- الإعلانات -

وزیراعظم رائس ملاقات: ایل اوسی کی صورتحال اور پاک امریکہ تعلقات پر تبادلہ خیال

اسلام آباد: وزیراعظم محمد نواز شریف سے امریکی قومی سلامتی کی مشیر سوزن رائس نے ملاقات کی جس میں خطے کی سلامتی ، لائن آف کنٹرول کی صورتحال اور پاک امریکہ تعلقات سمیت دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق اتوار کی صبح پاکستان کے دورے پر آئی امریکہ کی قومی سلامتی کی مشیر سوزن رائس نے وزیراعظم ہاؤس میں وزیراعظم میاں نواز شریف سے ملاقات کی اور ان سے خطے کی صورتحال اور پاک امریکہ تعلقات سمیت دیگر اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر وزیر خزانہ اسحاق ڈار وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی امور خارجہ سرتاج عزیز‘ معاون خصوصی طارق فاطمی اور سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری‘ امریکی سفیر رچرڈ اولسن اور امریکی قومی سلامتی کے ڈائریکٹر شریک تھے۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں پاک امریکہ تعلقات پر غور اور لائن آف کنٹرول سمیت خطے کی مجموعی سکیورٹی کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقا ت میں وزیراعظم نواز شریف کے اکتوبر کے ا ٓخری ہفتے میں متوقع امریکی دورے کے ایجنڈے پر بھی بات کی گئی۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشن ضرب عضب کی کامیابیوں سے بھی ا ٓگاہ کیا۔ امریکا سے اتحادی سپورٹ فنڈ کی بحالی کی پر بھی بات چیت کی گئی۔ بھارت کی طرف سے ورکنگ باؤنڈری اور کنٹرول لائن پر مسلسل خلاف ورزیوں کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔ خطے میں امن اور سلامتی کے لیے پاکستانی کوششوں سے متعلق بھی امریکی مشیر سلامتی کو آگاہ کیا گیا۔ پاک افغان تعلقات، افغان مصالحتی عمل میں پاکستان کے کردارپر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ۔نجی ٹی وی چینل کے مطابق اس موقع پر وزیراعظم نواز شریف نے بھارتی جارحیت سے متعلق آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں امن چاہتا ہے تاہم بھارت ایل اوسی اور ورکنگ باؤنڈری پرسیز فائر معاہدوں کی خلاف ورزیاں کرکے خطے میں امن کی صورتحال کو خراب کررہا ہے اور اس سے امن کے لئے مزید خطرات پیدا ہورہے ہیں ۔

افغانستان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان مستحکم اور پرامن افغانستان چاہتا ہے اور وہ افغان حکومت اور افغان طالبان کے درمیان مفاہمتی عمل میں ایک سہولت کار کا کردار ادا کررہا ہے اور اس نے افغانستان کو باور کرایا ہے کہ افغانستان کا دشمن پاکستان کا دشمن ہے اور افغانستان میں امن خطے کے مفاد میں ہے ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم نے حالیہ دنوں میں پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں سے متعلق شائع ہونے والی خبروں کی بھی سختی سے تردید کرتے ہوئے ا مریکی سلامتی کی مشیر کے اس حوالے سے خدشات دور کئے اور کہا کہ پاکستان اسلحے کی دوڑ میں شامل نہیں ہونا چاہتا۔ ذرائع کے مطابق سوزن رائس نے آپریشن ضرب میں پاک فوج کی کامیابیوں کی تعریف کرتے ہوئے دہشتگردی کے خلاف جنگ اور افغانستان کے مفاہمتی عمل میں پاکستان کے کردار کو سراہا ۔

انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے حوالے سے کہاکہ دوونوں ممالک کو جامع مذاکرات بحال کرنے چاہئیں اور یہ دونوں ممالک کے ساتھ خطے کے مفاد میں ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ خطے میں قیام امن کیلئے ضروری ہے کہ دونوں ممالک معطل مذاکرات دوبارہ شروع کریں۔ انہوں نے کہاکہ امریکہ خطے میں امن چاہتاہے اور اس کی خواہش ہے کہ دونوں ممالک اپنے باہمی مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کریں ۔ ذرائع کے مطابق اعلیٰ سطحی ملاقات میں پاکستان کی جانب سے دہشتگردی کے خلاف پاکستان کیلئے کولیشن سپورٹ فنڈ کے اجراء پر بھی زور دیاگیا