- الإعلانات -

سول انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ لوگوں کو تحفظ فراہم کرے،عارف علوی

کراچی عارف علوی کا کہنا تھا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ رینجرز نے کراچی میں آپریشن کرکے حالات کو کنٹرول میں کیا، لیکن سول انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ لوگوں کو تحفظ فراہم کرے۔

انھوں نے سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے بیٹے اویس شاہ کے اغوا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب تک شہر میں پولیس کو سیاست سے پاک کرکے ججز کو سیکیورٹی فراہم نہیں کی جائے گی، ہر مرتبہ رینجرز یا فوج کو ہی آواز دی جائے گی۔پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان پر فوج کی جانب سے تو عمل ہو رہا ہے، لیکن سول قیادت کی جانب سے اس پر ابھی تک عمل نہیں ہوسکا۔عارف علوی کا کہنا تھا کہ گزشتہ 3 سالوں میں کراچی میں رینجرز نے جس طرح سے کام کیا ہے اس سے ایک تبدیلی آئی ہے اور آج ہر کوئی کسی بھی دباؤ کے بغیر بات کرسکتا ہے۔خیال رہے کہ گزشتہ روز چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے واضح طور پر کہا تھا کہ دہشت گردوں کے خلاف ہمارا مشن بلارکاوٹ جاری رہے گا اور آپریشن سے حاصل ہونے والی کامیابیاں ضائع نہیں ہونے دی جائیں گی۔آرمی چیف نے کراچی میں امن قائم کرنے کے لیے رینجرز کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ شہر کو دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد سے صاف کرنے کے رینجرز کے عزم اور ہمت کو شہریوں کی جانب سے قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔یاد رہے کہ شہرِ قائد میں رواں ماہ ٹارگٹ کلنگ اور اغوا کے ہائی پروفائل کیسز سامنے آنے کے بعد سے شہر میں امن و امان کی صورتحال کے حوالے کئی سوالات پیدا ہوگئے ہیں۔