- الإعلانات -

ہم اپنے ”بادشاہ“ کو قانون کے نیچے لانے کی جدوجہد کر رہے ہیں: عمران خان

اسلام آباد  پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف کی نااہلی کیلئے مکمل ثبوتوں کے ساتھ الیکشن کمیشن میں پٹیشن دائر کر دی گئی ہے اور اگر الیکشن کمیشن نے فیصلہ نہ کیا تو ہم سپریم کورٹ جائیں گے اور سڑکوں پر بھی آئیں گے۔ ہم جمہوریت کو غیر مستحکم نہیں بلکہ مستحکم کر رہے ہیں اور اپنے ملک کے ”بادشاہ“ کو قانون کے نیچے لانے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ پانامہ لیکس کے معاملے پر احتساب کا آغاز وزیراعظم سے ہو اور پھر سب کا احتساب کیا جائے۔
عمران خان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم اثاثے چھپانے پر وزیراعظم کو نااہل ہونا چاہئے کیونکہ انہوں نے الیکشن قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔ جمہوریت میں وزیراعظم جواب دہ ہے لیکن بادشاہت میں نہیں۔ نواز شریف نے پانچ قانون توڑے ہیں جن کا جواب مانگ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن میں وزیراعظم نواز شریف کے خلاف تمام ثبوتوں کے ساتھ پٹیشن دائر کی گئی ہے اور اگر الیکشن کمیشن نے وزیراعظم کی نااہلی سے متعلق پٹیشن پر فیصلہ نہ کیا تو ہم سپریم کورٹ جائیں گے اور سڑکوں پر بھی آئیںگے کیونکہ جمہوریت میں ایک جمہوری جماعت کو سڑکوں پر آ کر پرامن احتجاج کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلیں گے اور اگر دوسری جماعتیں چاہیں تو الگ الگ سپریم کورٹ سے رابطہ کر سکتی ہیں اور اگر چاہیں تو ایک ساتھ چل سکتے ہیں۔
تحریک انصاف کے سربراہ کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کا اب تک کا رویہ بہت بھیانک ہے اور لگتا ہے کہ الیکشن کمیشن پاکستان کا نہیں بلکہ مسلم لیگ (ن) کا ہے۔ الیکشن کمیشن نے علیم خان کے کیس میں جان بوجھ کر تاخیر کی اور 60 روز کیس اپنے پاس رکھ کر جواب دیدیا کہ ہم نہیں سن سکتے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف جب سے اقتدار میں آئے ہیں قانون توڑ رہے ہیں۔ ان کے اوپر ہیلی کاپٹر ٹیکس کا کیس ہے لیکن کوئی سنتا ہی نہیں ہے، دیگر حکمرانوں کے خلاف بھی درجنوں مقدمات زیر التواءہیں لیکن کوئی نہیں پوچھتا۔ ہماری جنگ اس ملک کو بادشاہت سے بچانے اور اپنے ”بادشاہ“ کو قانون کے نیچے لانے کی جنگ ہے۔ مسلم لیگ (ن) جمہوری پارٹی نہیں کیونکہ اگر یہ جمہوری پارٹی ہوتی تو نواز شریف کی جگہ کوئی اور وزیراعظم ہوتا جبکہ مریم نواز شریف بھی وزیراعظم ہاﺅس میں نہ ہوتیں۔
عمران خان نے کہا کہ ہم سب ٹی او آرز پر متفق ہیں اور کوشش کر رہے ہیں کہ حکومت بھی مان جائے لیکن لگ رہا ہے کہ حکومت نہیں مانے گی کیونکہ حکومت جو ٹی او آر چاہتی ہے وہ نواز شریف کو بچانے کیلئے ہیں۔ اگر مجھے ٹی او آرز سے ڈر نہیں تو نواز شریف کو کیوں؟پانامہ لیکس کے معاملے پر احتساب کا آغاز وزیراعظم سے ہو اور پھر سب کا احتساب کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ برطانوی وزیراعظم نے ریفرنڈم کا فیصلہ خلاف آنے پر استعفیٰ دیدیا ہے حالانکہ ان کے مخالفین بھی یہ کہہ رہے تھے کہ وزیراعظم کو استعفیٰ دینے کی کوئی ضرورت نہیں لیکن پھر بھی ڈیوڈ کیمرون نے استعفیٰ دیا اور اپنی اخلاقی طاقت کا مظاہرہ کیا۔ برطانوی وزیراعظم اخلاقی قوت پر حکومت کرتا ہے، اس لئے جمہوریت چلتی ہے ۔
تحریک انصاف کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے 2012ءکے ٹیکس ریٹرنز میں لکھا کہ مریم نواز ان کی زیر کفالت ہیں تو پھر وہ زیر کفالت ہوتے ہوئے مے فیئر فلیٹ کیسے خرید سکتی ہیں؟ ۔ ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ اگر جمہوریت کو مدنظر رکھا جائے تو پھر مریم نواز شریف کی کوئی حیثیت نہیں ہے لیکن اگر پاکستان میں بادشاہت کا اعلان کر دیا جائے تو پھر وہ ”شہزادی“ بن جائیں گی۔
مدارس کیلئے فنڈز میں رقم مختص کرنے پر وفاقی وزراءکی جانب سے تنقید سے متعلق سوال پر عمران خان نے کہا کہ پرویز رشید کے اوپر کیس کرنا چاہئے جو وہ احمقانہ باتیں کرتے ہیں، صفورا کیس میں پڑھے لکھے لوگ شامل تھے۔ مدارس کیلئے فنڈز مختص کرنے پر تنقید کرنے والوں کو معاشرے کی سمجھ ہی نہیں ۔ مدارس میں 22 لاکھ بچے پڑھتے ہیں کیا انہیں بھول جائیں؟ کیا وہ سب دہشت گرد ہیں؟ مدارس کا تو نصاب ہی ایسا نہیںکہ وہاں پڑھنے والے بچوں کو نوکریاں مل جائیں، ان بچوں کے پاس معاشرے کا حصہ بننے کیلئے کوئی راستہ نہیں ہوتا۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ مدارس سے دہشت گرد نکلے ہیں تو پھر انہیں یہ سمجھنا چاہئے کہ مدارس کو بہتر کرنے کی زیادہ ضرورت ہے۔
عمران خان نے معروف قوال اور نعت خواں امجد صابری کے قتل کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی اور دکھ کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ان کے قاتلوں کو جلد از جلد گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔