- الإعلانات -

بجٹ سے قبل گزشتہ تین دہائیوں کے دوران اہداف کا جائزہ لینا اہم ہے،اسد عمر

لاہور  پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما و رکن قومی اسمبلی اسد عمر نے کہا ہے کہ بجٹ سے قبل گزشتہ تین دہائیوں کے دوران (ن)لیگ اور پیپلز پارٹی کی ادوار میں ترقی کے اہداف کا جائزہ اہم ہے،تین دہائیاں قبل پاکستان میں فی کس آمدن بنگلہ دیش سے 80فیصد بلند تھی آج فی کس آمدن کے درمیان فرق 30فیصد سے بھی کم رہ چکا ہے،بنگلہ دیش اور پاکستان میں ہونے والی سرمایہ کاری سے دونوں ممالک میں ترقی کے مستقبل کا اندازہ لگانا مشکل نہیں،بنگلہ دیش میں سرمایہ کاری کی اوسطا شرح 28فیصد جبکہ پاکستان میں محض 15فیصد ہے ،دستیاب اعداد و شمار کی بنیاد پر یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ آئندہ کئی برسوں تک بنگلہ دیشی معیشت پاکستان سے کہیں تیزی سے ترقی کرے گا۔ اپنے ایک بیان میں اسد عمر نے کہا کہ بجٹ سے قبل گزشتہ تین دھائیوں کے دوران نون لیگ اور پیپلز پارٹی کی ادوار میں ترقی کے اہداف کا جائزہ اہم ہے،پچھلے تیس برس میں فی کس آمدن جو کہ بھارت اور چین سے زیادہ تھی دونوں ممالک سے گر چکی ہے۔تین دہائیاں قبل پاکستان میں فی کس آمدن بنگلہ دیش سے 80فیصد بلند تھی جبکہ آج پاکستان اور بنگلہ دیش کی فی کس آمدن کے درمیان فرق 30فیصد سے بھی کم رہ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جنم لینے والے بچے کی موت کے امکانات بنگلہ دیش میں پیدا ہونے والے بچے سے دوگنا زیادہ ہیں۔1990ء سے 2015ء کے دوران بنگلہ دیش میں نوزائیدہ بچوں کی فی ہزار شرح اموات 100سے گھٹ کر 31ہوئی۔ اسی طرح پانچ برس سے کم عمر بچوں کی شرح اموات 144سے کم ہو کر 38رہ گئی ۔اسی عرصے کے دوران پاکستان میں نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات 106سے 66جبکہ پانچ برس سے کم عمر بچوں میں یہ شرح 139سے 81ہوئی۔ اسد عمر نے کہا کہ تعلیم کا حال دیکھیں تو بنگلہ دیش میں ثانوی سطح پر داخلوں کی شرح 53جبکہ پاکستان میں محض 41فیصد ہے۔بنگلہ دیش میں بالغ شہریوں اور نوجوانوں میں شرح خواندگی بالترتیب 59اور 81فیصد جبکہ پاکستان میں 56اور 72فیصد ہے ۔بنگلہ دیش اور پاکستان میں ہونے والی سرمایہ کاری سے دونوں ممالک میں ترقی کے مستقبل کا اندازہ لگانا مشکل نہیں،بنگلہ دیش میں سرمایہ کاری کی اوسطا شرح 28فیصد جبکہ پاکستان میں محض 15فیصد ہے۔دستیاب اعداد و شمار کی بنیاد پر یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ آئندہ کئی برسوں تک بنگلہ دیشی معیشت پاکستان سے کہیں تیزی سے ترقی کرے گا۔