- الإعلانات -

میٹھا میٹھا ہپ ہپ کڑوا کڑوا تھو تھو ایسا نہیں ہونا چاہئے

اسلام آباد (روزنیوزرپورٹ)اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل لگتی ہے ، آج مزیم نواز کا بیان آگیا ، حالات کو افہام و تفہیم سے حل کیا جائے ، اب موجودہ حالات دیکھتے ہیں گیلانی کے کاغذات منظور کر لئے گئے ، گیلانی سے حفیظ شیخ 80فیصد امید ہے ہار جائیں گے ، دونوں میں فرق ہے ، گیلانی کے کاغذات منظور ہوئے تو اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل نظر آئی ، ڈسکہ الیکشن کے حوالے سے مختلف بیانیہ آیا ہے کہ نتاءج کے حوالے سے مریم کا بیان علیحدہ ہے ، شفاف الیکشن ہوئے تو گیلانی جیت جائیں گے ، ہا ر کے آجائے اور فتح کی صورت میں علیحدہ علیحدہ بیانیہ آجاتا ہے ، کہ میٹھا میٹھا ہپ ہپ کڑوا کڑوا تھو تھو ایسا نہیں ہونا چاہئے ، ضمنی انتخابات میں رانا تنویر نے درست کہا کہ فوج شامل نہیں پولیس گردی یا انتظامیہ ہو سکتی ہے ، شاہد خاقان بھی جذبات ہو جاتے ہیں ، انو کو بھی ناکردہ گناہوں کی سزا مل رہی ہے ، سندھ میں حلیم عادل شیخ سے ساتھ جو ہو رہا ہے اس پر دکھ ہے ، اس سے زیادہ غلطیاں وزیر اعلیٰ سندھ اور دیگر کر رہے ہیں ، 18ویں ترمیم کو میں نے چیلنج کیا اور جن پوائنٹ کی میں نے نشاندہی کی تھی ان کی وجہ سے ہی مسائل پیدا ہوئے ، حکومت میں کوئی جان نہیں ، فیڈریشن کو مضبوط کرنے کیلئے 18ویں ترمیم پر بحث لازمی ہے ، تمام لوگوں کو مل جل کر چلنا چاہئے ، ہمارے جو حالات ہیں ان کے پیش نظر آپس کی لڑائی ختم کرنا ہو گی ، حکومت اپوزیشن کو مل کر بیٹھنا ہو گا، مسائل کو حل کرنا ہوگا، 18ویں ترمیم کی وجہ سے حکومت بے بس ہے ، دس سال پہلے عمران خان تو نہیں تھا، میں 18ویں ترمیم کے حولاے سے سپریم کورٹ تک گیا تھا، انہوں نے کہا حلیم عادل شیخ کے ساتھ جو ہو رہا وہ وفاق کی بے بسی ظاہر کرتی ہے ، 18ویں ترمیم کو اسمبلی میں زیر بحث لانا چاہئے ، مریم ، شاہد خاقان اور گیلانی کے بیانیے میں فرق ہے ، میں یہ کہتا ہوں حلیم عادل شیخ سے زیادتی ہو رہی ہے ، پیپلز پارٹی کے اچھے دن آگئے ہیں ، پیپلز پارٹی نے گیلانی کو لا کر بہترین کارڈ کھیلا ہے ، سیکریٹ بلٹنگ ہوئی تو پی ٹی آئی کے کئی اراکین گیلانی کو ووٹ دیں گے ۔