- الإعلانات -

غلط کام کرنے والوں کو کان سے پکڑ کر نکال باہر کریں گے،چیف جسٹس ہائی کورٹ

لاہور ہائی کورٹ کے نئے چیف جسٹس مسٹر سید منصور علی شاہ نے کہا ہے کہ غلط کام کرنے والوں کو کان سے پکڑ کر نکال باہر کریں گے، تمام سٹاف کو عدالت عالیہ کی بہتری کےلئے کام کرنا ہے، عدالت عالیہ لاہور میں انٹرنل آڈٹ کانظام بھی لایا جا رہاہے، چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالنے کے بعد لاہور ہائی کورٹ کے سٹاف سے خطاب کررہے تھے ۔

عدالت عالیہ کے عملہ سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے مزید کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کا تمام سٹاف میرے بچوں کی مانند ہے، انہوں نے کہا کہ وہ باپ کی طرح تمام سٹاف کے ساتھ شفقت سے پیش آئیں گے مگر جو بچہ غلط کام کرے گا اسے کان سے پکڑ کر ادارے سے نکال باہر کریں گے، چیف جسٹس کا کہنا تھاکہ سٹاف کے تمام ارکان حقیقی ہائی کورٹ ہیں، میں آپ کی محنت کو سراہتا ہوں، انہوں نے کہا کہ وہ عدالتی ملازمین کی مشکلات سے آشناءہیںاور تمام مشکلات کے ازالے کے لئے ہر ممکن اقدام اٹھائیں گے۔ فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ انہوں نے عدالتی ملازمین کے پچاس فیصد ایڈہاک الا?نس سے متعلق وزیر اعلیٰ پنجاب سے بات کی ہے، انہوں نے کہا کہ ہم حکومت کے ساتھ ورکنگ ریلیشنز شپ قائم کریں گے اور ہر عوامی مسئلے میں حکومت پنجاب کی معاونت کریں گے ۔

فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ پنجاب کا نظام انصاف باقی تمام صوبوں سے بہتر ہو۔ انہوں نے کہا کہ اداروں کو لڑنا نہیں ہے، ہم سب کو مل کر ملک پاکستان کےلئے کام کرنا ہے اور عام آدمی کو انصاف فراہم کرنا ہے۔ہم اس ہائی کورٹ کو پورے پاکستان کےلئے مثال بنائیں گے۔چیف جسٹس نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ میں بھرتیوں کے رکے ہوئے عمل کو شروع کر دیا گیا ہے جو اگلے پندرہ دنوں میں مکمل کر لیا جائے گا، ان کا کہنا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ میں بھرتیوں کا عمل سو فیصد شفاف انداز میں مکمل کیا جائے گا،کسی سفارش کو نہیں مانا جائے گا اس لئے کوئی ایسی جرا ¾ت بھی نہ کرے، ان کا کہنا تھا کہ خواتین اور جسمانی معذور افراد کو بھی عدالت عالیہ میں کام کرنے کا برابر موقع دیا جائے گا۔ فاضل چیف جسٹس نے مزید کہا کہ رمضان کے بعد عدالت عالیہ کے کیفیٹیریا کو فعال کر دیا جائے گا، جہاں سب کو ایک جیسا کھانا ملے گا، ہم سب وہاں ایک وقت میں ساتھ بیٹھ کر کھانا کھائیں گے۔ چیف جسٹس سید منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ سٹاف و افسران کی کارکردگی رپورٹس کا نظام وضع کیا جارہا ہے، روائتی نظام کی بجائے بہترین کارکردگی کی بنیاد پر پورا اترنے والے ملازمین کو نیچے سے اوپر لائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ صرف ادارے کی ترقی کے بارے میں ہمیں سوچنا ہے، ادارہ ماں کا درجہ رکھتا ہے، اس کی عزت و وقار میں اضافہ کا باعث بنیں۔

فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ اپنی سوچ کو مثبت رکھیں، میں آسمان سے نہیں اترا، میرے چیمبر کے دروازے تمام ملازمین کےلئے کھلے ہیں، آپ اگر اپنے گلے شکوے مجھے نہیں بتائیں گے تو کس کو بتائیں گے۔فاضل چیف جسٹس نے ملازمین سے کہا کہ صرف اللہ تعالیٰ سے ڈریں، افسران سے ڈرنے کی ضرورت نہیں، اپنا کام پوری ایمانداری سے سرانجام دیں اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ میں انٹرنل آڈٹ کا نظام نہیں ہے، جس کی اس وقت اشد ضرورت ہے، دنیا میں کوئی ادارہ انٹرنل آڈٹ کے بغیر نہیں چل سکتا ہے۔ اس حوالے سے ہم نے پاکستان کی سب سے بڑی آڈٹ فرم سے درخواست کی ہے کہ اس صوبے کی عوام کےلئے ہماری مدد کریں اور ہمیں خوشی ہوئی ہے کہ انہوں نے ہمارے ساتھ ایک سال بے لوث کام کرنے کی رضا مندی ظاہر کی ہے اوراس دورانیے میں عدالت عالیہ لاہور کا اپنا آڈٹ سیل قائم کر لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم عدالت عالیہ کے تمام سسٹم کو کمپیوٹرائزڈ کر رہے ہیں، ہر چیز کو آن کر یں گے۔ باپ بیٹے کا رشتہ اعتماد کا رشتہ ہوتا ہے، جس نے بھی اس اعتماد کو ٹھیس پہنچائی وہ اس ادارے کا حصہ نہیں رہے گا۔ ہم ایک نیا ادارہ کھڑا کرنے جارہے ہیں، آپ سب کا تعاون شامل حال رہا تو پاکستان میں اپنا نام بنائیں گے، پورا پاکستان آ کر دیکھے گا کہ کیسے ہائی کورٹ بنتا ہے۔فاضل چیف جسٹس کے خطاب پر لاہور ہائی کورٹ کے سٹاف نے بھرپور اظہار مسرت کیا اور فاضل چیف جسٹس کو یقین دلایا کہ وہ بھرپور محنت ، لگن اور ایمانداری سے کام کریں گے اور لاہور ہائی کورٹ کو پاکستان کا بہترین ادارہ بنانے کےلئے ہر ممکن کوشش کریں گے۔

لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے لاہور ہائی کورٹ کے پینتالیسویں چیف جسٹس کے عہدے کا حلف اٹھایا۔ عہدہ سنبھالنے کے بعد چیف جسٹس نے پنجاب جوڈیشل اکیڈمی کے آڈیٹوریم میں لاہور ہائی کورٹ کے تمام سٹاف سے خطاب کیا۔ جوڈیشل اکیڈمی پہنچنے پر تمام سٹاف نے چیف جسٹس کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر سینئر ترین جج جسٹس شاہد حمید ڈار اور جسٹس محمد یاور بھی فاضل چیف جسٹس کے ہمراہ تھے۔