- الإعلانات -

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابیاں حاصل ہورہی ہیں،وزیر داخلہ

اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابیاں حاصل ہورہی ہیں، جبکہ اس جنگ میں قوم مایوس نہ ہو کیونکہ دہشت گرد مایوس ہورہے ہیں۔پنجاب ہاؤس اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس کا کردار کلیدی ہے، تاہم سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں سے ملکی سیکیورٹی صورتحال میں بہتری آئی ہے جبکہ دنیا بھی دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کی معترف ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ ڈیڑھ دو سال میں سیکیورٹی صورت حال میں بہت بہتری آئی ہے، 2015 میں دہشت گردی کے واقعات میں 45 فیصد جبکہ شہادتوں کے واقعات میں 39 فیصد کمی آئی۔چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ گزشتہ روز کراچی میں رات گئے تک میٹنگز ہوتی رہیں جن میں سیر حاصل بحث، مشاورت اور صلاح مشورہ ہوا۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں آپریشن کے باعث بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ اور اغوا کی و ارداتوں میں نمایاں کمی آئی ہے، تاہم ہمیں امن و امان کی صورتحال میں مزید بہتری لے کر آنی ہے کیونکہ اگر ایک واقعہ بھی ہوجائے تو مہینوں کی کارکردگی ضائع ہوجاتی ہے۔وزیر داخلہ نے کہا کہ آج دہشت گردوں کے خلاف زمین تنگ ہوچکی ہے اور ان کے پاس ماضی جیسی طاقت نہیں، 2013 میں ہمارے آنے سے پہلے 5 سے 6 دھماکے روزانہ ہوتے تھے لیکن فوجی آپریشن سے دہشت گردوں پر قدغن لگی۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں گزشتہ چند روز میں ایک دو انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت واقعات ہوئے، دہشت گردوں کے لیے زمین تنگ ہوئی تو آسان ہدف بنا رہے ہیں اور ایسے واقعات کرکے قوم میں مایوسی پھیلانا چاہتے ہیں۔چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ناہموار ہے، دشمن ہمارے سامنے نہیں ہے جس کا مقابلہ کیا جائے بلکہ وہ ہماری آبادیوں میں چھپے ہوئے ہیں، جبکہ وفاق اور صوبائی حکومت میں اختیارات کی تقسیم بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں رکاوٹ بنتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنے کے لیے ان کے خلاف نفسیاتی جنگ بھی جیتنا ہوگی، ہم نے قوم کو نفسیاتی جنگ جیتنے کے لیے متحرک کرنا ہے اور ایجنڈا بنانا چاہیے کہ قوم کو نفسیاتی طور پر کس طرح متحرک کیا جائے۔وزیر داخلہ نے کہا کہ کچھ عناصر کی جانب سے سوشل میڈیا پر افواہیں پھیلانا افسوس ناک ہے، سوشل میڈیا کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں استعمال کیا جانا چاہیے اور پیغام جانا چاہیے کہ ہم دہشت گردی کے خلاف آخری دم تک لڑیں گے۔شہر قائد میں کشیدگی کی حالیہ لہر کے حوالے سے چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ کراچی میں حالیہ پیش آنے والے دو بزدلانہ واقعات سے قوم خوف میں مبتلا نہیں ہوگی، ہمیں پیغام دینا چاہیے کہ ہم زیادہ عزم کے ساتھ دہشت گردی کا مقابلہ کریں گے اور سب سے پہلے ہمیں متحد ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کے بیٹے اویس شاہ یا امجد صابری کے قتل کے واقعات دہشت گردوں کی مایوسی کے عکاس ہیں، یہ دو واقعات ہماری سیکیورٹی اور انٹیلیجنس ایجنسیوں کے لیے چیلنج ہیں، تاہم ہماری ایجنسیاں چیف جسٹس کے بیٹے کو بھی بازیاب کرائیں گی اور امجد صابری کے قاتلوں تک بھی پہنچیں گی۔