- الإعلانات -

چار یا پانچ ہزار روپے ٹیکس دینے والا اربوں کا مالک نہیں ہوسکتا،سردار لطیف کھوسہ

اسلام آباد  سابق گورنر پنجاب و پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سردار لطیف کھوسہ نے الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےکہا پاناما لیکس بین الاقوامی مسئلہ ہے اور جن رہنماؤں میں بھی غیرت تھی وہ اس معاملے پر مستعفی ہو گئے ہیں ۔چار یا پانچ ہزار روپے ٹیکس دینے والا اربوں کا مالک نہیں ہوسکتا الیکشن کمیشن کا فرض ہے کہ کوئی غلط اور بد دیانت شخص پارلیمان کا حصہ نہ بنے ۔ اس لوٹ کھسوٹ پر نہ قوم خاموش رہ سکتی ہے اور نہ ہی ہم اسی لیے ہم نے نواز شریف کو ہی نہیں اپنے آپ کو بھی احتساب کیلئے پیش کیا۔ہم نے 1985 سے آج تک کے گوشوارے نکالے ہیں جن کااحتساب ہوناچاہیے۔ حکومت کے خلاف ہم ایک ہزار صفحوں پر مشتمل ریفرنس الیکشن کمیشن میں جمع کروا رہے ہیں۔ پاناما لیکس کے معاملے میں ان کے بیانوں میں تضادات کا رکارڈ بھی بنایاہے ۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کے وزیراعظم نواز شریف اور ان کے خاندان نے لوٹ کھسوٹ کی ہے لیکن یہ قوم کے سامنے سچ نہیں بول رہے۔ پارلیمانی کمیٹی میں حکومت کی ایک ضد ہے کہ نواز شریف کا احتساب نہ ہو حالانکہ چیف جسٹس نے حکومت کے منہ پر طمانچہ مارا ہے ۔
سردار لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ الیکشن2013 میں نواز شریف اور ان کاخاندان ساڑھے 6 ارب کاڈیفالٹر تھا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی غیر دیانتدار شخص کو پارلیمان میں نہ آنے دے۔میثاق جمہوریت اس بات پر نہیں تھی کہ کرپشن کرو تو ہم ساتھ دیں گے ۔ ہم کرپشن اوردھاندلی کا ساتھ نہیں دیں گے اور نہ ہی ہم غیر قانونی یا کسی غیرآئینی عمل کا ساتھ دیں گے۔