- الإعلانات -

کراچی: پولیس کی مبینہ فائرنگ سے نوجوان جاں بحق، ایک زخمی

کراچی کے علاقے سندھی مسلم سوسائٹی میں کار پر مبینہ طور پر پولیس کی فائرنگ سے ایک نوجوان جاں بحق جبکہ ایک زخمی ہوگیا۔فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے ابرار کا پوسٹ مارٹم مکمل کرلیا گیا ہے،جس کے مطابق ابرار کو 3 گولیاں لگیں،ایک گولی سر پر لگی اور 2 گولیاں جسم کے آر پار ہو گئیں۔ اسلحہ سرکاری تھا یا نہیں ؟ فارنزک رپورٹ آنے کے بعد ہی پتا چل سکے گا۔عینی شاہدین کا کہناہے کہ جاں بحق نوجوان ابرار اور زخمی دلنواز موبائل فون کا سودا کرر ہے تھے۔ دلنواز نے پیسے لے کر فون دیئے بغیر گاڑی بھگا ئی توابرار کار پر لٹک گیا ۔اسی دوران پولیس کی جانب سے فائرنگ کی گئی۔علاقہ پولیس فائرنگ کرنے والے اہلکاروں سے لا علم ہے، واقعے کو ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کی ذاتی چپقلش قرار دے دیا گیا۔ایس ایچ او تھانہ فیروز آباد کینسن ڈین کا کہنا ہے کہ پولیس موبائل سے کار پر فائرنگ کی گئی جس سے ابرار حسین نامی نوجوان ہلاک جبکہ دلنواز نامی شخص زخمی ہو گیا۔ تاہم ایس ایچ او کا کہنا ہے کہ وہ فائرنگ کرنے والے اہلکاروں کو نہیں جانتے۔

 

ایس ایچ او کے مطابق 2 عینی شاہدین نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مقتول ابرار اور زخمی دلنواز آپس میں موبائل فون کا لین دین کر رہے تھے۔ دلنواز نے پیسے لیکر موبائل دیئے بغیر گاڑی بھگا دی جس پر ابرار نے گاڑی میں سوار ہونے کی کوشش کی اور لٹک گیا۔ اسی دوران پیچھے سے آنے والی پولیس موبائل سے فائرنگ کی گئی۔

 

واقعے کے خلاف مقتول ابرار کے اہل خانہ نے جناح اسپتال کے باہر احتجاج کیا۔ ابرار کے چچا کا کہنا ہے کہ پولیس نے ابرار کے 2 دوستوں کو تھانے میں بند کر دیا ہے۔ انصاف دلایا جائے۔

 

پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کرنے والے اہلکاروں کے بارے میں معلوم کیا جا رہا ہے۔ زخمی شخص دلنواز بار بار بیان بدل رہا ہے جس سے معاملہ مزید مشکوک ہوتا جا رہا ہے