- الإعلانات -

اویس شاہ اغواپر عدالت کا غفلت کے مرتکب پولیس افسران کے خلاف کارروائی کا حکم

سپریم کورٹ نے ایڈووکیٹ اویس شاہ کے اغوا کے معاملہ پر غفلت برتنے والے پولیس افسران کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔سپریم کورٹ نے حکم کراچی بے امنی کیس کی سماعت کے دوران دیا۔ کراچی بے امنی کیس کے سماعت سپریم کورٹ کی کراچی رجسٹری میں معزز جج جسٹس امیر ہانی مسلم سراہی میں ہوئی۔ بے امنی کیس کی سماعت پرچیف سیکریٹری نے فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ پیش کی۔رپورٹ کے مطابق چار پی ایس پی افسران کے خلاف ایکشن لیاگیا۔ان افسران کے خلاف مزید کارروائی اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کرے گا۔ عدالت نے حکم دیا کہ ناقص سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب اور تجویز دینے والوں کے خلاف کیس نیب کو بھیجیں ۔ چیف سیکریٹری نے بتایا کہ ان کیمروں پر تقریبا تین سے چار سو ملین کا خرچہ آیا ہوگا ۔آئی جی سندھ نے بتایا کہ ون فائیو کا کال ریکارڈنگ سسٹم چار ماہ سے خراب ہے ۔ کوئی ایسا سسٹم نہیں جو کال نہ اٹھانے کا ڈیٹا فراہم کرسکے ۔سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ ایسا سسٹم لگائیں کہ تمام ڈیٹا ایک ساتھ موصول ہوسکے ۔دو میگا پکسل کے سی سی ٹی وی کیمرے بھی فضول ہیں ۔سپریم کورٹ نے آئی جی سندھ سے دس روز میں رپورٹ طلب کرلی۔کراچی بے امنی کیس کی سماعت کے دوران ایڈشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کی توجہ اچانک رینجرز اختیارات پر دلوادی۔جس پر جسٹس امیر ہانی مسلم نے ریمارکس دیئے کہ یہ انتظامی معاملہ ہے۔ ہم اس میں مداخلت نہیں کرینگے۔ سماعت کے دوران ججز کے خلاف توہین آمیز پراپگینڈے کا معاملہ میں سپریم کورٹ نے پراپگینڈے میں ملوث چینلز کے خلاف پیمرا سے کارروائی کی تفصیلات طلب کرلی جبکہ عدالت نے بے امنی کیس کی سماعت 28 جولائی تک ملتوی کردی