- الإعلانات -

چیئر مین نیب نے شرجیل میمن کیخلاف تحقیقات شروع کرنیکی منظوری دیدی

اسلام آباد(نیوزڈیسک)سندھ حکومت کے اہم وزیر شرجیل میمن سخت مشکلات میں ہیں کیونکہ چیئر مین نیب نے ان کے خلاف تحقیقات شروع کرنے کی منظوری دے دی ہے۔اگرچہ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی حیثیت تک کا آدمی یہ کہہ چکا ہے کہ میمن ممکنہ طور پر پیپلزپارٹی کی مبینہ کرپشن کے خلاف سلطانی گواہ کی حیثیت سے سامنے آسکتا ہے لیکن نیب کے ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب کا اس سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔نیب ہیڈ کوآرٹر کے ذرائع نے بتایا ہے کہ نیب سندھ نے باضابطہ طور پر شرجیل میمن کے خلاف وزارت اطلاعات میں بدعنوانی کی تحقیقات کیلیے درخواست دی تھی۔نیب کے ذرائع کا دعوی ہے کہ چند ماہ قبل سندھ کے سیکرٹری اطلاعات ذوالفقار علی شاہوانی کی گرفتاری کے بعدسے 180ملین روپے کی بدعنوانی میں شرجیل میمن کے کردار کا پتہ چلاہے۔شرجیل میمن سے جب اس حوالے سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے دوٹوک انداز میں بدعنوانی کے کسی مقدمے میں ملوث ہونے کی تردید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک ایڈورٹائزنگ ایجنسی کے حوالے سے کیس تھا جس کا مالک پہلے ہی رضاکارانہ طور پر متعلقہ رقم لوٹا رہا ہے۔یوسف رضاگیلانی کے بیان کے حوالے سے میمن نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ گیلانی کے خلاف بھلا کیسے سلطانی گواہ بن سکتے ہیں کیونکہ انہوں نے تو کبھی وفاقی حکومت میں خدمات انجام ہی نہیں دیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے پی پی قیادت یا سندھ حکومت کے خلاف سلطانی گواہ بننے سے بھی انکار کیا اور کہا کہ وہ اس طرح کے کسی اقدام سے اپنا سیاسی مستقبل تباہ نہیں کر سکتے۔نیب کے ذرائع کا البتہ اصرار ہے کہ شرجیل انعام میمن کے حکومت سندھ کے محکمہ اطلاعات کے کردار اور میسرز کنیکٹ کمیونی کیشن پرائیویٹ لمیٹڈ میں ان کے اور دیگر کے کرادار کے حوالے سے شکایات ہیں ۔شرجیل میمن کے علاوہ جو مبینہ طور پر معاملے میں ملوث ہین ان میں سیکرٹری اطلاعات سندھ ذوالفقار علی شاہوانی، سابق ڈائریکٹر انفارمیشن (اشتہارات) منصور احمد راجپوت اور میسرز کنیکٹ مارکیٹنگ کمیونی کیشن پرائیویٹ لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عبدالقادر شاہ شامل ہیں۔ان الزامات میں سرکاری رقوم میں گھپلے، سرکاری اتھارٹی کا غلط استعمال، سندھ کے پیپرا رولزو کی خلاوف ورزی اور بدعنوانی کی دیگر صورتیں ہیں۔نیب زرائع کا کہنا ہے کہ ایک ملزم عبدالقادر شاہ پہلے ہی نیب کو رضاکارانہ طور پر 74ملین روپے کی رقم لوٹانے کی درخواست کرچکا ہے۔چند ماہ قبل نیب ہیڈ کوآرٹر نے سیکرٹر ی انفارمیشن سندھ ذوالفقار علی شاہوانی کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے تھے جس کے بعد انہیں حفاظتی تحویل میں ضمانت دے دی گئی اور وہ نیب کراچی کے سامنے پیش ہوچکے ہیں۔سیکرٹری انفارمیشن نے تحقیقات میں 180ملین روپے کی مبینہ کرپشن کی ذمہ داری میمن پر ڈالنے کی کوشش کی تھی۔ نیب کو اس امر کے ٹھوس شواہد ملے ہیں ۔اس کے بعد نیب نے ٹھوس شواہد کیلیے سندھ کے بڑبولے وزیر اطلاعات سے چھان بین کیلیے اجازت نامہ طلب کیا تھا۔میمن جو سندھ کابینہ کے سب سے نمایاں وزیر ہیں وہ چند ماہ قبل منظر سے غائب ہوگئے۔ وہ نہ تو ٹی وی شوز میں آرہے ہیں اور نہ ہی پریس ٹاکس سے خطاب کررہے ہیں جو پہلے ہی روزمرہ روایت تھی۔نیب کے علاوہ ، رینجرز اور ایف آئی اے نے بھی سندھ کی کرپشن مافیا کے خلاف مہم تیز کر دی ہے۔ رینجرز کے بارے میں بتایا جارہا ہے کہ انہوں نے سندھ کے وزیر اعلی کو 24ساستدانوں، بیوروکریٹس، پولیس حکام اور دیگر کی فہرست دی ہے جو مبینہ طور پر براہ راست یا بالواسطہ طور پر کرپشن میں ملوث تھے اوریہ سندھ اور کراچی میں مجرمانہ سرگرمیوں اور دہشت گردی کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔