفظات کے خاتمے اور تعاون میں اضافے کے امکانات پر بھی مذاکرات جاری ہیں جو باہمی تعاون میں اضافے کا ذریعہ بنیں گے۔
پاکستان نیوکلیئر سیکیورٹی پر سختی سے یقین رکھتا ہے اور وہ اس معاملے میں عالمی برادری کو بھی متحرک کرنے کی سنجیدہ کوششوں میں مصروف ہے۔ پاکستان نے اپنے ایٹمی تنصیبات کو محفوظ بنانے کیلئے انتہائی جدید انتظامات کر رکھے ہیں جن کے سبب کسی بھی نوعیت کے کسی حادثے کا کوئی خدشہ نہیں ہے۔ ہمارے انتظامات کے بہترین معیار کا اعتراف حاصل ہی میں واشنگٹن میں ہونے والی نیوکلیئر سمٹ میں بھی کیا گیا جو ہمارے لئے باعث فخر ہے۔ دنیا میں امن ترقی اور خطے میں علاقائی تعاون کے فروغ کیلئے پاکستان نے انتہائی سرگرم اور فعال تعاون ادا کیا ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان اسلامی تعاون تنظیم او آئی سی، اقتصادی تعاون تنظیم، سارک، ڈی ایٹ تنظیم اور ایشیائی تعاون ڈائیلاگ میں متحرک کردار ادا کر رہا ہے جو اس بات کا مظہر ہے کہ پاکستان خطے کے عوام کی ترقی اور خوشحالی کیلئے ہمہ وقت تعاون پر تیار رہتا ہے۔ یہ امر باعث مسرت ہے کہ آئندہ سارک سربراہ کانفرنس اسی سال نومبر میں پاکستان میں ہو گی۔ ہم توقع رکھتے ہیں کہ سارک قیادت کا یہ اجتماع خطے میں مزید ہم آہنگی اور تعاون کے فروغ کا ذریعہ بنے گا۔
صدر مملکت نے کہا کہ کامیاب خارجہ تعلقات کی بنیاد قوم کا اتحاد، یکجہتی، انداز زیست، آنے والی نسلوں کی تربیت اور اٹھان پر رکھی جاتی ہے۔ اگر ہم زندگی کے ان پہلوﺅں پر توجہ دے کر کچھ معاملات کو مزید بہتر بنا لیں تو میں سمجھتا ہوں کہ عالمی برادری میں ہمارے وقار میں مزید اضافہ ہو گا۔میں محسوس کرتا ہوں کہ ہم اپنی قومی زندگی میں ربط ملت یعنی اتحاد و تنظیم کے معاملے میں کسی قدر لاپرواہی کا شکار ہو رہے ہیں۔ اس سلسلے میں بعض اوقات انفرادی زندگی سے لے کر اہم قومی اور حساس معاملات تک بہت تکلیف دہ مناظر دیکھنے میں آتے ہیں جو ایک غیر مناسب رجحان ہے۔ مسلمان معاشرے میں خواتین کے احترام کی روایت غیر متنازع اور مسلمہ قدر کی حیثیت رکھتی ہے لیکن گزشتہ کچھ عرصے سے ہم بعض پریشان کن واقعات کا مشاہدہ کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ اس ناپسندیدہ صورتحال کا خاتمہ فوری طور پر ہونا چاہئے۔ اس معاملے کو سیاست سے زیادہ دینی، اخلاقی اور تہذیبی مسئلہ سمجھنا چاہئے، لہٰذا اس کے حل کیلئے ہمیں سیاست سے بالاتر ہو کر انہی عوامل کو پیش نظر رکھنا ہو گا۔ خواتین معاشرے کا ایک قابل قدر حصہ ہیں جنہیں قومی دھارے میں شریک کئے بغیر ترقی کا حصول ممکن نہیں ہے اس لئے انہیں خودمختار بنانے کیلئے ریاست نے کئی موثر اقدامات کئے ہیں جن میں قانون سازی بھی شامل ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ قومی ترقی کی رفتار کو تیز کرنے کیلئے خواتین کو ورک فورس کا حصہ بنایا جائے اور پرائمری تعلیم کا شعبہ مکمل طور پر ان کے سپرد کر دیا جائے۔
قائد اعظم ایک ایسے نظام تعلیم کی تشکیل کے خواہشمند تھے جن کے ذریعے ہمارے بچے اپنے تاریخ و تہذیب اور جدید دنیا سے مطابقت پیدا کر کے اقوام عالم میں پاکستان کا نام روشن کر سکیں۔ اٹھارہویں ترمیم کے تحت تعلیم کا معاملہ اگرچہ صوبوں کے سپرد ہے لیکن مشترکہ قومی مقاصد اور مسلمہ ملی و دینی اقدار کی ترویج کیلئے پاکستان کے تمام صوبوں و علاقہ جات میں تعلیمی نظام میں یکسانیت بہرحال ہونی چاہئے۔ میں نے وزیراعظم کی توجہ اس جانب مبذول کرائی تھی جس پر وفاقی وزارت تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت کام کر رہی ہے اور مجھے امید ہے کہ ان کی کوششوں کے خاطر خواہ نتائج جلد برآمد ہوں گے جس سے علمی و تہذیبی قدروں کی آبیاری ہو گی، ایک دوسرے کے احترام کی روایت مضبوط ہو گی اور قانون کی پاسداری کی عادت پختہ ہو گی۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ کوئی قوم عالمی برادری میں اس وقت تک اپنا مثبت نقش قائم نہیں کر سکتی جب تک اس قوم کا ہر چھوٹا بڑا قانون کی حکمرانی پر یقین نہ رکھے۔ قوموں کے کردار میں یہ خوبی اچھی تعلیمی تربیت سے ہی پیدا ہوتی ہے۔ ملک کی ذمہ دار موثر شخصیات اور طبقات کے مثالی طرز عمل سے بھی اسے فروغ ملتا ہے۔ جو قومیں قانون کے احترام اور نظم و ضبط کی پابندی کا سبق سیکھ لیتی ہیں ان کی ترقی و سربلندی کا راستہ ہموار ہو جاتا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جس قوم کی زندگی میں قانون کی اہمیت کم ہو جاتی ہے وہ قوم خودداری سے محروم ہو جاتی ہے اور اپنے وطن کی احساس ملکیت سے عاری ہو جاتی ہے اور جو قومیں نظم و ضبط اور قانون کے احترام کی روایت کو زندگی کا حصہ بنا لیتی ہیں ان کے کارناموں سے دنیا دنگ رہ جاتی ہے۔ پاکستانی قوم نے اپنی مختصر تاریخ میں بڑے بڑے کارنامے انجام دیئے ہیں۔ دنیا بھی ہمارے ان کارناموں کا اعتراف کرتی ہے لیکن میں دیکھتا ہوں کہ قانون کے احترام کے معاملے میں ہم اکثر لاپرواہی کا مظاہرہ کر جاتے ہیں۔ میں توقع رکھتا ہوں کہ حکومت، حزب اختلاف اور سیاسی جماعتیں ہی نہیں، معاشرے کے تمام طبقات بھی قومی فریضہ سمجھتے ہوئے اس معاملے میں اپنا کردار ادا کریں گے تاکہ قوموں کی برادری میں پاکستانی قوم کی عزت و توقیر میں اضافہ ہو اور ترقی و استحکام کی منزلیں زیادہ آسانی اور تیز رفتاری سے طے کر سکیں۔
قومی ترقی میں زراعت کا حصہ بہت زیادہ ہے اور ہمارے محنت کش کسان بڑی محنت سے ملک کی غذائی ضروریات پوری کرتے ہیں لیکن دنیا جب سے موسمیاتی تبدیلیوں کی زد میں آئی ہے اس سے ہمارا کسان بھی متاثر ہوا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ ہمارے زرعی اور موسمیاتی سائنسدان اپنی تحقیق اور عالمی رجحانات کی روشنی میں کسانوں کی رہنمائی کریں تاکہ ہمارا زرعی شعبہ ان تبدیلیوں سے کم سے کم متاثر ہو۔ اسی طرح حکومت کو بھی چاہئے کہ وہ اس شعبے کی اہمیت کے پیش نظر کسانوں اور کاشتکاروں کے مسائل کے تدارک کیلئے مناسب اقدامات کا سلسلہ جاری رکھے۔ قومی ترقی کے سفر کو تیز رفتار بنانے اور اب تک حاصل کئے گئے معاشی اہداف کو ضائع ہونے سے بچانے کیلئے آبادی کی منصوبہ بندی ناگزیر ہے تاکہ زندگی کے مختلف شعبوں میں ترقی کیلئے موثر منصوبہ بندی کی جا سکے۔ آبادی کے درست اعداد و شمار اور پاپولیشن پلاننگ میں کمزوری مسائل میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ متعلقہ شعبے اس اہم معاملے پر بھی بھرپور توجہ دیں تاکہ ہماری ترقی کے راستے میں اس طرح کی کوئی بھی رکاوٹ حائل نہ ہو سکے۔ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کی اٹھان بڑی شاندارز تھی، اقوام عالم توقع کر رہی تھی کہ یہ ملک ایک چمکتے ہوئے ستارے کی طرح نمایاں ہو گا لیکن بعض وجوہات کے سبب ہم بدقسمتی کا شکار ہوئے اور اپنی منزل سے دور ہو گئے۔ آزمائش کے ان زمانوں میں قانون شکنی کی عادات بد رنگ لائیں اور معاشرے میں بدعنوانی جڑ پکڑ گئی۔ بدعنوانی کے مکروہ دھندے نے قومی ترقی کی راہیں مسدود کر دیں۔ مجھے خوشی ہے کہ اب اس گھناﺅنے معاشرتی اور قومی جرم کے خلاف بیزاری پائی جاتی ہے اور معاشرے کا ہر طبقہ اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا آرزو مند ہے۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ ہم بحیثیت قوم اپنے اس عزم میں سرخرو ہوں گے اور پاکستانی سماج بدعنوانی کا قلع قمع کر کے ترقی و سربلندی کے راستے پر گامزن ہو گا۔
سورة بقرہ میں ارشاد ہوا ہے کہ ”اللہ جسے چاہے اپنی رحمت کیلئے چن لیتا ہے اور وہ بڑا فضل فرمانے والا ہے“۔ دنیا ، خطے کے حالات اور پاکستان میں رونما ہونے والی تبدیلیاں میری نظر میں ہیں اور میں پاکستان کے افق پر ترقی، سربلندی اور امن و استحکام کا ایک نیا سورج طلوع ہوتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔ قدرت ہم پر مہربان ہے اور وطن عزیز کی ترقی و خوشحالی کے نئے امکانات پیدا ہو رہے ہیں جس میں پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ نمایاں ترین ہے۔ اس لئے میں اپنے ہم وطنوں سے کہوں گا کہ مایوسی کو اپنے قریب نہ پھٹکنے دیں۔ ایک نئے جوش اور جذبے کے ساتھ ملک کی ترقی و خوشحالی میں اپنے حصے کی ذمہ داری پوری کریں۔ اپنی صفوں میں کوئی دراڑ نہ پڑنے دیں اور آنے والے دور کے تقاضوں پر پورا اترنے کیلئے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر سخت محنت کریں تاکہ ہم خود کو اس انتخاب کا اہل ثابت کر سکیں۔ ہمیں اپنا جائز مقام ضرور ملے گا، جلد ملے گا انشاءاللہ۔