- الإعلانات -

نواز شریف اور زرداری سے پیسہ نہیں نکلوا یا جا سکتا ، حکومت گفتار کی نہیں کردار کی غازی بنے

اسلام آباد (روزنیوزرپورٹ)پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روزنیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے پروگرام ’’ سچی بات ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مریم کے بیرون ملک جانے کا معاملہ بہت اہمیت کا حامل بن گیاہے ، یہ بحث چل رہی ہے لیکن کچھ حلقے کہتے ہیں مریم نواز بیمار اور پریشان ہیں ، مریم کہتی ہیں کہ عمران خان کو گھر بھیج کر جاءونگی ، میرے حساب سے مریم نواز بیرون ملک چلی جائیں گی ، علاج کے بہانے باہر جائیں گی ، ان کا کوئی مستقبل نہیں ، پی ٹی آئی اور پی پی پی ایک ہو گئی ہیں ، پی ڈی ایم کا بھی متقبل نہیں ، پی ڈی ایم نے ٹوٹنا ہی تھا، ن لیگ کی ماضی میں پیپلز پارٹی سے مخالفت رہی ، پہلے ہی معلوم تھا پی ڈی ایم کے ساتھ جو ہوا وہ ہونا ہے ، پی پی نے فائدہ اٹھا نا تھا ، او اس نے اٹھا لیا ، پی پی اور تحریک انصاف اندر سے ایک ہیں ، پیپلزپارٹی حکومت کے ساتھ ہے ، احسن اقبال نے دبے الفاظ میں میرے پروگرام میں ن لیگ کے اندر مخالفت کو تسلیم کیا اور کہا کہ مریم نواز کا پارٹی میں کوئی ووٹ نہیں ہے ، بلاول نے حمزہ شہبازکو وزیر اعلیٰ پنجاب بنوانے کا کہہ کر مزید فاصلے بڑھا دیئے ہیں ، حکومت وقت پورا کرے گی ، نواز لیگ اور پی پی بھی پی ٹی آئی کی مدد کرر ہی ہے ، مسئلہ یہ ہے جو معاہدہ کیا اس میں آپشن کوئی اور نہیں ، حکومت اس دوران گفتار کی نہیں کردار کی غازی بنے ، حکومت پیسے نہیں لے سکتی ، 18ویں ترمیم پر بحث کریں ، معشیت مضبوط کریں ، 18ویں ترمیم کی جو کلازز ہیں ان پر ترمیم ہونا لازمی ہے، میں سپریم کورٹ میں 18ویں ترمیم کے حوالے سے تین ماہ پیش ہوتا رہا ، 8ججز نے میرے حق میں اور 9نے میرے خلاف فیصلہ دیا، جن مسائل کا میں نے ذکر کیا تھا آج وہی مسائل وفاق کو در پیش ہیں ، لہذا وقت کی ضرورت ہے کہ 18ویں ترمیم پر بحث کی جائے ، حکومت نواز شریف ، زرداری سے پیسے تو وصول نہیں کر سکتی لیکن 18ویں ترمیم پر بات ہونا چاہئے، وزیر اعظم جو کسان پروگرام شروع کیا وہ انتہائی احسن ہے ، کسی وزیر اعظم نے اس حوالے سے وہ باتیں نہیں کیں جو وزیر اعظم عمران خان نے کیں ، انہوں نے کسانوں کو فصلوں کے حوالے سے فراہم کی جانے والی ادویات بارے بات کی، انہیں سہولیات پہنچائیں ، لیکن حیرانگی ہے کہ حکومت اپنے ہی وزراء اس اقدام کیخلاف نظر آتے ہیں ، اور طرح طرح کے بیانات دیتے ہیں ، جہانگیر ترین کے حوالے سے ایس کے نیازی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم سے جہانگیر ترین کی دوستی دشمنی میں بدل گئی ہے ، جہانگیر ترین پاکستان تحریک انصاف کو چھوڑ کر کہیں نہیں جارہے ، ان کے حالات ابھی خراب ہیں ، ایسی بات نہیں ہے کہ جہانگیر ترین پیپلز پارٹی میں جائیں ، کرونا کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کیسز رپورٹ ہونے کی تعداد کے بارے میں مسائل ہیں ، متعدد ٹیسٹ پرائیویٹ لیبارٹریوں سے بھی ہو رہے ہیں ، کیا وہ پرائیویٹ لیبارٹری بھی حکومت کو رپورٹ دیتی ہے کہ نہیں ، ہ میں معلوم تھا کہ پہلی لہر کی بعد دوسری اور تیسری لہر نے آنا ہے ، اگر احتیاطی تدابیر پر عمل نہیں کیا گیا تو مسائل خراب ہوں گے ، جب تک زیادہ سے زیادہ لوگوں کی ویکسی نیشن نہیں ہوجاتی اس وباء پر قابو نہیں پایا جا سکتا، عوام ایس او پی کا بالکل خیال نہیں کرتے ، پنجاب میں تو احتیاطی تدابیر کا بہت ہی فقدان ہے ، ویکسی نیشن کیلئے سہولیات میں مزید اضافہ کرنا ہو گا، آپ دیکھ لیں اسلام آباد میں شادی ہالوں میں رش ، ہوٹلوں میں رش، مارکیٹوں میں رش پھر ہم کیونکر کرونا وباء پر قابو پا سکیں گے ، تمام کاروبار چل رہے ہیں ، کوئی رکاوٹ نہیں ، ایس اوپی نہیں ، ماسک اسعتمال نظر نہیں آرہا ، انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں اگر دیکھا جائے تو ریڈ کریسنٹ کی خدمات قابل تعریف ہیں ، ایس کے نیازی نے کہا کہ کرونا سے بچنے کیلئے ہ میں اسلامی قواعد و ضوابط پر عمل کرنا ہو گا، اسلام ہ میں ڈسپلن سکھاتا ہے ، اور ڈسپلن کے ذریعے ہی کرنا سے بچاءو ممکن ہے ۔