- الإعلانات -

پی ڈی ایم میں اختلافات ، حکومت کو فائدہ پہنچ رہا ہے ، قمر زمان کائرہ

اسلام آباد (روزنیوزرپورٹ)پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ ہماری کوشش ہے کہ اپوزیشن کا اتحاد قائم رہے ، حکومت نے عوام کی زندگی تنگ کر دی ہے ، اب جو یہ لوگ آئی ایم ایف سے معاہدہ کرنے جا رہے ہیں اس سے معاشی آزادی بالکل سلب ہو جائے گی ، روزنیوز کے پروگام ’’ سچی بات ‘‘ میں ایس کے نیازی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارے کچھ ساتھیوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ جو سوچتے ہیں اس پر ہی چلنا چاہتے ہیں ، پی ڈی ایم میں مختلف نظریات کی حامل جماعتیں ہیں ، ساری جماعتوں نے ایک ضابطہ اخلاق طے کیا کہ فیصلے اتفاق رائے سے کریں ، مختلف جماعتوں کے مختلف ایجنڈے تھے جس پر سب جماعتوں کا اتفاق ہو گا اس پر چلنے کے حوالے سے فیصلہ کیا گیا، ہم سب کا ایجنڈا صرف ایک ہی تھا کہ اس حکومت کو گھر بیجھنا ہے ، نیازی صاحب آپ دیکھیں سینیٹ الیکشن میں ہم نے اپنے ساتھیوں کو قائل کیا ، سینیٹ الیکشن لڑا ، آپ دیکھیں کہ اس میں حکومت کو کتنا نقصان پہنچا ، اب آپ بتائیں کہ پیپلز پارٹی کیونکر حکومت کو مضبوط کررہی ہے ، آپ کی یہ بات درست ہے کہ اگر پی ڈی ایم میں جھگڑے ہوں گے ، نا اتفاقی ہو گی تو پھر لا محالہ حکومت کو فائدہ پہنچے گا ، مگر یہاں ہ میں یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ ان تمام کا آخر ذمہ دار کون ہے ، اتحاد ماضی میں رہے اب بھی ہیں ، انہوں نے کہا کہ گیلانی کے الیکشن کے حوالے سے ہمارا جو حق تھا وہ ہم سے چھیننے کی کوشش کی گئی ، گیلانی کو یہ لوگ اپوزیشن لیڈر تسلیم کرنے کیلئے تیار ہی نہیں یہ ضد اور ہٹ دھرمی نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے ، ہم رائے عامہ ہموار کی ، عوام کے تمام طبقوں سے رابطے کیے ، ساری اپوزیشن متحد ہو جائے تو چاہئے کہ عدم اعتماد کی تحریک لائیں ، ہم کہتے ہیں کہ اب عجیب ایک مضحکہ خیز صورتحال ہے ، کیا ماضی میں کسی اتحاد میں کسی کو شوکاز نوٹس دینے کہیں تاریخ رقم ہے ، ہم نے اتحاد بنایا ، اب الزام یہ ہے کہ ہم نے ’’ باپ‘‘ سے ووٹ کیوں لیے ، نیازی صاحب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ ہمارے پاس 21ووٹ تھے ، ایک جماعت اسلامی کا تھا، دو اے این پی کے اوردو فاٹا کے ، اسی طرح 26ووٹ ن لیگ کے پاس تھے ، ہم نے جب دلاور صاحب سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ میرے ساتھ تین ووٹ اور بھی ہیں ، ہم ایک اکثریتی جماعت ہیں ، اپوزیشن متحد ہو گی تو حکومت کو جلد گھر روانہ کر سکے گی ، ہم چاہتے ہیں کہ آئین کی حکمرانی ہو ، اس کے لئے ضروری ہے باہمی عزت و تکریم کی جائے، اگر ایک دوسرے کی عزت کا خیال نہ رکھا جائے تو پھر کیسے کوئی برداشت کرے گا، آج لوگ سیاسی جماعتوں سے بیزار دکھائی دے رہے ہیں ، یہ بات ہمارے دوستوں کو سمجھنی ہو گی ، یہ دوست ہ میں میڈیا پر آکر دھمکیاں دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آصف زرداری کی گفتگو نے ماحول کو خراب کیا، اس سے پہلے نواز شریف نے جو گفتگو کی وہ بہت قابل اعتراض تھی، ہم نے کسی جماعت پر الزام عائد نہیں کیا، یہ لوگ اختیارات سے تجاوز کررہے ہیں ، ان کو چاہئے کہ یہ پیپلز پارٹی اور اے این پی سے معافی مانگےں ، انہوں نے کہا کہ خورشید شاہ ایک انتہائی تجربہ کار اور بردبار سیاستدان ہیں ان کا پاکستان کیلئے دل دھڑکتا ہے وہ ڈیڑھ سال سے جیل میں ناکردہ گناہوں کی سزا بھگت رہے ہیں ، ہ میں امید ہے کہ وہ اب ضمانت پر رہا ہو جائیں گے ، اور انہیں انصاف ملے گا ۔