- الإعلانات -

نیازی صاحب آپ کی تجویز سو فیصد درست ،اتفاق کرتا ہوں ، وزیر اعظم کے سامنے رکھوں گا، فخر امام

یس کے نیازی کی’’ کسان ایجوکیشن کارڈ ‘‘دینے کی تجویز
کسانوں کیلئے ایجوکیشن ضروری ہے،اس کا فائدہ کاشتکاروں کو ہو گا ،ایس کے نیازی
تجویز اچھی، عمل ہونا چاہئے ، ٹیکنیکل تعلیم بھی ضروری ، دو کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں ،وفاقی وزیر
ایجوکیشن کارڈ کسان کی ضرورت ، سرکاری سکولوں بھی میں کسان کے بچوں کو ایڈجسٹ کیا جائے،نیئر بخاری
نیازی صاحب آپ کی تجویز بہترین ، کسانوں کو دیگر سہولیات بھی فراہم کی جائےں ، خالد کھوکھر،سچی بات میں گفتگو

اسلام آباد (روزنیوزرپورٹ)پاکستان گروپ آف نیوزپیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روزنیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے پروگرام ’’ سچی بات ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت گندم سستی خریدتی ہے ، آٹا مہنگا ہوتا ہے ، گندم کی پیداوار اچھی ہوئی ، عمران خان بھی بہت کردار ہے ، حکومت نے گندم خریدی ، گندم زیادہ ہوئی، پیدوار بھی بڑھ گئی ، ذخیرہ اندوز ی بڑھ گئی ، کچھ عرصے بعد گندم غائب ہو جائے گی ، عمران خان ایماندار آدمی ہے چینی سکینڈل کا کیا کیا ، جہانگیر ترین ، شہباز ، نواز زرداری ، چوہدری برادارن سے سمجھوتے کیے گئے ، حکومت مصلحتوں کا شکار رہی ، ذخیرہ اندوزوں سے نمٹنا ہو گا، کسان پریشان کر دیا ہے ، چاہئے پیداوار کتنی ہو جائے ، کسانوں کیلئے حکومت سے درخواست ہے کہ ان کے بچوں کیلئے ایجوکیشن کا رڈ بھی ، کسان کارڈ جاری کرے ، کسان تعلیم کارڈ کا فائدہ کسان کو ہوگا، کسانوں کیلئے ایجوکیشن ضروری ہے ، فخر امام صاحب آپ میری تجویز سے مکمل طور پر اتفاق کریں کہ حکومت کو کسانوں کو دیگر کارڈ کے ساتھ ساتھ ایجوکیشن کارڈ بھی فراہم کرنا چاہئے ، گندم کی ریکارڈ پیداوار ہوئی ہے ، ملک میں ذخیرہ اندوزی نہیں ہونا چاہئے ، 18ویں ترمیم کے بعد صوبوں کے پاس اختیار ہیں ، ان کو کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے ، ریکارڈ پیداوار ہو اور عوام کو فائدہ نہ ہو کوئی فائدہ نہیں ،اسلام آباد میں بہت پانی ہے ، سیکر 17اور 16 میں بے شمار پانی ہے ، آپ سوچ نہیں سکتے ، ہر حکومت نے پانی کابحران پیدا کیا ہوا ہے ، پاکستان میں زمین کے پانی کی کوئی کمی نہیں ، مال بنانے کیلئے یہ کمی پیدا کی جاتی ہے ، میانوالی سے راولپنڈی ، حسن ابدال اٹک تک پانی بہت ہے ، ٹیم تیار کریں پانی کو تلاش کریں ، پانی ہے گندہ کر دیا جاتا ہے ، پانی میں سیوریج لائن مل جاتی ہے ، لمحہ فکریہ ہے کہ پانی اسلام آباد میں جائے خان پور میں ، رنگ روڈ میں 600فٹ کی روڈ موضع پسوال سے گزرتی ہے ، 600فٹ کی روڈ پر قبضہ ہو گیا ہے ، حکومت عجیب کام کرتی ہے 600فٹ کی روڈ فتح جنگ سے واپس لے رہے ہیں ، صوبائی حکومت بھی پی ٹی آئی کی ہے ،سیکٹر ایف 17اور ایف 16 میں روڈ دی ہوء ی600فٹ کی روڈ شامل کریں تو ون فور خرچہ ہو گا، سیاست میں لوگ مال بنانے کیلئے آتے ہیں ، حکومت عام آدمی کو سہولیات دے ، جو لوگ جلاءو گھیراءو کر رہے ہیں ان کو پیسے نہیں ملے ، کچھ نہ کچھ ہو رہا ہے ، لوگوں کی زمینوں پر ڈویلپمنٹ نہیں کر سکتے ، کسی کی زمین پر ڈویلپمنٹ نہیں کرنا چاہئے ، 18ویں ترمیم پر حکومت نے ابھی تک ڈسکس ہی نہیں کیا ،

وفاقی وزیر فخر امام نے پروگرام ’’ سچی بات ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں نے وزارت سنبھالی تو کرونا وباء پھیلی ہوئی تھی، ہماری 19ملین ٹن گندم کی ضرورت ہوتی ہے ،جبکہ گندم مزید پیداواری کرنا ہو گی ، آٹے کے ریٹ کی جہاں تک بات ہے تو 2019 میں گندم کی خریداری کم ہوئی ، سندھ ، پنجاب کی حکومت نے گندم کم خدیدی، چند لوگوں نے خریدی ، انہوں نے ریٹ بڑھا دیا، اس وجہ سے آٹا مہنگا ہوا، لوگوں نے 1400روپے من خریدی ، اور مہنگی فروخت کی ، اس سال 20لاکھ ٹن گندم زیادہ ہوئی ، وزیر اعظم کرپشن کیخلاف ہیں ، انہوں نے شوگر کی مکمل انکوائری کرائی ، نیب کے پاس جو کیسز گئے جب تک عدالتوں میں فیصلے نہیں ہوتے انتظار کرنا پڑتا ہے ، یہ لوگ سٹے آرڈر لے لیتے ہیں ، کہتے ہیں ہم نے کوئی غیر قانونی اقدام نہیں اٹھایا ، گندم میں مسئلہ جو ہم نے 55,54لاکھ ٹن گندم خریدی ، ذخیرہ اندوزی نہ ہو ، اگر کوئی لوگ اس سے کھیل رہے ہیں تو ان کو دیکھیں گے ، گزشتہ سال سختی کی ، سرکار کا طریقہ مختلف تھا، کاشتکار کو معاوضہ 1800;47;- روپے دیا ہماری دھان ایکسپورٹ کو جاتا ہے ، ہم نے 30لاکھ ٹن کی ایکسپورٹ کی اجازت دی ہے ، اور ہمارے پاس ذخیرہ بھی ہے کسان کارڈ اور ہیلتھ کارڈ جاری ہو چکا ، اب یہ تیسرا کارڈ ہو گا، تجویز اچھی ہے عمل ہونا چاہئے ، ملک میں تعلیم اور ٹیکینیکل تعلیم ضروری ہے ، تعلیم سب کیلئے ضروری ہے ، میرا شعبہ تعلیم نہیں ہے ، یہ فیصلہ وزیر اعظم ہی کرا سکتے ہیں ، ان کے سامنے تجویز رکھوں گا، ریاست کی ذمہ داری ہے وہ تعلیم کی سہولت فراہم کرے ، ،چند سالوں سے 2کروڑ بچے سکول سے باہر ہیں ، آپ کی تجویز سے اتفاق ہے ، آئین بھی کہتا ہے کہ بچوں کو تعلیم ریاست فراہم رے ، ہماری دلی خواہش ہے کہ تعلیم ہو ، میں باقاعدہ شفقت محمود اور صوبے سے بات کرونگا، اس پر عمل کریں ، میں اصولی طور پر آپ کی تجویز سے اتفاق کرتا ہوں ، ہم اس حوالے سے اعلان کریں تو اس پر عمل بھی نظر انا چاہئے ، ہمارا اس سال بجٹ میں ملک و قوم کو فائدہ ہو گا، بجٹ میں ٹیسک کمیشن ہوگا، پچھل سال سے زیادہ 18فیصد ٹیکس کمیشن کا اضافہ ہو ا، 14;46;5ارب سے بڑھ کر 7سو ارب ہو سکتا ہے ، ہمارے ملک کی ضرورت سے پیداوار کم ہو ئی ہے ، 29;46;5ملین ٹن ضرورت ہے ، جس میں بیج کا مسئلہ بھی ہوگا ، پچھلے سال سے 20لاکھ ٹن زیادہ ہوا ہے ، اس میں کاشتکار کی محنت ، حکومت کی پالیسی شامل ہے ، پیداوار ہماری ریکارڈ ہوئی ہے ، آج تو 1800روپے خرید کی ہے ، سندھ نے خرید میں ریٹ فکس کی ، کاشتکار کو دیکھنا ہوتا ہے کہ کسان قیمت کے اعتبار سے سرمایہ کاری کرتا ہے ، اس دفعہ کاشتکار نے محنت کی ہے ، پچھلے سال بھی 14;46;5پر kg 40دے رہے تھے ، سندھ نے 20تاریخ کو اعلان کیا ، سندھ نے لیٹ اعلان کیا ، کوشش ہے جو لائی سے سندھ ، پنجاب ، اس سال 20لاکھ ٹن گندم زیادہ ہوئی ،وزیراعظم عمران خان نے شوگر پر مکمل انکوائری کرائی،نیب کے پاس جو کیسز ہیں ان کو پراسس کے تحت چلنا ہے،کاشتکاروں کو اس سال مناسب ریٹ ملا ہے ،اس سال دھان کی84لاکھ ٹن پیداوار ہوئی،بجٹ ایسا لائیں گے جس میں ملک اور قوم کا فائدہ ہو،مئی میں 18فیصد ٹیکس کولیکشن میں اضافہ ہوا ،پیداوار بہتر ہونے میں کاشتکار کی محنت بھی شامل ہے ،حکومت عام آدمی کو سہولت پہنچانے کیلئے اقدامات کررہی ہے،کوشش ہے عام آدمی تک آٹے کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے ،ہمارے پاس چھوٹے ڈیمز کے بہت سے منصوبے ہیں ،سولرٹیوب ویلز پر حکومت سبسڈی دے رہی ہے،17ہزار ٹن اور پھر 25ہزار ٹن کی کوشش کی جاررہی ہے ، پانی زراعت کیلئے بنیادی چیز ہے ، 17ہزار ٹن اور پھر 25ہزار ٹن تک کی کوشش کی جارہی ہے ، جن اضلاع کی آپ نے بات کی ہے یہ بارانی ہیں ، ہماری 80فیصد زمین ٹیوب ویل کے تحت زراعت ہوتی ہے ، دیکھنا ہو گا کہ پانی کا استعمال کیا ہے ، کچھ ڈیموں کے ذریعے پانی محفوظ کیا جائے ، پنجاب میں 25فیصد ٹیوب ویل کے ذریعے زراعت ہو رہی ہے ، صوبوں کے ساتھ ملکر ڈرپ اپری کمشن کے تحت چل رہا ہے ، سولر کے حوالے سے کام چل رہا ہے ، حکوم اس حوالے سے سبسڈی بھی دے رہی ہے ، جلاءو گھیراءو کراچی میں ہوا یہ انتظامیہ مسئلہ ہے ، یہ حل عاومی تعاون سے ہوں گے ، درست بات ہے کہ عوام کو تکلیف ہے تو وہ جلاءو گھیراءو کررہے ہیں ، کسی کی زمین پر ڈویلپمنٹ نہیں کرنا چاہئے ، وہاں سندھ حکومت کے تابع رہ کر نظام ہے وہ اس مسئلے کو حل کریں ، 18ویں تریم کے حوالے سے آپ کی بات درست ہے ۔

پروگرام سچی بات میں گفتگو کرتے ہوئے خالد کھو کھر نے کہا کہ پاکستان میں اس سال فصلوں کی ریکارڈ پیداوار ہوئی،کاشتکاروں کورواں سال فصلوں کی اچھی قیمتیں ملی ہیں ،نیازی صاحب آپ کی تجویز سے مکمل متفق ہوں ،کسانوں کے بچوں کو ایجوکیشن کے علاوہ اور بھی سہولتیں ملنی چاہئیں ،

پروگرام ’’ سچی بات ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے نیئر حسین بخاری نے کہاکہ بجٹ پاس ہوتا ہے کہ نہیں کہ کیسا بجٹ لاتے ہیں پی پی دیکھے گی ، جو جٹ آ رہا ہے وہ پریشان کن ہے ، ایک غریب آدمی کی طلب آٹا ، گھی مل جائے ، یہ اعلان کرت ہیں مگر ڈیلیور نہیں کر پار رہے ، پیداوار ہوئی تو عوام کو سہولت دیں ، ہم نے بھی سہولیات دی تھی، ذخیرہ اندوزی اور سمگلنگ کو روکان حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے ، جو فائدہ عوام میں آنا چاہئے وہ نہیں آیا، اب جو ضروریات ہے وہ حکومت کیسے پوری کرے گی ، عام آدمی کو سہولت ملے تو اھچا اگر عوام کی قوت خرید سے زیادہ ہو تو کیا فائدہ ہے ، یہ گورننس کی بات ہے ، جو گندم زیادہ پیدا ہوئی فائدہ عوام کو پہنچنا چاہئے ، عام خیال ہے کہ گندم سمگل ہو جا تی ہے ، سمگلنگ کو روکنا کیلئے حکومت کا کردار سامنے آنا چاہئے ، سوال یہ ہے کہ عام صارف کو فائدہ ملے یا نہیں ،انہوں نے کہا کہ ایجوکیشن کارڈ کسان کی ضرورت ہے ، حکومت کے جو سرکاری سکول ہیں وہ کسان کے بچے کو ایڈجسٹ کریں ، دیکھنا ہوگا حکومت بجٹ کیسا لاتی ہے ،آٹا ،چینی آج بھی دستیاب نہیں ہے ،حکومت ڈلیور نہیں کرپارہی ،پیداوار بہتر ہونے کی سہولت عوام کو ملنی چاہیے ،ذخیرہ اندوزی اور اسمگلنگ کو روکنا حکومت کا کام ہے ،پیداوار بہتر ہونے کا فائدہ عام آدمی تک پہنچنا چاہیے ،آٹا آج بھی اسلام آباد میں چکی پر 3000روپے من مل رہا ہے،حکومت اساتذہ کے مسائل کے حل کیلئے پالیسی بنائے ،

ایس کے نیازی