- الإعلانات -

تناسب کے اعتبار سے نتیجہ آنا خوش آئند بات ہے ، گیلانی اور عبدالحفیظ شیخ میں کانٹے دار مقابلہ ہو گا، خرم دستگیر

اسلام آباد (روزنیوزرپورٹ) ن لیگ کے رہنما غلام دستگیر نے روزنیوز کے پروگرام ’’ سچی بات ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ڈی ایم ایسے فورم پر آئے اور متحد ہو کر ووٹ پول کرے ، پی ڈی ایم میں مختلف گیارہ جماعتیں ہیں ، ان کو اکٹھا رکھنا بھی مشکل ہو گا ، کچھ لوگ کہتے ہیں یہ الیکشن پاکستان بمقابلہ آئی ایم ایف کے ، شیخ حفیظ جب پاکستان آئے تو ان کے تمام معاملات بیرون ملک تھے ، امید ہے کہ یوسف رضا گیلانی جیت جائیں گے ، میں یہ نہیں کہتا کہ کامیابی یقینی ہے مگر مقابلہ کانٹے دار ہو گا، ہم گیلانی کے ذریعے عمران خن کی اکثریت کا امتحان لے رہے ہیں ، کراچی میں پی ٹی آئی کو امیدوار اٹھانے پڑ گئے ہیں ، ہم چاہتے ہیں کہ الیکشن شفاف ہوں ، جو ہم نے سینیٹ کے چیئرمین کے خلاف عدم اعتماد کیا تھا ہ میں اکثریت حاصل تھی، لیکن 14ووٹ غائب ہو گئے ، سینیٹ میں موجود تھا ، 5منٹ پہلے 64اراکین کھڑے ہوئے لیکن 10منٹ بعد جب ووٹنگ ہوئی تو ہم کامیاب نہ ہوئے ، 64سے 50اراکین کی تعداد کا ہونا لمحہ فکریہ تھی، ہ میں مداخلت کے تجربات رکھتے ہیں ، اس سے اچھی خبر نہیں ہو سکتی کہ سینیٹ الیکشن آئین کے تحت شفاف ہوں ، ہر انتخاب امتحان ہو گا ۔ خدانخواستہ پی ڈی ایم کو مطلوبہ نمبر حاصل نہیں ہوتے تو ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ گڑ بڑ ہو ئی، پی ڈی ایم کی کامیابی ہوتی ہے تو بہترین کامیابی ہو گی ، ہمارے جتنے ووٹ ہیں ڈبے سے نکلتے ہیں تو یہ بھی اچھی بات ہوگی ، غلام دستگیر نے مزیدکہا کہ ہ میں حالات سے سبق سیکھنا چاہئے ، اس بات کو دیکھنا ہے کہ پاکستان کی سیاست جمہوری معاملات میں غیر آئینی مداخلت ہے ، اسے ختم ہونا چاہئے ، اور جو شخص جن کو ووٹ دے اس کا ووٹ ادھر ہی نکلے ، راتوں رات تبدیلی نہیں آنا چاہئے ، اگلے 24گھنٹے ہیں ، بہتر خیر ہو گی کہ جو نتاءج ہیں ہو مناسب ہے ، عمران خان کے پاس اکثریت نہیں ،بلکہ بے جوڑ اعضاء کے حصے ہیں ، 15ووٹوں کا فرق ہے اگر ووٹ ادھر ادھر جاتے ہیں تو یقینی طور پر یہ بات باہر آئے گی ، میں گمان کرتا ہوں کہ سینیٹ الیکشن شفاف ہوں گے ، بلوچستان ، کے پی میں مسائل ہونگے ، پنجاب میں تو مسئلہ حل ہو چکا ہے ، پنجاب میں جو ہوا اس پر تنقید ہو رہی ہے ، بہر حال جو پنجاب میں ہوا اچھا ہوا ہے ، پنجاب میں سوائے ایک پارٹی ق لیگ جو مفاہمت کا باعث بنی ، سب کو اپنے اپنے ووٹ سے یہ اچھا ہو اہے ، پی ڈی ایم کو متحد رکھنے کی بہت کوشش کی بہت سے مواقع آئے کہ ن لیگ اور فضل الرحمان کی رائے مختلف تھی، لیکن پھر اکثریت سے فیصلہ کیا ، ضمنی انتخابات میں جو فیصلے کئے وہ متحد تھے اور اس کے نتاءج آئے اور پی ڈی ایم مضبوط ہوئی، یہ ہی جمہوریت ہے ، اگر ہم نے آگے بڑھنا ہے تو مداخلت کو ختم کرنا ہو گا، اس مداخلت سے ہ میں فائدہ ھی ہوا، لیکن جمہویرت کے خدو خال تو روڑ مروڑ چکے ہیں ، اقتدار بیلٹ باکس سے باہر آئے گا، اور کوئی راستہ اختیار نہیں کیا جائے گا، معاملہ درست ہوتا ہے تو پاکستان کیلئے اچھا ہو گا، ق لیگ محدود ہوگئی ، آنے والی نسلوں کو یہ تسلی ہو کہ پاکستان میں حکومتیں عوامی مرضی سے بنتی ہیں ، ڈسکہ الیکشن کو دیکھ لیں نتاءج مختلف تھے ، جو ہمارے پولنگ ایجنٹ کے نتاءج تھے وہ مختلف تھے ، یہ حقائق سب کے سامنے ہیں ، ہ میں کچھ اشارے ملے ہیں ، جو چار ممبران قومی اسمبلی حراست میں ہیں امید ہے کہ یہ بھی پہنچیں گے ، اگر تناسب کے اعتبار سے نتیجہ آتا ہے تو یہ کوش آئند ہے ، ہار جیت اللہ کے ہاتھ میں ہے ، فی الفور ہمارے سامنے چیئرمین سینیٹ کامسئلہ ہے دیکھیں گے کہ کتنے آزاد اراکین آئے ہیں وہ کس سے ملتے ہیں ، 26مارچ کو پورے ملک سے پی ڈی ایم کو لانگ مارچ کا آغاز ہو گا، 30مارچ کو اکھٹے ہوں گے ، پی ڈی ایم پہلی تحریک ہے جس کو ماورائے آئن کوئی مدد حاصل نہیں عوام کی مدد سے چل رہی ہے ، یہ اعتماد ہونا چاہئے کہ طریقہ کار شفاف ہے ن لیگ کے حوالے سے جو ابہام تھا ، شہباز شریف کے ساتھ ان کے خاندان کے ساتھ جبر کیا گیا ایک شخص جو مفاہمت چاہتا تھا ان کی اہلیہ ، بیٹا ، بیٹیوں کو عدالتوں میں گھیسٹا گیا ، حمزہ شہباز 20ماہ قید میں تھے ، جو مفاہمت کی بات کررہا تھا اس کے ساتھ جبر ہو اتو ن لیگ میں یہ چیزچھٹ گئی کہ مفاہمت کرنے والوں کے ساتھ جبر ہو تا ہے ، تو پھر مسائل پیداہونگے ، عمران خان سوچیں شہباز شریف ، خواجہ آصف کو جیل میں ڈالنا اچھا نہیں ۔