- الإعلانات -

میں بجٹ کی کتاب کو مانتی ہی نہیں ، لوگ اسے نہیں پڑھتے ، آفتاب جہانگیر

قومی اسمبلی میں ہنگامہ آرائی عمل پر رد عمل تھا ،نیازی صاحب آپ باخبر اور اندر کی کہانی کی سوجھ بوجھ رکھتے ہیں ،سچی بات میں گفتگو

اسلام آباد (روزنیوزرپورٹ)روزنیوز کے پروگرام ’’ سچی بات ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی آفتاب جہانگیر نے کہا کہ یہ ہماری بد قسمتی ہے ، ہم کیا کررہے ہیں ، دنیا کی دیگر پارلیمنٹس میں بھی لڑائی جھگڑے ہوتے ہیں مگر بہت کم ہوتے ہیں ، میں ایوان میں آیا تھا تو سوچا تھا کہ کردار اداد کروں گا، ایوان میں اللہ تعالیٰ منتخب لوگوں کو بھیجتا ہے ، میں سوچتا تھا کہ یہاں آکر میں اپنی ذمہ داری پوری کرسکوں گا کہ نہیں ، پہلے دن ہی میں نے یہ سوچ لیا تھا کہ شاید ہم اس اسمبلی کوئی بڑا کام نہیں کرپائیں گے، جب وزیر اعظم نے ایوان میں پہلی تقریر کی تو ن لیگ نے ہنگامہ برپا کیا ، بجٹ کی جتنی بھی تقاریر آئیں وہ سب ہنگامے کی نظر ہوئیں ، بجٹ تقریر کو سننا چاہئے،تجاویز دینی چاہئیں ، اختلافات تو ہوتے ہیں ، جب اپوزیشن نے وزیر اعظم ، وزیر خزانہ اور وزیر خارجہ کو تقاریر نہیں کرنے دیں تو پھر یہ کیسے تقریر کریں گے ، یہ عمل کا رد عمل ہے ، اپوزیشن والے تقریر کیا کرتے ہیں وہ ذاتی مقدمہ سناتے ہیں کہ ہم نے ملک یوں ترقی دی ، ہم بڑے نیک لوگ ہیں ، اپنا مقدمہ لڑتے ہیں اور چلے جاتے ہیں ، آج کے دن دیکھیں یہ جو گالیاں دیں وہ مناسب نہیں ، وہاں خواتین بھی موجود تھی، اپنی سیٹوں پر رہ کر احتجاج کرنا ہر ایک کا حق ہے ، ایک دوسرے کی حدود میں نہیں جانا چاہئے ، پہلے کاغذ پھاڑے گئے پھر کتاب ماری گئی، کتاب مارنا بہت بری بات ہے ، میں اس کو بالکل اچھا نہیں سمجھتا ، بجٹ کی کتابیں ایوان میں ایسے ہی پڑی رہتی ہیں ، انہیں کوئی پڑتا ہی نہیں ، اس سے بہتر ہے یہ بجٹ کسی یو ایس بھی یا کسی ڈسک میں دے دیں ، اگر ایسے ہی حالات رہے تو یہ نظام نہیں چلے گا ، سب کچھ جمہوریت کیخلاف ہے ، سپیکرکو چاہئے وہ دنوں اطراف کے لوگوں کو بلائے اور مسئلے کو حل کریں ، تحریک انصاف والوں کو شروع سے ہی بتا دیا گیا تھا کہ قانون سازی کرنی ہے لیکن اپوزیشن کا رویہ درست ہی نہیں ، ایک ڈیڑ ھ سال کی بات ہے پھر عوام کارکردگی دیکھ کر فیصلہ کرے گی، وہ کس کا انتخاب کرتی ہے ، عوام کو جس کو چاہے موقع دے ، اب نوجوان نسل سیاست دانوں کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتی ، جب اپوزیشن وزیر اعظم کو بولنے نہیں دے گی تو پھر ہم بھی اس کو بولنے نہیں دیں گے، بات یہ ہے کہ بجٹ وزیر خزانہ پیش کررہا تھا، تفصیل تو بعد میں آنی تھی، اپوزیشن والے خاموشی سے تقریر سنتے ، انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ سندھ اسمبلی کے بجٹ کے خدو خال بارے علم نہیں لیکن جیسے انہوں نے تنخواہوں میں اضافہ کیا تو ان کے پاس پیسے موجود ہیں ، یہ ایک اچھا قدم ہے ، جو چیز اچھی ہو اس کی تعریف کرنا چاہئے ، کم از کم اجرت کے حوالے سے سند ھ کا بجٹ پنجاب سے بہتر ہے ، اب دیکھنا یہ ہے کہ کے پی اور بلوچستان والے کیا کرتے ہیں ہر صوبے کے اپنے وسائل اور مسائل ہوتے ہیں ، سند ھ میں رورل اور اربن ایریا ز ہیں ، وہاں پر حکومت ہمیشہ رورل ایریا سے بنتی ہے ، پیپلز پارٹی کے لئے موقع ہے کہ وہ شہروں کے مسائل بھی حل کرے، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس صاحب کی جانب سے سندھ حکومت کے حوالے سے جو ریمارکس دیئے ہیں اس کے بعد کسی کے کچھ کہنے کی گنجائش نہیں بنتی ، کراچی میں دو بڑے مسائل ہیں ، سب بڑا مسئلہ امن و امان کا مسئلہ ہے ، سندھ کے حالات برے ہیں ، وہاں پر قبضہ مافیا، صحت کے مسائل ، تعلیم کے مسائل ہیں ، 18ویں ترمیم کے بعد صوبے کے مسائل کو سندھ حکومت نے حل کرنا ہے ، وہ شہروں کی طرف بھی توجہ دے تاکہ یہ خیال ختم ہو کہ پیپلز پارٹی کی حکومت ہمیشہ رورل ایریا سے بنتی ہے ،انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہ نیازی صاحب آپ زیادہ باخبر صحافی ہیں ، آپ کو اندر کی کہانیوں کا زیادہ علم ہوتا ہے اس بارے ہ میں کوئی علم نہیں ِ ، یہ ملک جس بنیاد پر بنا تھا اس کو کوئی بھی نقصان نہیں پہنچا سکتا، ہم نے بار بار کہا کہ کچھ موقع ایسے ہوتے ہیں جہاں پر آپ کو برداشت کرنا پڑتا ہے ، لیکن آپ نے طے کر لیا کہ بات ہی نہیں کرنے دینی، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ حکومت کے ملازمین محدود تعداد میں ہوتے ہیں ِ 75فیصد ملازمین پرائیویٹ سیکٹر سے ہوتے ہیں ، حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہیں تو 20فیصد بڑھا دیں ، پرائیویٹ سیکٹر کو بھی چاہئے کہ وہ ملازمین کی تنخواہیں 20سے 25ہزار کرے، میرا کراچی سے تعلق ہے ، میرا کراچی سے تعلق ہے ، وہ بھاری تعدا میں ریونیو کما کر دیتا ہے ، آج کراچی میں کوئی مزدور نہیں ملتا ہے ، فیکٹری والوں نے لکھ کر لگایا ہوا ہے کہ ہ میں مزدور درکار ہیں ، جب صنعتیں چلیں گی تو حالات بہتر ہوں ، میں بجٹ کی کتاب کو مانتا ہی نہیں کیونکہ اس کو کوئی پڑھتا ہی نہیں ، ہمارے بچے سیلیبس کی کتابیں تک نہیں پڑھ سکتے ، انہوں نے کہا ضیاء الحق سے لیکر آج تک ن لیگ والوں ہی کی حکومت رہی ۔