- الإعلانات -

اندھا بانٹے ریوڑیاں بار بار دے اپنوں کو، محمود اچکزئی کا بھی یہی حال ہے

 پشاور: خیبر پختونخوا کو افغانستان کا حصہ قرار دینے والے محمود اچکزئی خود تو اقتدار کے مزے لوٹ ہی رہے ہیں، رشتہ داروں کی بھی پانچوں گھی میں ہیں، کوئی اقتدار کے ایوانوں میں براجمان ہے تو کوئی سرکاری عہدوں پر موجیں کر رہا ہے۔ افغانیوں کی زبان بولنے والے محمود اچکزئی پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ ہیں۔ خود بھی اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں اور پورے خاندان کو بھی بہتی گنگا میں نہلا رہے ہیں۔پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ نے عوامی نمائندگی کا دعویٰ دو ہزار تیرہ کے الیکشن کے بعد کیا۔ پارٹی سربراہ نے بھائی حامد خان کو صوبائی وزیر، بھابی شپو زمی، برادر نسبتی مجید خان اور سالی، نسیمہ اچکزئی کو اسمبلی کا رکن بنوایا۔ بڑے بھائی گورنر بلوچستان بنے۔ یعنی اندھا بانٹے ریوڑیاں بار بار اپنوں کو کے مصداق یہ بندر بانٹ صرف اقتدار کے ایوانوں تک ہی محدود نہیں، محمود اچکزئی نے سرکاری عہدوں کی بندر بانٹ میں بھی سب کو پیچھے چھوڑ دیا۔موصوف کی بھابی کے بھائی قاضی اچکزئی پی آئی اے میں اعلیٰ عہدے پر فائز ہوئے۔ اہلیہ کے بھتیجے کو آئی ٹی یونیورسٹی کا ڈپٹی رجسٹرار لگوایا۔ کزن تواب خان کو ایم ڈی بی ای ایف۔ حامد خان کی بیٹی کو پی این ڈی میں گریڈ سترہ میں افسر بنوایا۔ محمود اچکزئی نے بھتیجے لاند خان کو ڈپٹی ڈائریکٹر گورنر ہاؤس تعینات کروایا۔ دوسرے بھتیجے میر واعظ خان کو کیسکو ڈائریکٹر کا عہدہ دلوایا جبکہ برادر نسبتی منظور اچکزئی ڈی آئی جی موٹر وے بنے۔ موصوف ماضی میں بھی پاک افغان ڈیورنڈ لائن پر تنقید کرتے رہے ہیں۔