- الإعلانات -

بھارت پر جنگ کا جنون سوار پاکستان کو جنگ کی دھمکی دے ڈالی

نئی دہلی بھارت نے دھمکی دی ہے کہ ہم پہلی گولی اپنی طرف سے نہیں چلائیں گئے لیکن اگر پاکستان کی طرف سے چلتی ہے تو ہم اپنی گولیوں کا حساب نہیں رکھیں گئے،پڑوسی ملک بھارت کو غیر مستحکم کرنا چاہتا ہے،پام پورہ حملے میں میں مارے جانے والے سیکورٹی اہلکاروں کی بہادری اورجرات کو سلام پیش کرتا ہوں ،سی آر پی ایف کی بس پر حملے کا جائزہ لینے کیلئے ٹیم پام پورہ بھجوائی جائے گی۔بھارتی میڈیا کے مطابق وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پہلی گولی اپنی طرف سے نہیں چلائیں گئے لیکن اگر پاکستان کی طرف سے چلتی ہے تو ہم اپنی گولیوں کا حساب نہیں رکھیں گئے ۔اس سے قبل بابا بندہ سنگھ بہادرکے 300ویں برسی کے موقع پرمنعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے راجناتھ سنگھ نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے قافلے پر حملے میں پاکستان کا واضح طور پر حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ پڑوسی ملک بھارت کو عدم استحکام کاشکار کرنے کی کوششیں کررہاہے ۔راجناتھ سنگھ نے بھارتی فوج کی بس پر حملے میں سیکورٹی لیپس کا جائزہ لینے کیلئے ایک کمیٹی پام پورہ بھیجنے کا اعلان کیا اور حملے کے بعد 2 مسلح افراد کو مار گرانے پرسیکورٹی اہلکاروں کی تعریف کی ۔انکا کہنا تھاکہ میں نے ہوم سیکرٹری سے کہا ہے کہ حملے کا جائزہ لینے کیلئے دو رکنی کمیٹی کوپام پورہ بھیجا جائے تاکہ مستقبل میں غلطیوں کو درست کیا جاسکے۔سیکورٹی اہلکاروں کی بہادری اورجرات کو سلام پیش کرتا ہوں ۔ راجناتھ سنگھ نے کہاکہ بھارتی نوجوان ملک کو عدم استحکام کاشکار کرنے والی قوتوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔حملہ کرکے ہمارے پڑوسی ملک اور دہشتگردوں نے بھارت کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی ہے ۔دوسری جانب بھارتی وزیر دفاع منوہر پریکر کا کہنا ہے کہ پام پورہ میں سی آر پی ایف پر حملہ مایوس کن کاروائی ہے ۔حکومت اس طرح کے واقعات کے ساتھ سختی سے نمٹے گی ۔سابق فوجیوں کے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے منوہر پریکر نے کہاکہ گزشتہ ایک ماہ میں 25سے زائد دہشتگردوں کو جموں وکشمیرمیں ہلاک کیا جاچکا ہے ۔پام پورہ حملہ مایوسی کا اظہار ہے وہ دکھانا چاہتے ہیں کہ وہ اب بھی طاقت ور ہیں۔واقعے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں ۔انکا کہنا تھاکہ بھارت امن چاہتا ہے لیکن کمزوری کی نہیں بلکہ طاقت کی پوزیشن سے ۔فوجی جوانوں سے کہہ دیا ہے کہ اگر کوئی بھی دہشتگرد حملہ کرتا ہے تو اسکے خلاف بھرپور کاروائی کی جائے