- الإعلانات -

جماعت اسلامی اور دوسری جماعتوں کاتقابلی جائزہ

سیاسی جماعتوں کے اندرونی اسٹرکچر، اقتدار میں آکر کارکردگی اور پاکستان کی اساس کا اگر تقابلی جائزہ لیا جائے تومایوسی کے علاوہ کچھ بھی نظر نہیں آتا ۔ جماعت اسلامی اور پاکستان تحریک انصاف کے علاوہ ساری سیاسی جماعتوں مورثی ہیں اورکچھ اسٹبلشمنٹ کی بنائی ہوئی ہیں ۔ صرف جماعت اسلامی آل انڈیا مسلم لیگ ڈھاکہ میں قائم ہوئی ۔ پھر اس کی قیادت قائد اعظم ;231; نے سنمبھالی ۔ کنونشن مسلم لیگ ڈکٹیٹر ایوب خان نے بنائی ۔ پیپلز پارٹی ذوالفقار علی بھٹو نے بنائی ۔ اس کی بعد بیٹی بے نذیر بھٹو ، آصف علی زرداری اوراب نواسے بلاول زرداری جس نے سیاسی فاہدہ کے لیے زرداری سے بھٹو بننا پسند کیا، کی ہے ۔ نون لیگ جرنل جیلانی،ڈکٹیٹر ضیا ء الحق اور نواز شریف، شہباز شریف اور مریم صفدر ،جس نے بھی سیاسی فاہدہ کے لیے مریم صفدر کے بجائے مریم نواز بننا پسند کیا ،کی ہے ۔ پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے بنائی یہ بھی مورثی نہیں ۔ جمعیت علمائے اسلام مفتی محمود کے بعد ان کے بیٹے فضل الرحمان کی ہے اور آگے بیٹے تیار بیٹھے ہیں ۔ نیشنل عوامی پارٹی پہلے عبدالغفار خان، ولی خان، اسفند یار ولی اور اب ایمل ولی خان کی ہے ۔ ق لیگ ڈکٹیٹر پرویز مشرف اور اب چوہدری برادران کی ہے ۔ ایم کیو ایم علاقائی لسانی تنظیم غدار پاکستان دہشت گرد فاشسٹ الطاف حسین، جیو سندھ علیحدگی پسند تنظیم غلام مصطفےٰ شاہ( جی ایم سید) اور پشتون تحفظ موومنٹ منظور پشین نے بنائی ۔ یہ لسانی اور قومیت پسند تنظیم کھلم کھلا پاکستان کی مسلح افواج کے خلاف مہم چلائی ہوئی ہے ۔ سب پارٹیاں اپنے قریبی رشتہ داروں کو الیکشن میں ٹکٹ دیتی ہیں ۔ اپنے رشتہ داروں کو نوازتیں ہیں ، غیر جمہوری ہیں ۔ ، قومی خزانے سے اسراف کرتی ہیں ۔ عوا م کی خدمت نہیں کرتیں ۔ اسلامی نظریاتی جماعت اسلامی مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی;231; نے بنائی ۔ جو مورثی جماعت نہیں ۔ جماعت اسلامی قائد اعظم ;231; کے اسلامی وژن اور دو قومی نظریہ کی حقیقی جانشین ہے ۔ جماعت اسلامی اور دیگر سیاسی جماعتوں کا تقابلی جائزہ پیش کرتے ہیں ۔ آل انڈیا مسلم لیگ نے قائد اعظم محمد علی جناح;231; کی لیڈر شپ میں پاکستان مذہب کے نام سے بنایا تھا ۔ مسلم لیگ پاکستان بننے کے بعد ملکِ پاکستان کو متفقہ آئین نہ دے سکی ۔ جس سے ملک میں اتحاد واتفاق کا فقدان رہا ۔ ۶۵۹۱ء کامتفقہ آئین تو بنا ،مگر سکندر مرزا اور ایوب خان نے مارشل لا لگا کر اسے منسوخ کر دیا ۔ ( کہا جاتا ہے کہ سکندر مرزا غداروں کی اولاد میں سے تھا) مسلم لیگ کے دور میں اتنی وزاتیں بدلیں کہ ہمارے ازلی دشمن وزیر اعظم بھارت نہرو کو یہ کہنے کا موقع ملاکہ پاکستان میں جتنی وزارتیں بدلتیں ہیں اتنی میں دھوتیاں بھی نہیں بدلتا ۔ قائد اعظم;231;نے بھی کہا تھا مےری جیب میں کھوٹے سکے ہیں ۔ قائداعظم;231; محترم نے پاکستان کا مطب کیا’’ لا الہ الا ا للہ ‘‘ کے نام سے پاکستان بنایا تھا ۔ پاکستان بننے کے بعد قائد اعظم ;231; کو اللہ نے جلد اپنے پاس بلا لیا ۔ اس کے بعد مسلم لیگ نے قائد اعظم;231; کے اسلامی وژن سے رو گردانی کرتے ہوئے کہا کہ’’ چودہ سو سالہ پرانہ نظام اسلامی‘‘ اِس دور میں نافذ نہیں ہو سکتا ۔ پاکستان کی بانی مسلم لیگ کئی ٹکڑوں میں بٹتی رہی ۔ ایوب خان نے ۸۵۹۱ء میں مارشل لا لگا کر پاکستان کے متفقہ آئین جس میں پاکستان کا نام’’ اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ اوراُردو کو قومی زبان تسلیم کیا گیا تھامنسوخ کر دیا ۔ ایوب خان نے امریکا کی ایما پر سب سے پہلے قائد اعظم;231; کے اسلامی وژن اور پاکستان کی اسلامی اساس سے غداری کر کے مارشل لا لگا کر اسلام کا راستہ روکا ۔ پاکستان میں اسلامی نظام کے لیے جد و جہد کرنے والی جماعت اسلامی پر پابندی لگائی ۔ مسلم لیگ میں سے کنونشن مسلم لیگ نکالی ۔ سیاستدانوں پر ایبڈو پابندیاں لگائی ۔ امریکا کے کہنے پر اسلامی کے عالی قوانین میں ردو بدل کیا جو آج تک راءج ہیں ۔ ۲۶۹۱ء کا عبوری آئین دیا ۔ پاکستان میں بنیادی جمہورتوں کا نظام راءج کیا ۔ ۰۸ ہزار حلقوں میں پی ڈی ممبر چنے گئے ۔ پھر ۰۸ ہزار بی ڈی ممبران سے ووٹ لے کر صدر بن بیٹھا ۔ پاکستان کے ۶۵۹۱ء کے متفقہ آئین کو منسوخ کر کے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی بنیاد رکھی ۔ غداروطن شیخ مجیب پر اگر تل سازش کیس قائم کیا ۔ ایوب خان نے جمہوریت دشمنی کر کے ڈکٹیٹر شب کو راستہ دکھایا ۔ ایوب خان دور کی کارکردگی یہ ہے کہ اس کے دور میں پاکستان نے ریکارڈ صنعتی ترقی کی ۔ پاکستان میں بڑی تعداد میں کارخانے لگے ۔ صنعتوں کی وجہ سے مزدروں کو نوکریاں ملیں ۔ تربیلہ اور منگلہ ڈیم بنے ۔ ملک نے ترقی کی اور عوام نسبتاً خوشحال تھے ۔ بے روزگاری کم تھی ۔ ۵۶۹۱ء میں پاک بھارت جنگ میں بھارت کو شکست فاش دی ۔ پھر وزیر خارجہ بھٹو نے تاشقند پاک بھارت جنگی معاہدے میں کیڑے نکال کر ایوب خان کے خلاف سیاست کی ۔ مشرقی پاکستان میں حالات خراب ہو ئے ۔ مجیب کو اگر تلہ کیس میں گرفتار کیا ۔ گول میز کانفرنس کے مطالبہ پر شیخ مجیب کو رہا کیا گیا ۔ ملک میں ایوب خان کے خلاف مظاہرے ہوئے ۔ ایوب خان دوسرے ڈکٹیٹر یخییٰ خان کو اقتدار کر رخصت ہوا ۔ پاکستان پیپلز پارٹی ایوب خان کی کنونشن مسلم لیگ کے جسد سے پیدا ہوئی ۔ متحدہ پاکستان میں ۰۷۹۱ء کے الیکشن میں قائد اعظم;231; کے اسلامی وژن اور پاکستان کی بنیادی اساس کےخلاف وردی کرتے ہوئے کرتے ہوئے روٹی کپڑا مکان اسلامی سوشل ازم کے نعرے پر مغربی پاکستان میں اکثریت حاصل کی ۔ چاہیے تو تھا کہ باقی پاکستان میں نئے الیکشن ہوتے ۔ جو پارٹی الیکشن جیتتی وہ پارٹی اقتدار میں آتی ۔ یخییٰ خان اور بھٹو نے مل کر پاکستان توڑا ۔ بھٹوتاریخ میں پہلی مرتبہ سول ماشل لا ایدمنسٹیٹر بنا ۔ پاکستان کے سارے اداروں کو نیشنل لائزکیا ۔ پاکستان میں فسطائی طرز کی حکومت کی ۔ سیاسی اختلاف پر ڈیرہ غازی خان میں ڈاکٹر نذیر کو اور کوءٹہ میں عبدالصمد اچکزئی کو کو شہید کرایا ۔ قصور کے محمد احمد خان کے قتل کے مقدمے میں عدالت سے پھانسی کی سزا پائی ۔ ملک میں فحاشی کا زور تھا ۔ بھٹو نے ایک دفعہ خود کہا کہ شراب پیتا ہوں غریبوں کا خون نہیں پیتا ۔ ایجنسیوں کی رپورٹ پر ۷۷۹۱ء کے انتخابات کرائے ۔ ان اتخابات میں ریکارڈ دھاندلی کرائی ۔ لاڑکا نہ سے جماعت اسلامی کے قومی اسمبلی کے امیدار جان محمد عباسی کو اغوا کیا ۔ اس کے خلاف ۹ جماعتوں کامتحدہ قومی اتحاد بنا ۔ قوم نے نظام ِمصطفےٰ کے پھر پور مہم چلائی ۔ ایک بار امریکا کے کہنے پر اس ملک میں اسلام کا راستہ روکنے کےلئے مارشل لا لگا دیا گیا ۔ ضیاء الحق ذاتی طور پر اسلام پسند تھا ۔ اس نے ضرورکچھ اسلامی نظام کے لیے کام کیے ۔ مگر جب تک اسلامی نظام کے لیے ٹیم نہ ہو اکیلے شخص کا کام نہیں ۔ ذوالفقار علی بھٹو کے بعد بھٹو بیگم نصرت بھٹو پیپلز پارٹی کی چیئرمین بنی ۔ ۲۲ ستمبر کا اخبار گار ڈین کے نمائندے سائمن کو انٹرویو میں ’’ پاکستان کے سخت اسلامی قوانین کے نفاذ کے بارے میں اپنی نا پسندیدگی کا اظہار کیا ۔ کہا میں نہیں سمجھتی کہ پاکستانی عوام فی الحقیقت یہ بات پسند کریں گے کہ ان پر یہ ڈاڑھی والے بوڑھے ملا حکومت کریں ۔ وہ نہیں چایتے ہاتھ کاٹے جائیں ، لوگوں پر کوڑے برسائے جائیں یا انہیں سنگسار کیا جائے ۔ اور جہاں تک میرا تعلق ہے میں شراب پر پابندی لگانے کے حق میں نہیں ۔ بند شدہ ناءٹ کلب دوبارہ کھلنا چاہییں ۔ لوگ سمجھدار ہیں کہ وہ اپنی پسند کاخود تعین کریں ‘‘(حوالہ پرفیسر غفور احمد کی کتاب’’ اور الیکشن نہ ہو سکے ‘‘ صفحہ ۷۸ ۔ ۸۸) ۔ اس کے بعد پیپلز پارٹی ہمیشہ بھٹو کے نام سے عوام میں جاتی اور اقتدار میں آتی رہی ہے ۔ اقتدار کی لالچ میں زرداری خاندان کو بھٹو خاندان میں مصنوی طور پر تبدیل کر دیا گیا ۔ بےنظیربھٹو کی شہادت کے بعد اس کا بیٹا بلاول زرداری ایک مصنوعی پرچی پر پیپلز پارٹی کا چیئرمین بنا ۔ پیپلز پارٹی کی یہ کارکردگی کہ ذوالفقارعلی بھٹو نے پاکستان کو ۳۷۹۱ء کا متفقہ آئین دیا ۔ ،قادیانیوں کو اقلیت قرار دیا ۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی ۔ پہلی بار پاکستان میں اسلامی کانفرنس منعقد کی ۔ جمعہ کی چھٹی اورشراب پر پابندی لگائی ۔ خرابی یہ ہے کہ غریب عوام سے جھوٹے وعدے کر کے سیاسی شعور بیدار تو کیا،مگر غریب کے عوام کے مسائل حل نہیں کر سکے ۔ ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے ۰۷۹۱ء کے انتخابات میں عوام کے جذبات اُبھارے ۔ مزدرو ں کو فیکٹری مالکان سے لڑا دیا ۔ ہاریوں کو زمینداروں سے لڑا دیا ۔ عوام کو سبز باغ دکھائے ۔

(;224224;جاری ہے)