- الإعلانات -

زراعت ترقی کرے گی تو خوشحالی آئے گی،اسحاق ڈار

اسلام آباد  وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے سرکاری ملازمین کی بنیادی تنخواہوں میں 3ایڈہاک الاؤنسز ضم کرکے10فیصد اضافے، ٹریکٹروں پر سیلز ٹیکس کی شرح 10فیصد سے کم کرکے 5فیصد کرنے،ہارویسٹر اورلیزر لینڈ رولر پردرآمدی ڈیوٹی، زرعی ادویات پر سیلز ٹیکس ختم کرنے اور یوریا کھاد پر سیلز ٹیکس 17فیصد سے کم کر کے5فیصد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈیری کے شعبے میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کیلئے سیلز ٹیکس 17فیصد سے کم کر کے 5فیصد کر رہے ہیں، صوبوں کے ساتھ مل کر جلد از جلد نئے این ایف سی ایوارڈ کا اعلان کیا جائے گا، بجٹ میں سینیٹ کی طرف سے مجموعی طور پر 139تجاویز موصول ہوئیں، جن میں سے 86تجاویز کو کمی یا جزی طور پر منظور کرلیا گیا ہے۔ بجٹ کے دوران قائمہ کمیٹیوں کا کردار قابل تعریف رہا، دونوں ایوانوں کی مثبت تجاویز کے مطابق بجٹ پر نظرثانی کریں گے، ہر معاملے میں قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کی روایت پر گامزن ہیں۔ وہ جمعہ کو قومی اسمبلی اجلاس میں بجٹ پر بحث سمیٹ رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل کے معاشی روڈ میپ کیلئے اپوزیشن تجاویز پیش کرے، افراط زر کی موجودہ شرح 3فیصد سے کم اور قیمتوں میں استحکام ہے، 3سال کے دوران افراط زر کی شرح 8.2 سے کم کر کے 4.2فیصد پر لے آئے ہیں، کسانوں کی خوشحالی کیلئے بجٹ میں مزید مراعات کی تجویز دی ہے، بجٹ سے متعلق اعداد و شمار پیش کر کے شکوک و شبہات پیدا کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ارکان اسمبلی حقائق کو انفرادی طور پر دیکھیں، پاکستانی شماریات بیورو جیسا آزاد ادارہ قائم کیا گیا، بے وقت بارشوں سے کپاس کی فصل کو نقصان پہنچا ہے، ترقی کا سفر جاری رکھیں گے، معیشت مزید تیز رفتاری سے ترقی کرے گی۔<br/> اسحاق ڈار نے کہا کہ صوبوں میں تفریق نہیں کرتے، پورا پاکستان ہمارے لئے برابر ہے، گوادر میں شاہراہوں کو تیزی سے تکمیل کی طرف لے جا رہے ہیں، گلگت بلتستان میں بھی سڑکوں کی تعمیر کا کام کیا جا رہا ہے، حکومت نے براہ راست ٹیکسوں پر خصوصی توجہ دی، اس مرتبہ زیادہ تر بجٹ تجاویز زیادہ تر براہ راست ٹیکس سے متعلق ہیں، نان فائلرز کیلئے ٹیکسز کو مہنگا بنایا جا رہا ہے، کوشش ہے کہ روزمرہ استعمال کی اشیاء ٹیکس سے مستثنیٰ رہیں، پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس کی شرح مارچ 2013سے ہی کم ہے، پرویز مشرف کے دور میں قرضوں میں تقریباً 100فیصد اضافہ ہوا، 1999 میں پاکستان پر مجموعی قرضہ 2946 ارب روپے تھا،2008ء میں یہ قرضہ 5800 ارب اور 2013 میں 14318 ارب روپے ہو گیا، گزشتہ 14سال میں بڑھنے والے قرضوں کا جواب مشرف اور پیپلز پارٹی کو دینا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ 2013 میں سٹیٹ بینک کے پاس صرف 2ارب ڈالر کا زرمبادلہ تھا،2016 میں سٹیٹ بینک کے پاس 60کروڑزرمبادلہ کے ذخائر ہیں،3 سال میں زر مبادلہ کے ذخائر میں 13ارب 80 کروڑ روپے کا اضافہ وہا، 2013 میں ترقیاتی بجٹ 348 ارب روپے تھا جو اب 800 ارب تک پہنچ گیا ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اخراجات کے باوجود خسارہ 4.3 فیصد ہے، گزشتہ دور میں قرضوں میں 400 فیصد اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے چھوٹے کسانوں کو تاریخی کسان پیکج دیا، کسان پیکج کے تحت چھوٹے کاشتکاروں کو امداد فراہم کی گئی، حکومت نے زرعی مشینری پر ڈیوٹی کم کی، کسان کی پیداواری لاگت کم کرنے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں، یوریا کھادکی قیمت 2200 سے کم کر کے 1800 روپے فی بوری پر لائے ہیں، موجودہ بجٹ کے ذریعے ڈی اے پی میں مزید 300 روپے کم کئے،زرعی مشینری پر ماضی کی 43فیصد ڈیوٹی کے برعکس 9 فیصد پر لائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زراعت ترقی کرے گی تو خوشحالی آئے گی اور معیشت ترقی کرے گی، دیامر بھاشا ڈیم کے لئے 32 ارب روپے رکھے گئے ہیں، متبادل ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر بھی کام جاری ہے، فاٹا میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کو فتح مل رہی ہے، آپریشن کے باعث نقل مکانی کرنے والوں کی بحالی کیلئے جامع پروگرام پر کام کر رہے ہیں، نقل مکانی کرنے والوں کی واپسی کا عمل جاری ہے، جس میں تیزی لائی جا رہی ہے، گزشتہ دو سال میں ضری عضب اور نقل مکانی کرنے والوں کیلئے 145 ارب روپے دیئے، مضبوط مالباتی ضوابط ترقی کی ضمانت ہیں، اس حوالے سے ترمیم لا رہے ہیں، ترمیم کے ذریعے آئندہ تین سال میں مالی خسارہ 3.5 فیصد تک لایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آئین حکومت کو اضافی اخراجات کی اجازت دیتا ہے، موجودہ حکومت نے اضافی اخراجات کو محدود کیا ہے، موثر اقدامات کی بدولت ریلوے خسارے میں نمایں کمی آئی، قومی اداروں کی مانیٹرنگ اور کارکردگی کے بارے میں جامع رپورٹ شائع کی ہے۔<br/> سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا کہ اقتصادی راہداری پاکستان ہی نہیں بلکہ خطے کیلئے گیم چینجر ہے، مغربی روٹ پر طے ہونے والے معاملات پر حکومت عملدرآمد کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ این ایف سی کا موجودہ ایوارڈ نئے ایوارڈ تک نافذ العمل رہے گا، صوبوں کے ساتھ مل کر جلد از جلد نئے این ایف سی ایوارڈ کا اعلان کیا جائے گا، فوج ضرب عضب میں مصروف ہے، جس کے باعث مردم شماری میں تاخیر ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ سینیٹ نے بجٹ تجاویز میں بھرپور حصہ لیا، بجٹ کے دوران قائمہ کمیٹیوں کا کردار قابل تعریف رہا، بجٹ 2016-17 میں مزید ترامیم پیش کروں گا، دونوں ایوانوں کی مثبت تجاویز کے مطابق بجٹ پر نظرثانی کریں گے، ہر معاملے میں قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کی روایت پر گامزن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سینیٹ کی طرف سے ہمیں مجموعی طور پر 139تجاویز موصول ہوئیں، 139 میں سے 86 تجاویز کو کلی، یا جزوی طور پر منظر کرلیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹریکٹروں پر سیلز ٹیکس کی شرح 10سے کم کر کے 5فیصد کی جا رہی ہے، ہارویسٹر اور لیزرلینڈ رولر پر درآمدی ڈیوٹی ختم کی جا رہی ہے، زرعی ادویات پر سیلز ٹیکس ختم کیا جا رہا ہے، یوریا کھاد پر سیلز ٹیکس 17 سے کم کر کے 5 فیصد کیا جا رہا ہے، میڈیا ڈیجیٹیلائزیشن کیلئے آلات پر کسٹم ڈیوٹی 35فیصد سے کم کر کے 11فیصد کی جا رہی ہے، ڈیری کے شعبے میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کیلئے سیلز ٹیکس 17فیصد سے 5فیصد کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلح افواج کی نقل و حمل کیلئے چارٹرڈ پروازوں پر ایف ای ڈی ختم کر دی گئی ہے، ٹیکس گزاروں کی سہولت کیلئے ٹیکس قوانین میں تبدیلی کی ہے، سرکاری ملازمین کی بنیادی تنخواہ میں 3 ایڈہاک الاؤنسز ختم کئے جائیں گے، تینوں ایڈہاک بنیادی تنخواہ میں ضم کر کے 10فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے وزیراعظم سے مشاورت کے بعد پارلیمنٹیرینز کی تنخواہوں پر نظرثانی کی بھی یقین دہانی کرائی ہے۔