- الإعلانات -

پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت اور اعتزاز احسن میں سرد جنگ شروع

اسلام آباد  پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت نے سینیٹر چوہدری اعتزاز احسن کے سخت گیر موقف کے باعث ایک بار پھر ان سے منہ موڑ لیا ہے ۔ چوہدری اعتزاز احسن عید الفطر کے بعد تحریک انصاف کے ساتھ مل کر سڑکوں پر احتجاج کرنے کیلئے بضد ہیں جبکہ سابق صدر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری فوری طور پر سڑکوں پر آنے کے حق میں نہیں ہیں ۔ پیپلز پارٹی نے حکومت کیخلاف دائر کئے گئے ریفرنس میں بھی چوہدری اعتزاز احسن کو نظر انداز کرکے سابق گورنر لطیف کھوسہ کو ترجیح دی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق سینٹ میں اپوزیشن لیڈر چوہدری اعتزاز احسن ایک بار پھر اپنی ہی پارٹی کی پالیسیوں کیخلاف بغاوت پر اتر آئے ہیں چوہدری اعتزاز احسن کی اس باغیانہ روش کو مدنظر رکھتے ہوئے پیپلز پارٹی نے وزیراعظم میاں نواز شریف ، وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار ، ایم این اے حمزہ شہباز شریف اور کیپٹن صفدر کیخلاف دائر کئے ریفرنس میں چوہدری اعتزاز احسن کو نظر انداز کرتے ہوئے سردار لطیف کھوسہ کو وکالت کی ذمہ داری تفویض کی ہیں۔<br/> سردار لطیف کھوسہ پیپلز پارٹی کے جنرل سیکرٹری بھی ہیں اس سے پہلے محترمہ بے نظیر بھٹو شہید جب زندہ تھیں تو چوہدری اعتزاز احسن پارٹی پالیسیوں کو پھلانگتے ہوئے وکلاء تحریک کے سرخیل بن گئے تھے اور پھر رفتہ رفتہ وکلاء تحریک میں انہوں نے اپنے معزول چیف جسٹس افتخار چوہدری کی گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر مستقل قبضہ کرلیا تھا اس پر کئی سینئر وکلاء نے اعتراضات بھی اٹھائے تھے ۔ چوہدری اعتزاز احسن کی اس اڑان کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو نے انہیں مکمل طور پر نظر انداز کردیا تھا بعد ازاں محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد جب دو ہزار سات کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کو اقتدار مل گیا تھا تو چوہدری اعتزاز احسن نے سابق صدر آصف علی زرداری پر زور دینا شروع کردیا کہ ججوں کو ہر حال میں بحال کیا جائے۔ جب آصف علی زرداری نے ان کی بات ماننے سے انکار کردیا تو چوہدری اعتزاز احسن نے اپنی نجی محفلوں میں پارٹی قیادت کو سخت تنقید کا نشانہ بنانا شروع کردیا اس پر پیپلز پارٹی نے ان کی بنیادی رکنیت بھی معطل کردی تھی اس کے بعد ججوں کی بحالی کیلئے کئے گئے لانگ مارچ میں بھی چوہدری اعتزاز احسن معزول چیف جسٹس کے ساتھ ڈرائیونگ سیٹ پر موجود تھا اور جب مجبور ہوکر حکومت نے ججوں کو بحال کردیا تو چوہدری اعتزاز احسن نے برملا اس کا کریڈٹ لیا اور پی پی پی قیادت کو ایک بار پھر تنقید کا نشانہ بنایا آصف علی زرداری کی سرد مہری کو دیکھتے ہوئے چوہدری اعتزاز احسن نے مشترکہ دوستوں کے ذریعے سابق صدر کی ایک بار پھر قربت حاصل کی اور ماضی کی غلطیوں کا ازالہ کرنے کا وعدہ کرکے وہ ایک بارپھر پارٹی کی صفحہ اول کی قیادت میں شامل ہوگئے گزشتہ چند ماہ میں پانامہ لیکس کے ایشو پر چوہدری اعتزاز احسن نے ایک بار پھر پارٹی قیادت کے موقف سے واضح طورپر بغاوت کی اور ٹی او آرز پر آنیوالے ڈیڈ لاک کے باعث وہ بار بار عندیہ دے رہے ہیں کہ عید کے بعد متحدہ اپوزیشن ایک ہی کنٹینر پر ہوسکتی ہے جبکہ بلاول بھٹو اور آصف علی زرداری فی الحال معاملات کواس نہج پر نہیں لے جانا چاہتے تھے ۔<br/> دوسری طرف مسلم لیگ (ن) کی طرف سے پی پی پی قیادت کو واضح طور پر شکایت کی گئی ہے کہ اعزاز ا حسن ٹی او آرز کمیٹی میں ذاتی ایجنڈے پر عمل کررہے ہیں اور م عاملات کو الجھاؤ کی طرف لے کر جارہے ہیں چوہدری ا عتزاز احسن کو سابق صدر آصف علی زرداری کی طرف سے متعدد بار پیغام دیا گیا کے حد سے تجاوز نہ کیا جائے مگر اس کا کوئی اثر نہیں لیا گیا چنانچہ پی پی پی کی قیادت نے چوہدری اعتزاز احسن کو ایک بار پھر نظر انداز کرتے ہوئے ایک اہم ترین ریفرنس میں جس کے ذریعے وزیراعظم ، وزیراعلیٰ پنجاب سمیت پانچ اہم ترین شخصیات کی نااہلی کی اپیل کی گئی ہے سردار لطیف کھوسہ کی صلاحیتوں پر اعتماد کیا گیا ہے ۔ واضح رہے کہ 2009ء میں جب اعتزاز احسن کے مرکزی قیادت سے حالات کشیدہ تھے تو پی پی پی نے سپریم کورٹ میں بھٹو کی سزائے موت کیخلاف دائر کئے گئے ریفرنس میں بابر اعوان ایڈووکیٹ کی خدمات حاصل کی تھیں اب ایک اور اہم ترین ریفرنس میں اعتزاز احسن کی بجائے سردار لطیف کھوسہ کی صلاحیتوں اوروفاداری پر اعتماد کیا گیا ہے سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس بار ہوسکتا ہے کہ چوہدری اعتزاز احسن اپنی پارٹی کو ہی چھوڑ کرذاتی حیثیت میں عمران خان کے کنٹینر ٹر چڑھ جائیں اور تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لیں