- الإعلانات -

مذہب کے نام پر خواتین کو دبایا جارہا ہے جسے قطعی طور پر مسترد کرتے ہیں، زرداری

اسلام آباد: سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے مذہب کے نام پر خواتین پر تشدد کو قطعی طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام خواتین کے حقوق پر حملے کی ذہنیت سے لڑنے کے لیے تیار رہیں۔

بینظیر بھٹو کے 63ویں یوم پیدائش کے موقع پر اپنے پیغام میں آصف علی زرداری نے کہا کہ مسلم دنیا کی پہلی براہ راست منتخب ہونے والی خاتون وزیراعظم کی سالگرہ کے موقع پر یہ بات انتہائی تشویشناک ہے کہ مذہب کے نام پر خواتین کو دبایا جارہا ہے اور کچھ لوگ تو خواتین کے خلاف تشدد کی باقاعدہ ترغیب بھی دے رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت خواتین پر تشدد کی مذمت کرتی ہے اور چند جاہلوں کی جانب سے مذہب کے نام پر خواتین پر تشدد کو قطعی طور پر مسترد کرتی ہے۔

آصف علی زرداری نے کہا کہ ہم خواتین پر تشدد کی ترغیب دینے والی آوازوں کی مذمت کرتے ہیں اور ان کی جماعت یہ عہد کرتی ہے کہ اس قسم کی ذہنیت رکھنے والوں سے آخری وقت تک لڑتی رہے گی۔

سابق صدر نے عوام سے کہا کہ وہ بینظیر بھٹو کے نقش قدم پر چلتے ہوئے عسکریت پسندوں اور انتہا پسندوں کے سامنے کھڑے ہوجائیں اور طاقت کے زور پر انہیں ان کے نظریات عوام پر مسلط کرنے کی اجازت نہ دیں۔

بینظیر بھٹو کے لیاقت باغ راولپنڈی میں آخری الفاظ یاد دلاتے ہوئے آصف علی زرداری نے کہا کہ عوام کو بھی انتہا پسندی اور آمریت کے خلاف کھڑے ہوجانا چاہیے اور ملک سے غربت اور جہالت کا خاتمہ کرنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘یہی وہ الفاظ ہیں جو پاکستان کو ایک جدید اور ہمہ جہت ریاست بنانے کے لیے روڈ میپ کا کام دیتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ کہ پیپلز پارٹی عسکریت پسندوں کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھے گی اور جمہوریت کے دشمن اور اسٹیٹس کو کی قوتوں سے لڑ کر جمہوریت کو مستحکم کرے گی۔