- الإعلانات -

فوجی عدالت سے سزا یافتہ بریگیڈیئر علی کو لاہور ہائی کورٹ نے رہا کر دیا

کالعدم تنظیم حزب التحریر سے تعلق رکھنے کے الزام میں فوجی عدالت سے پانچ سال قید کی سزا پانے والے پاکستانی فوج کے سابق بریگیڈیئر علی کو لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر رہا کر دیا گیا ہے۔بریگیڈیئر ریٹائرڈ علی کو مئی 2011 میں جی ایچ کیو میں واقع ان کے دفتر سے حراست میں لیا گیا تھا۔ان پر ابتدائی طور پر ایف 16 طیارے سے فوجی ہیڈ کوارٹر پر حملہ کر کے فوجی قیادت کو قتل کرنے، سیاسی حکومت کا تختہ الٹنے اور کالعدم تنظیم حزب التحریر کے ساتھ روابط رکھنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔بریگیڈیئر علی کے خلاف فوج کے ایک میجر جنرل کی سربراہی میں سیالکوٹ میں ہونے والی کورٹ مارشل کی کارروائی چھ ماہ جاری رہنے کے بعد جون 2012 میں مکمل ہوئی تھی۔کورٹ مارشل کی کارروائی کے دوران استغاثہ نے ان میں سے بعض الزامات واپس لے لیے تھے اور فوجی عدالت نے اُنھیں حزب التحریر سے تعلق رکھنے کے الزام میں پانچ سال قید کی سزا سنائی تھی۔بریگیڈیئر (ر) علی پر ابتدائی طور پر ایف 16 طیارے سے فوج کے ہیڈ کوارٹر پر حملہ کر کے فوجی قیادت کو قتل کرنے، سیاسی حکومت کا تختہ الٹنے اور کالعدم تنظیم حزب التحریر کے ساتھ روابط رکھنے کے الزامات تھےمقدمے میں بریگیڈیئر (ر) علی کے وکیل الیاس صدیقی نے میڈیا کو بتایا کہ اُنھوں نے اس فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ میں درخواست دائر کی تھی کہ چونکہ ان کے موکل حراست کے دوران ہی ریٹائر ہو چکے تھے اس لیے اُن کا کورٹ مارشل نہیں کیا جا سکتا۔اُنھوں نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ نے رواں سال کے آغاز میں ہی بریگیڈیئر علی کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا، تاہم انھیں 27 جون کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے رہائی ملی ہے۔الیاس صدیقی کے مطابق مختلف اوقات میں اس فیصلے کے خلاف دائر کی گئی درخواستوں کی سماعت کے دوران ہائی کورٹ کے 17 جج صاحبان تبدیل ہوئے۔فوجی عدالت سے سزا کے وقت بریگیڈیئر علی کے وکیل کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کا کہنا ہے کہ کہ اُن کے موکل کو اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی امریکی فوج کے ہاتھوں ہلاکت کے واقعے کے بعد چار مئی سنہ 2011 کو جی ایچ کیو میں ایڈجوٹینٹ جنرل کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں یہ نکتہ اُٹھایا گیا تھا کہ یہ واقعہ یا تو ملی بھگت سے ہوا ہے اور یا پھر ہماری ناکامی ہے لہٰذا ذمہ داروں کو سزا دی جائے۔