- الإعلانات -

کراچی کا کچرا اٹھانے کا کام چینی کمپنی کو دینے کی منظوری

وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے پالیسی فیصلہ لیتے ہوئے تین ڈی ایم سیز سے کچرا اٹھانے کا کام چینی کمپنی کو دینے کی منظوری دیتے ہوئے اس کام کو جنگی بنیادوں پر مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔انہوں نے محکمہ بلدیات کو حکم دیا کہ متعلقہ کمپنی کے ساتھ تین ہفتوں کے اندر معاہدہ کرنے کے بعد تین ہفتوں کے اندر کام شروع کیا جائے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج وزیراعلیٰ ہاؤس میں شہر سے کچرا اٹھانے کے معاملات کے حوالے سے منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے صوبائی وزیر بلدیات جام خان شورو نے بتایا کہ سندھ حکومت کی منظوری کے بعد انہوں نے کراچی کی تین ڈی ایم سیز کورنگی،شرقی اور جنوبی سے کچرا اٹھانے کیلئے عالمی ٹینڈرز منگوائے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ سولڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ نے جنوبی اور شرقی ڈی ایم سیز کا لیٹر آف انٹینٹ ایک چائنیز کمپنی کو بھیجا ہے اور بہت جلد ہم ان کے ساتھ معاہدے پردستخط کرلیں گے۔ اس پر وزیراعلیٰ سندھ نے انہیں ہدایت دی کہ تین ہفتوں کے اندر معاہدےپر دستخط کرکے اگلے ماہ سے کام شروع کرادیں اور حکم دیا کہ یہی آپ کیلئے ٹائم فریم ہے اور آپ کو اس کے مطابق کام کرنا ہے۔صوبائی وزیر جام خان شورو نے بتایا کہ ڈی ایم سیز شرقی سے یومیہ 322357ٹن کچرا پیدا ہوتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ نئے آؤٹ سورس طریقے کار سے ہر گھر سے کچرااٹھاکر، سڑکوں اور گلیوں کی صفائی سمیت کچراکنڈیوں گاربیج ٹرانسفراسٹیشن(جی ٹی سی)سے لینڈفل سا ئیٹ تک کچرا اکٹھاکرنے کا کام کمپنی کرے گی۔وزیراعلیٰ سندھ کی طرف سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں جان خان شورو نے بتایا کہ معاہدے کی مدت سات سال ہوگی۔ پروجیکٹ پر سالانہ 9.65ملین ڈالرز خرچہ ہوگا اور اگر متعلقہ ڈی ایم سیز کمپنی کی کارکردگی سے مطمئن ہوئی تو اس پر سات سال کام جاری رہے گا۔

وزیراعلیٰ سندھ کو ڈی ایم سیز جنوبی کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے صوبائی وزیر نے بتایا کہ یہاں یومیہ 491590ٹن کچرا پیدا ہوتا ہے اور اسی چینی کمپنی کو 14.254ملین ڈالر سالانہ کے حساب سے لیٹر آف انٹینٹ بھیجا گیا ہے اور یہ معاہدہ بھی سات سال کیلئے ہوگا۔کمپنی ہر گھر کو کچرے کے ڈبے فراہم کرے گی اور پھر گھریلو کچرا کنڈیوں میں جمع کرے گی جہاں سے کمپنی کچرااٹھاکر لینڈفل سائٹ پر جمع کرے گی۔انہوں نے بتایا کہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ میکینکل کچرا جمع کرنے اور اٹھانے کا کام ایک پرائیویٹ کمپنی کرے گی جس سے اس شعبے میں زیرو کرپشن ہوگی۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کراچی کے شہریوں نے بہت زیادہ برداشت کیا ہے اور انہوں نے دہشت گردوں، بھتہ خوروں اور ٹارگٹ کلرز کا سامنا کیا ہے اور انہوں نے کہا کہ مجھے فخر ہے کہ ہماری حکومت نے سندھ پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد سے شہر میں امن امان قائم کیا ہے اور اب ہمارے لئے دوسرا بڑا چیلنج شہر کی صفائی ستھرائی ہے جس میں نے قبول کیا ہے اور میرے پاس اچھی ٹیم ہے لیکن ہمیں اس مقصد کیلئے مضبوط ٹیم ورک مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے وزیر بلدیات کو ہدایت کی کہ وہ کمپنی کے ساتھ معاہدہ پر دستخط کے حوالے سے ذاتی طور پر کوششیں کریں تاکہ لوگوں کو میونسپل کے کاموں میں بھی ریلیف مل سکے۔انہوں نے جام خان شورو کو کہا کہ میں آپ کو کام شروع کرانے کیلئے 6ہفتوں کا وقت دیتا ہوں اور امید ہے کہ آپ مجھ سے دیئے گئے وقت میں توسیع نہیں مانگیں گے