- الإعلانات -

وسیم اختر، رؤف صدیقی اور انیس قائم خانی کو ہائیکورٹ سے ریلیف نہ مل سکا

کراچی:  انسداد دہشت گردی کورٹ سے ضمانت کی منسوخی کے بعد وسیم اختر، رؤف صدیقی ، انیس قائم خانی اور قادر پٹیل سندھ ہائیکورٹ سے بھی فوری ریلیف حاصل نہ کر سکے۔ وسیم اختر کو نئے مقدمات میں بھی گرفتار کر لیا گیا۔ ڈاکٹر عاصم کیس میں انسداددہشت گردی کورٹ سے عبوری ضمانت کی گزشتہ روز منسوخی کے بعد وسیم اختر اور دیگر ملزموں کو سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کی مہلت نہیں ملی اور انھیں جیل جانا پڑا۔ رات جیل میں گزارنے کے بعد وسیم اختر اور رؤف صدیقی کے وکلا نے انسداد دہشت گردی کورٹ میں جبکہ انیس قائم خانی کے وکلا نے سندھ ہائیکورٹ میں ضمانت کی درخواست دائر کر دی۔ انسداد دہشت گردی کورٹ نے وسیم اختر اور رؤف صدیقی کی درخواست سننے سے انکار کر دیا۔ انسداد دہشت گردی کورٹ سے درخواست واپس ہونے کے بعد وسیم اختر اور رؤف صدیقی کے وکلا نے سندھ ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی۔ دوسری جانب مدعی مقدمہ کے وکلا نے فیصلے کو سیاسی قرار دینے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کر دیا۔وسیم اختر کی درخواست ضمانت کی سماعت تو نہیں ہو سکی لیکن انھیں پولیس نے نئے مقدمات میں گرفتار کر لیا ہے۔ دوسری جانب قادر پٹیل کے وکلا نے ضمانت کیلئے عدالت سے رجوع نہیں کیا جبکہ وسیم اختر، رؤف صدیقی اور انیس قائمخانی کی درخواست ضمانت کی سماعت 21 جولائی کو متوقع ہے