- الإعلانات -

زینت قتل کیس ، ماں نے اعتراف جرم کر لیا

لاہور محبت کی شادی کی پاداش میں جلائی جانے والی 17سالہ لڑکی زینت کے کیس میں گرفتار مقتولہ کی ماں اور بہنوئی کی انسداددہشت گردی کی عدالت پیشی،ملزمہ پروین بی بی نے ایک بار پھر عدالت میں اعتراف جرم کرلیا،ملزمہ کا کہنا ہے کہ بیٹی نے گھر کی عزت کو اچھالا تو غصہ آ گیا اور مٹی کا تیل ڈال کر جلا دیا جرم جذبات میں سرزد ہوا ،عدالت رحم کا معاملہ کرے، عدالت نے ملزمان کے جسمانی ریمانڈمیں 4 روز کی توسیع کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی ۔ زینت کو زندہ جلانے کاواقعہ فیکٹری ایریاتھانے کی حدودمیں مست اقبال روڈ پر پیش آیاجس کامقدمہ مقتولہ کے شوہر حسن کی مدعیت میں پولیس نے درج کررکھا ہے ،پولیس نے ظلم کا شکار بننے والی لڑکی کی ماں پروین بی بی اور بہنوئی ظفراقبال کا 5 روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر انہیں عدالت میں پیش کیااورمزیدجسمانی ریمانڈکی استدعاکی جبکہ ملزمہ پروین بی بی نے عدالت میں اپنے جرم کا ایک بار پھر اعتراف کرتے ہوئے کہاکہ بیٹی نے گھر کی عزت کو اچھالا تو غصہ آ گیا اور مٹی کا تیل ڈال کر جلا دیا جرم جزبات میں سرزد ہوا ،عدالت رحم کا معاملہ کرے، پروین بی بی کا کہنا تھا جلانے کے لئے پٹرول استعمال نہیں کیا اس کا بیٹا انیس اور داماد ظفر اقبال کا قتل سے کوئی تعلق نہیں اس اکیلی نے زینت کو قتل کیا جبکہ پولیس کی جانب سے عدالت سے استدعا کی گئی کہ تفتیش ابھی جاری ہے ملزمان کے جسمانی ریمانڈ توسیع کی جائے انسداددہشت گردی کی عدالت کے جج چودھری محمدالیاس نے ملزمان کے ریمانڈمیں مزید4روزکی توسیع کردی تاہم آج 22جون کو جسمانی ریمانڈ ختم ہونے پر مزید ریمانڈ کے لئے مقتولہ کے بھائی انیس کو عدالت میں پیش کا جائے گا۔