- الإعلانات -

وحید عالم کی جانب سے بجٹ سیشن میں ایس کے نیازی کی تصنیف ’’ حلقہ احباب‘‘ کا تذکرہ

ٹواری کلچر کے خاتمے اور 18ویں ترمیم میں تبدیلی تک مسائل موجود رہیں گے،ایس کے نیازی
وزیر اعظم کی خواہش تھی وہ ملک و قوم کیلئے اچھا کریں مگر شاید وہ ایسا نہ کر سکے ، جب آدمی لکھ دیتا ہے تو وہ ایک شاءع شدہ ڈاکومنٹ بن جاتا ہے
عمران خان کی نیت پر کوئی شک نہیں ، روزنامہ پاکستان میں انہوں نے آرٹیکل لکھے جن کوکتاب کا حصہ بنایا، ان کے والد کا انٹرویو بھی کتاب میں شامل ہے
سیاسی لوگوں کا مسئلہ ہوتا ہے کوئی اچھا کام بھی کرے تو وہ تعریف نہیں کرتے ، حالانکہ ہونا یہ چاہئے جو اچھا کام کرے اس کی تعریف کرنا چاہئے
پوزیشن حکومت کو کام ہی نہیں کرنے دیتی ، عوام چاہتی ہے حکومت اور اپوزیشن جو ایک دوسرے پر کیچڑ اچھال رہے ہیں ، وہ مل بیٹھیں اور تعمیراتی کام کریں
بہت سارے ایسے کام ہیں جوبےنظیر اورنواز شریف نے نہیں کئے لیکن عمران خان نے کیے ، وہ اتنے اچھے کام ہیں جن کا عوام تک پہنچنا اور ان کی تشہیر ضروری ہے
عمران خان کی ٹیم میں اتنی اہلیت ہی نہیں ہے وہ ان کے اچھے کاموں کو عوام کے سامنے بیان کرسکیں ، بس وفاقی کابینہ کا کام کو ایک دوسرے کو بر ابھلا ہی کہنا ہے
18ویں ترمیم کے بعد اختیارات صوبوں کے پاس چلے گئے ، وفاق زمینوں کے ریکارڈ کو ڈیجیٹل نہیں کر سکتا ، کیا سندھ کے پٹواری اس کی بات کو تسلیم کریں گے

پٹواریوں کو کنٹرول نہیں کیا جا سکتا ، جب تک 18ویں ترمیم کو اسمبلی میں زیر بحث نہیں لا یا جا سکتا اور جو شقیں مسائل کی وجہ سے ان میں ترمیم نہیں کی جا تی مسائل رہیں گے
کراچی میں بہت شاملات ہیں ، قبضے ہیں وہاں پر اسی کو مالک تسلیم کیا جا تا ہے جس کا قبضہ ہو، پٹواریوں کا راج ہر دور میں رہا ہے، کھیوٹ ، ختونی بہت بڑے مسائل ہیں
ان مسائل کے بارے میں ڈی سی کو کیا علم، یہ پٹواری ہی جانتا ہے، شاملات کی تقسیم ٹھیک ہو جائے تو مسائل حل جائیں گے،اسلام آباد میں بھی غیر قانونی تعمیرات جاری ہیں
وزیر اعظم عمران خان ایک دیانتدار آدمی ہیں ، ان کی ٹیم نالائق ہے، آج جو بیوروکریسی ہے وہ تمام ن لیگ کے دور کی ہی ہے،روزنیوز کے پروگرام ’’سچی بات ‘‘ میں گفتگو
اسلام آباد(روزنیوزرپورٹ)پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روزنیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے پروگرام ’’ سچی بات ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ممبر قومی اسمبلی وحید عالم نے میری کتاب ’’ حلقہ احباب ‘‘ کا قومی اسمبلی میں تذکرہ کیا ، وزیر اعظم کی خواہش تھی کہ وہ ملک و قوم کیلئے اچھا کریں گے ، مگر شاید وہ ایسا نہ کر سکے ، جب آدمی لکھ دیتا ہے تو وہ ایک شاءع شدہ ڈاکومنٹ بن جاتا ہے ،وحید عالم اپنی جگہ درست ہیں ، عمران خان چاہتے ہیں کہ وہ ملک و قوم کیلئے کچھ کریں ، ان کی نیت پر کوئی شک نہیں ، عمران خان نے روزنامہ پاکستان میں آرٹیکل لکھے میں نے انکو کتاب کا حصہ بنایا، ان کے والد کا انٹرویو بھی شاءع کیا جسے کتاب میں بھی شامل کیا گیا ہے ، سیاسی لوگوں کا ایک مسئلہ ہوتا ہے کہ اگر کوئی اچھا کام بھی کرے تو وہ ایک دوسرے کی تعریف نہیں کرتے ، حالانکہ ہونا یہ چاہئے کہ جو اچھا کام کرے اس کی تعریف کرنا چاہئے ، اپوزیشن حکومت کو کام ہی نہیں کرنے دیتی ، عوام چاہتی ہے کہ حکومت اور اپوزیشن جو ایک دوسرے پر کیچڑ اچھال رہے ہیں ، وہ مل بیٹھیں اور تعمیراتی کام کریں ، بہت سارے ایسے کام ہیں جو نواز شریف اور بے نظیر نہیں کر سکیں لیکن وہ عمران خان نے کیے ، وہ اتنے اچھے کام ہیں جن کا عوام تک پہنچنا اور ان کی تشہیر ہونا ضروری ہے لیکن عمران خان کی ٹیم میں اتنی اہلیت ہی نہیں ہے ، کہ وہ ان کے اچھے کاموں کو عوام کے سامنے بیان کرسکیں ، بس وفاقی کابینہ کا کام کو ایک دوسرے کو بر ابھلا ہی کہنا ہے ، میں اخبار کا رپوٹر بھی ہوں ، اینکر بھی ہوں اور اخبار کا مالک بھی ہوں ، میں جانتا ہوں کہ عمران خان نے جو لکھا وہ نہ کرسکے، تاہم وہ دیانتدار آدمی ہیں ، ان کی ٹیم نالائق ہے، آج جو بیوروکریسی ہے وہ تمام ن لیگ کے دور کی ہی ہے ، بہر حال ایک بات ہے جو غلط ہوتا ہے وہ غلط ہی ہوتا ہے ، 18ویں ترمیم کے بعد اختیارات صوبوں کے پاس چلے گئے ، وفاق زمینوں کے ریکارڈ کو ڈیجیٹل کر ہی نہیں کر سکتا ، کیا سندھ کے پٹواری اس کی بات کو تسلیم کریں گے ، آدھے سندھ پر زرداری اور بلاول کا قبضہ ہے، پٹواریوں کو کنٹرول نہیں کیا جا سکتا ، جب تک 18ویں ترمیم کو اسمبلی میں زیر بحث نہیں لا یا جا سکتا اور جو شقیں مسائل کی وجہ سے ان میں ترمیم نہیں کی جا تی مسائل ایسے ہی رہیں گے، کراچی میں بہت شاملات ہیں ، قبضے ہیں وہاں پر اسی کو مالک تسلیم کیا جا تا ہے جس کا قبضہ ہو، پٹواریوں کا راج ہر دور میں رہا ہے، انہوں نے کہا جب تک پٹواری کلچر ختم نہیں ہو گا 18ویں ترمیم میں تبدیلیاں نہیں ہونگی مسائل موجود رہیں گے، کھیوٹ ، ختونی بہت بڑے مسائل ہیں ان کے بارے میں ڈی سی کو کیا علم، یہ پٹواری ہی جانتا ہے، شاملات کی تقسیم ٹھیک ہو جائے تو مسائل حل جائیں گے ، اسلا م آباد میں غیر قانونی تعمیرا ت ہیں ، جن کو کوئی روکنے والا نہیں ۔