- الإعلانات -

کورونا کی تیسری لہر میں مضبوط معاشی انڈیکیٹرز کیساتھ داخل ہو رہے ہیں: گورنر اسٹیٹ بینک

گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کا کہنا ہے کہ کورونا کی تیسری لہر میں لوگ خوف کا شکار ہیں لیکن ہم مضبوط معاشی انڈیکیٹرز کے ساتھ داخل ہو رہے ہیں۔ کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ رواں سال مارچ میں ترسیلات زر کا حجم 2 ارب 70 کروڑ ڈالر رہا، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے مسلسل دسویں مہینے 2 ارب ڈالر کی ترسیلات بھیجیں، گزشتہ مارچ کے مقابلے میں رواں سال مارچ کی ترسیلات زر 43 فیصد زائد ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ رواں مالی سال 9 مہینوں کی ترسیلات 21.50 ارب ڈالرز رہیں، رواں مالی سال کے 9 مہینوں کی ترسیلات زر گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 26 فیصد زائد ہیں۔ رضا باقر کا کہنا تھا کہ کورونا کی تیسری لہر میں لوگ خوف کا شکار ہیں، میں اور ڈپٹی گورنرز معیشت کے معاملات بہتر طریقے سے مانیٹر کر رہے ہیں، بینکوں میں استحکام اور اعتماد کے لیے ہم معاونت کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہاؤسنگ سمیت دیگر شعبوں کو مانیٹر کیا جا رہا ہے، لارج اسکیل مینوفیکچرنگ میں 9 فیصد اضافہ ہوا، سیمنٹ کی فروخت ایک سال میں 44 فیصد جبکہ آٹو سیکٹر میں ایک سال میں 35 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ ملکی زرمبادلہ کے ذخائرمیں بھی اضافہ ہوا اور رواں مالی سال جی ڈی پی گروتھ میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم کورونا کی تیسری لہر میں مضبوط معاشی انڈیکیٹرز کے ساتھ داخل ہو رہے ہیں۔ بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر کا کہنا تھا کہ یورو بانڈز جاری کرکے پاکستان نے عالمی کیپیٹل مارکیٹ میں واپسی کی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں رضا باقر کا کہنا تھا کہ تاریخ میں پہلی بار ہاؤسنگ اور تعمیرات کے شعبے کو بڑھایا جا رہا ہے، وزیراعظم خود دلچسپی لیتے ہوئے ہر ہفتے ہاؤسنگ پر اجلاس کرتے ہیں، ہاؤسنگ سیکٹر سے سیمنٹ اور اسٹیل کی فروخت بڑھ رہی ہے۔