- الإعلانات -

خیبر پختونخوا اسمبلی میں پی ٹی آئی کے ارکان آپس میں لڑ پڑے

پشاور   پاکستان تحریک انصاف کے صوابی سے تعلق رکھنے والے رکن صوبائی اسمبلی بابر سلیم اور سینئر صوبائی وزیر شہرام ترکئی کے درمیان اسمبلی کے اجلاس کے دوران جھگڑا ہوا اور بات ہاتھا پائی تک جاپہنچی جبکہ ارکان نے اسمبلی میں رشتہ داریاں بھی خوب نبھائیں اور اپنے رشتے داروں کی طرف داری کرتے نظر آئے۔
ذرائع  کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی میں بجٹ کے حوالے سے بحث جاری تھی اور آج کٹوتی کی تحریکیں پیش کرنے کا دن تھا۔ اس دوران بابر سلیم نے سینئر وزیر شہرام ترکئی کو طعنہ مارا اور انہیں 420 کہا ۔ بابر سلیم کی جانب سے 420 کہنے کی دیر تھی کہ پرانی رقابتیں امڈ آئیں اور دونوں معزز ارکان اسمبلی کے اندر ہی بازاری زبان استعمال کرنے لگے اور ایک دوسرے کو گالیوں سے نوازنا شروع کردیا۔
اس دوران گالیوں سے بات ہاتھا پائی تک جاپہنچی تاہم کچھ دیگر ارکان نے بیچ بچاؤکرادیا۔ دوسری طرف اسمبلی کے اجلاس کے دوران ہونے والی لڑائی کے دوران معزز ارکان نے رشتہ داریاں بھی خوب نبھائیں اور ایک دوسرے کی مدد کو دوڑے دوڑے آئے ۔ شہرام ترکئی کے رشتہ دار عاطف خان نے بابر سلیم پر حملہ کردیا جبکہ  خیبر پختونخوا اسمبلی کے ہی رکن اسمبلی محمد علی ترکئی کی سینئر وزیر اور لڑائی کے فریق شہرام ترکئی کے ساتھ رشتہ داری ہے جس پر وہ بھی لڑائی میں فریق بن گئے اور بابر سلیم کو للکارتے رہے ۔
واضح رہے کہ شہرام ترکئی اور بابر سلیم کا تعلق ضلع صوابی سے ہے اور دونوں کی علاقائی سطح پر سخت سیاسی مخالفت ہے جس کی وجہ سے ان دونوں میں اکثر ماحول گرم نظر آتا ہے۔