- الإعلانات -

اسلام آباد میں لڑکا لڑکی پر تشدد و نازیبا ویڈیو کیس میں اہم پیشرفت

اسلام آباد : ای الیون میں لڑکا لڑکی تشدد کیس میں متاثرین کے مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ بیانات کو بھی پولیس چالان کا حصہ بنالیا گیا، متاثرہ لڑکی نے مجسٹریٹ کو دئیے گئے بیان میں کہا کہ ’مرکزی ملزم عثمان اور اس کے دوست ہمارا مذاق اڑاتے اور ویڈیو بناتے رہے‘۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ای الیون میں لڑکا لڑکی پر تشدد اور نازیبا ویڈیو بنانے کے معاملے پر بنائے گئے پولیس چالان کے مندرجات سامنے آگئے، چالان میں کہا گیا ہے کہ عثمان ابرار مرکزی کردار ہے جس نے ساتھیوں سے نازیبا ویڈیو بنوائی۔ پولیس چالان میں کہا گیا ہے کہ ملزمان نے لڑکا لڑکی کی نازیبا ویڈیو بناکر بلیک میل کیا بعد ازاں دونوں سے بھتہ کی رقم وصول کی۔

گرفتار ملزم عمر بلال نے انکشاف کیا کہ عثمان کے کہنے پر متاثرین سے سوا 11 لاکھ روپے وصول کیے، جس میں سے چھ لاکھ عثمان کو دئیے اور باقی دیگر ساتھیوں میں تقسیم کیے۔ پولیس نے ملزم کی نشاندہی پر ویڈیو بنانے والا موبائل فون اور پستول بھی برآمد کرلیا۔ چالان میں کہا گیا ہے کہ لڑکا اور لڑکی کے مجسٹریٹ کے سامنے دفعہ 164 کے بیانات ریکارڈ کرائے، جنہیں پولیس چالان کا حصّہ بنایا گیا۔

متاثرہ لڑکی نے اپنے بیان میں کہا کہ عثمان اور اس کے دوست ہمارا مذاق اڑاتے رہے اور ہمیں برہنہ کرکے ہماری ویڈیو بناتے رہے۔ واضح رہے کہ واقعے کی ایف آئی آر چھ جولائی کو تھانہ گولڑہ میں درج کی گئی تھی، جب کہ عدالت نے ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کےلیے 28 ستمبر کی تاریخ مقرر کررکھی ہے۔