- الإعلانات -

شام غم کیسے ڈھلی یاد نہیں ۔۔ فطری جذبوں کے شاعرقتیل شفائی

غزل سمیت شاعری کی کئی اصناف میں خود کو منوانے والے قتیل شفائی فلمی گیت نگاری کے میدان میں اترے توان کے گیت اور غزلیں کئی فطری جذبوں اور کیفیات سے آشنا کر گئیں۔ چاہتیں بانٹنے اور سمیٹنے والے اس رومانوی شاعر کی آج پندرھویں برسی ہے۔

1919ء میں آنکھ کھولنے پر نام پایا اورنگ زیب مگر قتیل شفائی کے نام سےشہرت پائی ۔لڑکپن سے ہی طبیعت رومان پرور ،جوانی آئی تو شاعری بھی امڈ آئی، غزلوں گیتوں میں فطری جذبوں کی بھرپور جھلک تھی۔عمر بھر محبتیں کیں اورمحبتیں پائیں، شاعری میں مقصدیت اور انسانی کیفیات کا بھرپور اظہار کیاتو رومانوی جنوں کی بھی پردہ داری نہ کی، عشق ،محبت ہجر وصال ۔سارے ہی موضوعات پر انہوں نے اظہار کیا۔ڈھائی ہزار سے زائد گیتوں اور غزلوں کے خالق قتیل شفائی پاکستان اور بھارت میں یکساں مقبول ہیں، پرائڈ آف پرفارمنس آدم جی، نقوش ،اباسين آرٹس کونسل اور امير خسرو ايوارڈ ز کے حقدار ٹھہرے ۔

قتيل شفائی 11 جولائی 2001ء کو دنیائےفانی سے منہ موڑ گئے مگر فضاؤں میں گونجتے ان کےگیت ہمیشہ اور ہرسو اپنی خوشبوئیں بکھیرتے رہیں گے ۔