- الإعلانات -

دہشتگردوں کے کمر توڑ 60 سال کے ہو گئے،ہیپی برتھ ڈے

لاہور  پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کی آج سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ تفصیلات کے مطابق راحیل شریف 16 جون انیس سو چھپن کو کوئٹہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد میجرمحمد شریف اس وقت وہاں تعینات تھے۔ راحیل شریف کے بڑے بھائی میجر شبیر انیس سو اکہتر کی پاک بھارت جنگ میں شہید ہوئے اور انہیں پاکستان کے سب سے بڑے فوجی اعزاز نشان حیدر سے نوازا گیا۔جنرل راحیل شریف انیس سو پینسٹھ کی جنگ کے ہیرو میجر عزیز بھٹی شہید کے بھانجے ہیں۔ جنرل راحیل تین بھائیوں اور دوبہنوں میں سب سے چھوٹے ہیں جب کہ ان کے دو صاحبزادے اورایک صاحبزادی ہے۔ جنرل راحیل شریف گورنمنٹ کالج لاہور سے تعلیم حاصل کرنے بعد پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں داخل ہوئے اور انیس سو چھہتر میں گریجویشن کے بعد انہوں نے فرنٹیئر فورس رجمنٹ کی چھٹی بٹالین میں کمیشن حاصل کیا۔وزیراعظم نواز شریف نے جنرل راحیل شریف کو گزشتہ سال ستائیس نومبر کو چیف آف آرمی اسٹاف مقرر کیا اور انہوں نے انتیس نومبر کو پاک فوج کی کمان سنبھالی۔ راحیل شریف پاک فوج کا سربراہ بننے سے قبل انسپکٹر جنرل ٹریننگ کے عہدے پر فائز تھے۔ اس کے علاوہ وہ کور کمانڈر گوجرانوالہ اور پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول کے کمانڈنٹ کے عہدوں پر بھی کام کر چکے ہیں۔ جنرل راحیل شریف کو بیس دسمبر دو ہزار تیرہ کو نشان امتیاز ملٹری سے نوازا گیا۔جنرل راحیل شریف نے فوج کی کمان سنبھالی تو انہیں کئی چیلنجز درپیش تھے جن میں سب سے بڑا چیلنج ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ تھا۔ جنرل راحیل شریف نے ملکی سیاسی قیادت اور قوم کی حمایت سے بھرپور ایکشن کا فیصلہ کیا۔دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے آپریشن ضرب عضب شروع کیا گیا جس سے ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں خاطرخواہ کمی آئی ہے اور دہشت گردوں کا کمانڈ اینڈ کنٹرول اسٹرکچر تباہ ہو چکا ہے۔ بچے کھچے دہشت گردوں کے صفایا کیلئے انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔