- الإعلانات -

فخرِ عالم نے چیئرمین سندھ سنسر بورڈ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا

فخرعالم نے اپنا استعفیٰ ڈپٹی اسپیکر سندھ اسمبلی شہلا رضا کے بیان کے بعد وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ کو دیا۔فخرعالم کے اختلافات کا آغاز معروف قوال امجد صابری کے 22 جون کو قتل کے بعد اُس وقت ہوا جب شوبز سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے ایک ساتھ جمع ہوکر ایک ویڈیو بنانے کا فیصلہ کیا جس میں وہ حکومت سے ویسی ہی سیکیورٹی کا مطالبہ کرتے نظر آئے جیسی حکومتی اراکین کو ملتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر یہ ممکن نہیں تو حکومت کو بھی اپنے اعلیٰ سطح کے نمائندوں کی سیکیورٹی واپسی کرنی ہوگی۔ اس ویڈیو کی دلیل دراصل یہ تھی کہ عوام کو ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا ہے جبکہ وہ لوگ جن کا کام لوگوں کی زندگیوں کو محفوظ بنانا ہے انہیں غیر معمولی تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی جس کے بعد اسے عوام کی بھی حمایت موصول ہوئی۔معروف قوال امجد صابری صرف موسیقی کے شائقین میں ہی مقبول نہیں تھے بلکہ ان کا شمار بہترین آرٹسٹوں میں بھی کیا جاتا تھا اور یہی وجہ تھی کہ اس پیغام نے شوبز کو فالو کرنے والوں کی توجہ حاصل کی۔لیکن چیزوں نے اُس وقت ناخوشگوار رخ اختیار کرلیا، جب سندھ اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا نے احتجاج کرنے والے شوبز اسٹارز پر اپنا غصہ نکالتے ہوئے کہا کہ ان کے سربراہ فخر عالم، سابق فوجی آمر جنرل یحییٰ خان کی دوست ‘جنرل رانی’ کے نواسے ہیں ، جن کا اصل نام اقلیم اختر تھا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ شہلا کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے ہے جس نے فخر عالم کو سنسر بورڈ کے چئیرمین کے طور پر نامزد کیا تھا، ان کا یہ بیان فخر عالم کے ساتھی فنکاروں کو بھی کافی ناگوار گزرا۔عدنان شاہ ٹیپو کا کہنا تھا ’ہم مہذب معاشرے میں مہذب ردعمل کی توقع رکھتے ہیں، اگر ایسا بیان کسی ایسی شخصیت کی جانب سے سامنے آتا، جس کو کوئی تعلیم نہیں یا جس کا کوئی پس منظر نہ ہو تو سمجھ بھی آتا، لیکن مجھے حیرت ہے کہ اتنی بڑی سیاسی شخصیت سے اس قسم کا غیر ذمہ دارانہ بیان سننے کو ملا۔’ٹیپو کا کہنا تھا، ‘کیا وہ نہیں جانتی کہ میڈیا کتنا آزاد ہوچکا ہے؟ ایسے لوگ ہماری نمائندگی کررہے ہیں۔ ہم فنکاروں کا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں، اس سب کا آغاز تب ہوا جب ہمارا ایک قریبی شخص (امجد صابری) اس دنیا سے چلا گیا۔ شہلا رضا کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی اُن لوگوں کے لیے ہوتی ہے جنہیں لوگ جانتے ہیں، میں کہتا ہوں لوگ سیاست دانوں سے زیادہ فنکاروں کو جانتے ہیں‘۔اداکار جاوید شیخ کا کہنا تھا ’کسی کو بھی ذاتیات پر نہیں اترنا چاہیے، بدقسمتی سے سیاست میں ایک دوسرے کو برا بھلا کہا جاتا ہے، اگر کوئی سیکیورٹی مانگ رہا ہے تو یہ اس کا حق ہے، اگر آپ کو لگتا ہے کہ وہ غلط ہے تو اسے ثابت کریں۔ ہمیں مسائل کو حل کرنا چاہیے نا کہ ذاتی تبصرہ کرنا چاہیے‘۔فیصل قریشی کا کہنا تھا ’کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ فخر عالم حکومت میں ہیں تو انہیں دستبردار ہوجانا چاہیے، اس نے کہا ٹھیک ہے اور استعفیٰ دے دیا۔ ہم جو کرنے کی کوشش کررہے ہیں وہ سب کے لیے سیکیورٹی ہے۔ پھر چاہے وہ آرٹسٹ ہو، صحافی ہو، ڈاکٹر یا انجینیئر، تمام پاکستانیوں کے لیے۔ یہ جائز نہیں ہے کہ ایک شخص کو 400 پولیس اہلکاروں کی سیکیورٹی ملی ہوئی ہے اور جنہیں سیکیورٹی کی ضرورت ہے انہیں چار پولیس اہلکار بھی نہیں دیئے گئے۔ اب وقت ہے کہ وی آئی پی کلچر کا خاتمہ ہونا چاہیے لیکن اس کے بجائے ہمیں سیاست دانوں سے عجیب ریمارکس ملتے ہیں‘۔