- الإعلانات -

پاکستان کی کوششوں سے ہی بھارت این ایس جی کا رکن نہ بن سکا،سرتاج عزیز

اسلام آباد: وزیر اعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ یہ پاکستان کی بھرپور سفارتی لابنگ کا نتیجہ ہے جس کے باعث ہندوستان نیوکلیئر سپلائرز گروپ (این ایس جی) میں شمولیت حاصل نہ کرسکا۔دفتر خارجہ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے سرتاج عزیز نے بتایا کہ وزیر اعظم نواز شریف نے اس معاملے پر 17 ممالک کے وزرائے اعظم کو ذاتی طور پر خطوط لکھے، جو ریکارڈ کا حصہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی ایجنسیاں ہندوستانی خفیہ ایجنٹ کلبھوشن یادیو کے خلاف مزید شواہد اکٹھے کر رہی ہیں اور اس کے خلاف جلد قانونی کارروائی کا آغاز ہوگا۔این ایس جی اجلاس میں رکن ممالک، ہندوستان کی رکنیت حاصل کرنے کے حوالے سے درخواست پر، کسی متفقہ فیصلے پر پہنچنے میں اس وقت ناکام ہوگئے تھے، جب کئی رکن ممالک نے ہندوستان کی شمولیت کے لیے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) پر دستخط کی شرط رکھی تھی۔این ایس جی کے اجلاس میں رکن ممالک کا ہندوستان کی رکنیت کے حوالے سے کسی متفقہ فیصلے پر نہ پہنچنا، ہندوستان اور اس کے حامی ممالک کی بڑی سفارتی ناکامی مانا گیا، جو بظاہر ہندوستان کو گروپ میں شامل کرنے کے لیے جلد بازی کا مظاہرہ کر رہے تھے۔ہندوستان اور پاکستان دونوں این پی ٹی کا حصہ نہ ہونے کے باوجود 48 رکنی این ایس جی گروپ میں شامل ہونے کے خواہشمند ہیں۔رواں ماہ کے اوائل میں ہندوستانی وزیر خارجہ سشما سوراج نے کہا تھا کہ ہندوستان، میرٹ پر پاکستان سمیت کسی ملک کے این ایس جی میں شامل ہونے کا مخالف نہیں ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی تھی ہندوستان رواں سال کے آخر تک این ایس جی کی رکنیت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گا۔افغان طالبان کے حوالے بات کرتے ہوئے سرتاج عزیز نے تسلیم کیا کہ حکومت پاکستان نے طالبان کی ’اچھے اور بُرے‘ طالبان کے طور پر تمیز کی، اور حکومت ’اچھے طالبان‘ گروپس کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں افغان طالبان مذاکرات کی دوبارہ بحالی میں آمادہ نظر نہیں آتے، جبکہ حکومت قبائلی علاقوں میں تمام طالبان گروپس کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کر رہی ہے۔خارجہ پالیسی پر سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ سے مشاورت کے حوالے سے سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ یہ معمول کی بات ہے اور امریکا جیسے ملک میں بھی خارجہ پالیسیوں کے معاملوں پر سیکیورٹی اسٹیبلسمنٹ سے مشاورت کی جاتی ہے۔