- الإعلانات -

کراچی :آئی جی سندھ نے بدامنی کیس کی رپورٹ پیش کر دی

کراچی : عدالت کا پے رول پر رہائی کے بارے میں چیف سیکرٹری کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار ، ملزموں کی عدم گرفتاری پر برہمی کا اظہار. سپریم کورٹ میں کراچی بدامنی کیس کی سماعت ، پانچ رکنی لارجر بینچ نے کراچی آپریشن کے بارے میں پولیس اور رینجرز کو مشترکہ رپورٹ پیش کرنے کا حکم جاری کر دیا ۔ عدالت عظمیٰ نے پے رول پر رہائی کے بارے میں چیف سیکرٹری کی رپورٹ پر عدم اعتماد کا اظہار کیا اور رپورٹ مسترد کردی جبکہ عدالت نے آئی جی جیل خانہ جات سندھ کے پیش کردہ ریکارڈ پر بھی برہمی کا اظہار کیا ، سپریم کورٹ کے جسٹس امیر ہانی مسلم کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے کراچی بد امنی کیس کی سماعت کی ۔ چیف سیکرٹری سندھ نے پے رول پر رہا ہونے والے ملزموں کی رپورٹ پیش کی ۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ 3 ملزموں کو واپس جیل بھیجا گیا ۔ ایک ملزم محمد خان کو واپس نہیں لیا گیا ۔ عدالت نے رپورٹ پر عدم اعتماد کا اظہار کیا اور رپورٹ مسترد کردی ۔ جسٹس امیر ہانی مسلم نے استفسار کیا کہ محمد خان کو دوبارہ گرفتار کیوں نہیں کیا گیا ۔ چیف سیکرٹری نے عدالت کو جواب دیا کہ محمد خان کی سزا کے صرف دوماہ باقی تھے ۔ جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہا کہ محمد خان کو کس قانون کے تحت یہ سہولت دی گئی ، آپ ہمیں پے رول پر رہا ہونے والے ملزموں کی پوری تاریخ بتائیں ۔ عدالت کو بتایا جائے کہ پے رول پر رہا ہونے والوں کو کتنی معافی دی گئی ۔ عدالت نے آئی جی جیل خانہ جات سندھ کے پیش کردہ ریکارڈ میں جگہ جگہ وائٹو لگانے پر شدید برہمی کا اظہار کیا ۔ آئی جی جیل نے کہا کہ کچھ ملزموں کو غلط معافی تحریر ہوگئی تھی اس لئے وائٹو لگا دیا گیا ۔ جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ آپ نے وائٹو لگا کر سرکاری ریکارڈ میں رد و بدل کیا ہے ۔ جسٹس امیر ہانی مسلم نے جیل قوانین سے متعلق جواب پر آئی جی جیل سے کہا کہ جیل حکام کو کتابیں دیکھ کر بتانا پڑ رہا ہے ۔ عدالت نے ہدایت کی کہ چیف سیکرٹری کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی جائے اور چیف سیکرٹری بتائیں کہ کمیٹی میں کون ہوگا جو پے رول کے حوالے سے رپورٹ ترتیب دے گا ، اگر رپورٹ اطمینان بخش نہ ہوئی تو افسران کی چھٹی کردی جائے گی ۔ آئی جی سندھ نے کراچی آپریشن کے حوالے سے عدالت کو رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اغوا برائے تاوان کے 121 ملزمان گرفتار کیے ہیں ۔ گزشتہ 6 ماہ میں 295 قتل کے مقدمات رجسٹرڈ ہوئے ، 111 مقدمات پر کام ہوا جبکہ 184 کی تحقیقات جاری ہیں ۔ آئی جی سندھ نے بتایا پولیس نے 2015 میں 200 زمینوں پر قبضے میں ملوث ملزمان کو گرفتار کیا ، رواں سال زمینوں پر قبضے کے 164 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ۔ آئی جی سندھ نے عدالت کو بتایا کہ سی سی ٹی وی کیمروں کی اپ گریڈیشن کے لیے سندھ حکومت سے درخواست کی ہے ۔ پولیس کی جیو فینسنگ کی اعداد و شمار تک پہنچ نہیں ہے ، رینجرز نے اپنی رپورٹ عدالت میں پیش کی جس میں بتایا گیا کہ 2013 سے اب تک ساڑھے 4 ہزار سے زائد ملزموں کو گرفتار کیا گیا ہے ۔ جسٹس امیر ہانی مسلم نے رینجرز اور پولیس کو ہدایت کی کہ وہ کراچی آپریشن سے متعلق مشترکہ رپورٹ پیش کریں ۔ پراسیکیوٹر جنرل شہادت اعوان نے مشترکہ رپورٹ کی مخالفت کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ مشترکہ رپورٹ سے پراسکیوشن کی مشکلات بڑھ جائیں گی اور مقدمات خراب ہوجائیں گے کیونکہ رینجرز ملزموں کو پکڑ کر پولیس کو دیتی ہے تو پولیس مقابلہ ظاہر کر دیتی ہے ۔ عدالت عظمیٰ نے پراسیکیوٹر جنرل کا موقف تسلیم نہیں کیا اور کراچی بدامنی کیس کی سماعت ملتوی کردی