- الإعلانات -

امریکہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر قدغن لگانا چاہتا ہے.سرتاج عزیز

اسلام آباد  امریکہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر قدغن لگانا چاہتا ہے جسے پاکستان نے مسترد کر دیا ہے۔ سرتاج عزیز نے قدغن کی تصدیق کردی تاہم وضاحت نہیں کی،مقامی اخبار  کے مطابق یہ معاملہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان سیاسی و سفارتی اور عسکری سطح پر ہونے والے تمام مذاکرات کا اہم موضوع رہا ہے۔ اس ذریعہ کے مطابق امریکہ نہ صرف ایٹمی پروگرام بلکہ پاکستان کے میزائل پروگرام کے بعض حصے روکنے پر دباؤ ڈال رہاہے ۔

امریکہ کی خواہش ہے کہ پاکستان چھوٹے ایٹمی ہتھیاروں’’ ٹیکٹیکل نیوکلیئر ویپنز‘‘ کی تیاری روک دے۔اس خواہش کے پس پردہ بظاہر یہ خدشات ہیں کہ چھوٹے ایٹمی ہتھیار،میدان جنگ میں نصب کئے جاتے ہیں اور مقامی فوجی کمانڈروں کی صوابدید پر ہوتے ہیں جس کے باعث ایسے ایٹمی ہتھیاروں کی سلامتی مشکوک ہو جاتی ہے۔

ذرائع  کے مطابق امریکہ کا دوسرا مطالبہ یہ ہے کہ پاکستان پلوٹونئیم کی پیداوار کی مقدار اور رفتار کم کر دے۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے  کہ ایٹمی ہتھیاروں میں یورینئم کی بھاری مقدار جبکہ پلوٹونیم کی بہت کم مقدار استعمال ہوتی ہے۔ پلوٹونئیم کی پیدوار کم کرنے کا مطلب ایٹمی توازن کو بھارت کے حق میں کر ناہے ۔

تیسرا امریکی مطالبہ یہ ہے کہ پاکستان ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال ہونے والے مواد یعنی افزودہ یورینئم اور پلوٹونئیم دونوں کی پیداوار کم کرے اور افزودہ مواد کی روک تھام کے زیر غور عالمی معاہدے ’’ایف ایم سی ٹی‘‘ کی مخالفت ترک کر دے۔

رپورٹ کے مطابق  ’کانفرنس آن ڈس آرمامنٹ‘ کے پلیٹ فارم سے اس معاہدہ پر غور ہو رہا ہے لیکن پاکستان کا مطالبہ ہے کہ افزودہ مواد پر پابندی آئندہ سے عائد نہ کی جائے بلکہ اس مواد کے موجودہ ذخائر کو بھی معاہدہ کے تحت لا کر ان کی مقدار کا تعین کیا جائے۔پاکستان پر پہلی مرتبہ دباؤنہیں ڈالا جارہا بلکہ  کلنٹن کی صدارت کے دوران پاکستان پر سی ٹی بی ٹی قبول کرنے کا بھی دباؤ رہا اور اب  تیسرے مرحلہ میں پاکستان کے ایٹمی و میزائل پروگرام کی مزید ترقی رکوانے کیلئے کوشاں ہے