- الإعلانات -

سینیٹ کمیٹی نے سائبر کرائم ترمیمی بل منظور کر لیا

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی نے سائبر کرائم ترمیمی بل منظور کرلیا۔

انٹرنیٹ کے جدید دور میں جرائم کا طریقہ بھی جدید ہو چکا، اب ایسے جرائم سے نمٹنے کے لیے قانون کو بنایا جا رہا ہے موثر، ارکان پارلیمنٹ اور تمام اسٹیک ہولڈرز نے 5 سال کی عرق ریزی کے بعد سائبر کرائمز کے خلاف قانون تیار کیا ہے، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی آئی ٹی نے ترمیمی بل کی منظوری دے دی ہے۔

بل کے مطابق سائبر دہشت گردی پر 14سال قید ، 50لاکھ روپے جرمانہ ہو گا، انٹر نیٹ پردہشت گردی یا انتہاپسندی کی مہم چلانے ، اس حوالے سے بھرتیوں ، فنڈز اکٹھا کرنے یا ایسی کوشش کرنے پر 7سال قید ہوگی، کسی کے خلاف مذہبی،نسلی یا فرقہ واریت کی بنیاد پر مواد ڈالنے یا پھیلانے پر 7سال قید کی سزا ہوگی، چائلڈ پورنوگرافی پر 7سال قید اور 50لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔

بل کے تحت ریاستی سالمیت کے خلاف کارروائیوں میں ملوث اندرون یا بیرون ملک عناصر کو سزائیں دی جاسکیں گی، بیرون ملک سے ملزم کی گرفتاری کے لیے متعلقہ ملک سے رابطہ کیا جائے گا ، جعلی ویب سائٹ بناکر فراڈ پر 3سال قید ہوگی، غیر قانونی سمز ، چوری کے موبائل کے استعمال یا موبائل ٹیمپرنگ پر 3سال قید، 10لاکھ روپے جرمانہ ہوگا، کوئی ڈیٹا عدالتی حکم کے بغیر لیا جاسکے گا نہ شیئر کیا جاسکے گا۔

بل کے مطابق انٹر نیٹ سروس پرووائیڈریا انویسٹی گیشن ایجنسی ڈیٹا کا غلط استعمال کرے گی تو متعلقہ افراد کو 3سال قید اور 10لاکھ جرمانہ ہوگا، سائبر کرائم کے تمام جرائم پر گرفتاری یاکارروائی سے پہلےعدالت سے اجازت لینا ضروری ہوگا، سائبر کرائمز کے کیسز میں ضمانت نہیں ہو سکے گی۔

سائبر کرائم ترمیمی بل پہلے سینیٹ میں بھیجا جائے گا، اس کے بعد قومی اسمبلی میں دوبارہ منظوری کے لیے جائے گا۔