- الإعلانات -

ایم کیو ایم نے کراچی میں پیپلز پارٹی اوا پی ٹی آئی کی ضمانتیں ضبط کروا دیں

کراچی جمعرات کو سندھ اسمبلی کی تین نشستوں پر ضمنی الیکشن ہوئے ۔ کراچی کی دونوں نشستوں پی ایس 106اور پی ایس 117پر ایم کیو ایم کے امیدوار بھاری اکثریت سے کامیاب ہوگئے ۔ اس طرح متحدہ نے اپنی دونوں نشستیں دوبارہ حاصل کر لیں ۔ یہ نشستیں ایم کیو ایم کے ارکان اسمبلی ڈاکٹر صغیر اور افتخار عالم کے پاک سرزمین پارٹی میں جانے اور استعفے دینے کے بعد خالی ہوئی تھیں۔ ذرائع  کے مطابق پی ایس 117کراچی میں ایم کیو ایم کے قمر عباس رضوی 11375 ووٹ لیکر کامیاب ہو گئے ۔پیپلز پارٹی کے جاوید مقبول 1314ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔پی ٹی آئی کے رفاقت عمر کو 715ووٹ ملے۔ اس طرح ایم کیو ایم کے امیدوار نے تمام دوسرے امیدواروں کی ضمانتیں ضبط کروا دیں۔ اس الیکشن میں ٹرن آوٹ صرف چھ فیصد رہا۔ ووٹروں نے اس ضمنی الیکشن میں کوئی دلچسپی نہ دکھائی۔پی ایس 106میں ایم کیو ایم کے محفوظ یار خان نے میدان مار لیا۔انہوں نے 18150ووٹ حاصل کئے۔ پی ٹی آئی کی نصرت انوار 1100ووٹ حاصل کرکے دوسرے نمبر پر رہیں۔اس حلقے میں بھی ٹرن آوٹ 10 فیصد کے قریب رہا ۔پی ایس 22 نوشہرو فیروز میں پیپلز پارٹی کے ڈاکٹر عبدالستار راجپر نے کامیابی حاصل کی۔عبدالستار راجپر نے 34275 ووٹ حاصل کئے۔ان کے مقابلے میں ن لیگ کے عارف مصطفےٰ جتوئی نے 23546ووٹ حاصل کئے۔ عارف مصطفےٰ جتوئی اس سے پہلے نیشنل پیپلز پارٹی کی ٹکٹ پر یہاں سے جیتے تھے۔ اس بار ان کو مسلم لیگ ن نے ٹکٹ دیا تھا لیکن وہ شکست کھا گئے۔ ضمنی الیکشن کے موقع پر سکیورٹی کے انتہائی سخت اقدامات کئے گئے تھے، پولنگ سٹیشنوں پر پالیس اور رینجرز کو تعینات کیا گیا تھا جس کی وجہ سے کوئی نا خوشگوار واقعہ پیش نہ آیا۔نتائج کے بعد پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے نوشہرو فیروز میں جشن منایا اور ریلی نکالی۔ اس موقع پر جیالوں نے  ہوائی فائرنگ بھی کی اور جئے بھٹو جئے بے نظیر کے نعرے لگاتے رہے۔