- الإعلانات -

ملکی بقاءکو خطرہ ہوا تو ایٹمی ہتھیاروں کا آپشن بھی استعمال کرسکتے ہیں،خواجہ آصف

اسلام آباد(سپیشل رپورٹ)وزیر دفاع خواجہ اصف نےنجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف نے بھارت کے ساتھ امن کیلئے اپنی سیاسی ساکھ کو داﺅ پر لگایا،پاکستان کی بقا کو خطرہ ہوا تو ایٹمی ہتھیاروں کا آپشن بھی استعمال کرسکتے ہیں، بھارت کھلے ذہن کے ساتھ مذاکرات کرے تو آج بھی تیار ہیں، امریکا پاک بھارت مذاکرات کی بحالی کیلئے کوشش کررہا ہے،بھارت پاکستان کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا صرف دباﺅ میں رکھنا چاہتا ہے، پاکستان بھارت سے مکمل جنگ کیلئے تیار ہے، ممبئی حملوں پر بھارتی موقف قطعی طور پر تسلیم نہیں کیا جاسکتا ، پاکستان سے بھارت میں مداخلت نہیں ہورہی، بھارت کے پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث ہونے کے مستند شواہد عالمی فورمز پر پیش کرنے جارہے ہیں، افغانستان کے ساتھ اعتماد کے سفر کا دوبارہ آغاز چاہتے ہیں، امریکا کولیشن سپورٹ فنڈ کو پاکستان پر دباﺅ کے لئے استعمال کرتا ہے، بھارت سے روایتی جنگ میں بھی پاکستان کو برتری ہوگی۔ خواجہ آصف نے کہا کہ بھارت کے ساتھ برابری کی بنیاد پرتعلقات رکھے جاسکتے ہیں، کھلے ماحول اور کھلے ذہن کے ساتھ مذاکرات کیلئے آج بھی تیار ہیں، امریکا پاک بھارت مذاکرات کی بحالی کیلئے کوشش کررہا ہے، بھارت پاکستان کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا بلکہ صرف دباﺅ میں رکھنا چاہتا ہے، پاکستان بھارت سے مکمل جنگ کیلئے تیار ہے، بھارت پاکستان میں سویلین آبادی کو نشانہ بنارہا ہے، پاکستانی افواج بھارت کو جارحیت کا فوری اور بھرپور جواب دیتی ہیں، پاکستان اگر ایل او سی اور ورکنگ باﺅنڈری پر پہل کررہا ہوتا تو مذاکرات کیلئے اقدامات نہیں کرتا،وزیراعظم نواز شریف نے بھارت کے ساتھ امن کیلئے اپنی سیاسی ساکھ کو داﺅ پر لگایا۔انہوں نے کہا کہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہماری علیحدگی پسند تحریکیں بھارت کے ہاتھ میں کھیل رہی ہیں، پاکستان میں دہشتگردی کو بڑھاوا دینے میں بھارت کا ہاتھ ہے، بھارت کے پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث ہونے کے مستند شواہد موجود ہیں جو ہم عالمی فورمز پر پیش کرنے جارہے ہیں، بیرون ملک بیٹھے بلوچ علیحدگی پسندوں کے ساتھ بھارتی تعاون کے شواہد موجود ہیں، کراچی میں بھارتی مداخلت کی باتیں تو اخباروں کی زینت بن چکی ہیں۔وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ بھارت سے روایتی جنگ میں بھی پاکستان کو برتری ہوگی، ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکی نہیں دے رہا لیکن اگر پاکستان کی بقا کو خطرہ ہوا تو ایٹمی ہتھیاروں کا آپشن بھی استعمال کرسکتے ہیں، پاکستان اپنی سرزمین کا بھرپور دفاع کرنے کی پوزیشن میں ہے، ہمیں ایٹمی قوت ہونے پرمعذرت خواہانہ رویہ نہیں اختیار کرنا چاہئے،ہمارا ایٹم بم صرف پاکستان کیلئے ہے، ایٹم بم اپنے وسائل سے بنایا اسے کسی کو نہیں دیں گے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ چین نے ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا ہے، بھارت کے ساتھ ایشوز پر چین ہمارا فطری اتحادی بنتا ہے، چین اور پاکستان کے علاقائی مفادات یکساں ہیں، پاک چین اقتصادی راہداری کو صرف گوادر کے تناظر میں نہ دیکھا جائے، اقتصادی راہداری کی تکمیل کے بعد پورا خطہ اس سے جڑ جائے گا، اقتصادی راہداری سے بھارت مستفید ہوتا ہے تو کوئی اعتراض نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حافظ سعید اور ممبئی حملوں کے حوالے سے پاکستان کا اپنا موقف ہے، ممبئی حملوں پر بھارتی موقف قطعی طور پر تسلیم نہیں کیا جاسکتا ہے، ممبئی حملوں پر بھارت نے شواہد نہیں دیئے، پاکستان کو اجمل قصاب کے معاملہ میں رسائی نہیں دی گئی، ممبئی حملوں کی تحقیقات میں پاکستان کو بھی شامل کیا جاتا تو صورتحال بہتر ہوسکتی تھی، ممبئی حملوں کے بعد تین چار ایسے واقعات ہوئے جو بعد میں جھوٹ ثابت ہوئے، اس سے پاکستانی موقف کو تقویت ملتی ہے، بھارت اپنے علیحدگی پسندوں کی کارروائیاں پاکستان کے سر تھوپنے کی کوشش کرتا ہے۔وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان کی مشرقی اور مغربی سرحدوں کے جنگجوﺅں سے متعلق پالیسی یکساں ہے، پاکستان سے بھارت میں کوئی مداخلت نہیں ہورہی، ورکنگ باﺅنڈری پر جس طرح کے انتظامات ہیں کوئی چڑیا بھی کراس نہیں کرسکتی۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کا امن آپس میں جڑا ہوا ہے، افغانستان میں امن کے بغیر پاکستان کا امن خواب رہے گا، پاکستان افغانستان کے ساتھ ڈبل گیم نہیں کررہا، دو سال میں افغانستان کے ساتھ اعتماد کی فضا بحال ہوئی، پچھلے دو مہینے میں افغانستان سے تعلقات خراب ہوئے ہیں ، پاکستان افغانستان کے ساتھ اعتماد کے سفر کا دوبارہ آغاز چاہتا ہے، افغان حکومت اور طالبان کے مذاکرات کا فائدہ پورے خطے کو ہوگا، افغانستان اور پاکستان میں امن قائم ہونے میں ہی امریکا کا مفاد ہے۔وزیر دفاع نے کہا کہ امریکا کولیشن سپورٹ فنڈ کو پاکستان پر دباو? کے لئے استعمال کرتا ہے، دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستانی فوجیوں اور شہریوں کی قربانی کے بعد بھی اگر کوئی پاکستان کے خلوص پر شک کرتا ہے تو یہ بہت دکھ کی بات ہے، پاکستان نے دہشتگردی کیخلاف افغانستان سے زیادہ قربانیاں دی ہیں، آج بھی ساڑھے تین ملین افغانی پاکستان میں بیٹھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاک چین اقتصادی منصوبوں کی تکمیل کے بعد پاکستان معاشی طور پر ا?زاد مملکت بن جائے گا،معاشی دباﺅکی وجہ سے ریاستوں کو اپنی خودمختاری پر سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے، معاشی مجبوریوں کی وجہ سے افغانستان کی دو جنگوں میں پراکسی کے طور پر شامل ہوئے، وسائل نہ ہونے کے باوجود ایٹمی قوت بننا ہمارے لئے فخر کی بات ہے،پاکستان پر جب بھی آزمائش آئی امریکا نے ہاتھ اٹھالیا، ماضی میں امریکا کے ساتھ جنگی معاہدے ہمارے لئے بوجھ ثابت ہوئے۔