- الإعلانات -

سبسڈی کا پیسہ عوام کا ہے حکومت کا نہیں،سپریم کورٹ

اسلام آباد  سپریم کورٹ نے کسان کھاد سبسڈی پیکج توہین عدالت کیس میں نجی کھاد کمپنی کی سبسڈی کی مد میں معاونت کرنے اور آئندہ کے لیے تمام نجی کمپنیوں کی کھاد کے معیار کا کیمیائی تجزیہ کرانے کا حکم دیتے ہوئے آئندہ کیمیائی تجزیہ پشاور،لاہور اور کراچی کی لیبارٹری کرانے کی ہدایت کر دی جبکہ دوران سماعت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ حکومت سمجھتی ہے کہ اس کی بادشاہت ہے ،سبسڈی کا پیسہ حکومت کا نہیں عوام کا ہے،حکومت اپنا کام ٹھیک سے نہیں کرتی ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعدحکومت کا ڈیڑھ ارب سبسڈی کی مد میں تقسیم کرنا توہین عدالت ہے۔ کیس کی سماعت جسٹس اعجاز افضل کی سر براہی میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سماعت کی ، مقدمہ کی کارروائی شروع ہوئی تو نجی کمپنی کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ عدالتی حکم کے بعد حکومت ہماری کھاد کا کیمیکل ٹیسٹ کرانا چاہتی ہے،ہماری کھاد کے معیار کا ٹیسٹ پہلے ہی ہو چکا ہے،ہماری کھاد کے معیار کے کیمیکل ٹیسٹ کو حکومت نے کہیں بھی چیلنج نہیں کیااس پر حکومتی وکیل ساجد الیاس نے دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ حکومت سبسڈی کی مد میں مالی معاونت لینے والی چاروں کھاد کمپنیوں کا کیمیکل ٹیسٹ کرانا چاہتی ہے۔تین کھاد کمپنیوں کی کھاد کے معیار کے ٹیسٹ ہو چکے ہیں،نجی کمپنی بھی لاہور لیبارٹری سے معیار کا ٹیسٹ کرائے،معیار ٹھیک ہوا تو حکومت مالی معاونت کریگی جس پر جسٹس قاضی فائر عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ حکومت نے عوام کے پیسہ کی تقسیم میں بہت فراخدلی دکھائی،حکومت نے اپنے انداز پر غور نہیں کیا،حکومت سمجھتی ہے کہ اس کی بادشاہت ہے ،سبسڈی کا پیسہ حکومت کا نہیں عوام کا ہے،حکومت اپنا کام ٹھیک سے نہیں کرتی ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعدحکومت کا ڈیڑھ ارب سبسڈی کی مد میں تقسیم کرنا توہین عدالت ہے، وکلاء کے دلائل سننے کے بعد عدالت عظمیٰ نے نجی کھاد کمپنی کی سبسڈی کی مد میں معاونت کرنے اور آئندہ کے لیے تمام نجی کمپنیوں کی کھاد کے معیار کا کیمیائی تجزیہ کرانے کا حکم دیتے ہوئے آئندہ کیمیائی تجزیہ پشاور،لاہور اور کراچی کی لیبارٹری کرانے کی ہدایت کر دی اور کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی