- الإعلانات -

رینجرز اور سندھ حکومت میں کشیدگی عروج پر، اسد کھرل کے قریبی ساتھی گرفتار

لاڑکانہ: سندھ حکومت اور سکیورٹی ادارے آمنے سامنے آ گئے، صوبائی وزیر داخلہ کے مبینہ فرنٹ مین اسد کھرل کے فرار کے بعد رینجرز نے لاڑکانہ میں تین مقامات پر چھاپے مار کر چودہ افراد کو گرفتار کر لیا، اسلحہ بھی برآمد کر لیا گیا۔ چار روز پہلے رینجرز نے لاڑکانہ میں کارروائی کی جس کے بعد سندھ حکومت بھی کھل کر سامنے آئی اور اب کھلم کھلا لڑائی جاری ہے۔ وزیر داخلہ سندھ کے مبینہ فرنٹ مین اسد کھرل کی گرفتاری کیلئے رینجرز حکام آج پھر لاڑکانہ پہنچ گئے۔ سہیل انور سیال کے گھر کی جانب جانے والے راستوں کی ناکہ بندی کی گئی۔ تین مقامات پر چھاپے بھی مارے گئے۔

کارروائیاں گاؤں کارانی، پٹھان گاؤں اور سچل کالونی میں کی گئیں۔ چودہ افراد کو گرفتار کیا گیا۔ اسلحہ بھی برآمد کر لیا گیا۔ گرفتار ہونے والوں میں مفرور اسد کھرل کا قریبی ساتھی اور سابق نائب ناظم عابد بگھیو، اور ساجد بگھیو، راحب بگھیو، ابراہیم بگھیو بھی شامل ہیں۔دوسری  جانب حکام نے اسد کھرل کے فرار میں ملوث بااثر افراد کیخلاف مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے دریں اثناء رہنماء ق لیگ، غلام سرور سیال نے الزام لگایا ہے کہ چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کے بیٹے اویس شاہ کو وزیر داخلہ سندھ نے اغوا کرایا۔ رہنماء ق لیگ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ اغواء میں وزیر داخلہ سندھ اور ان کا بھائی ملوث ہے۔ غلام سرور سیال نے کہا کہ طارق سیال کو فرار کرانے میں پولیس افسر بھی ملوث ہیں.