- الإعلانات -

انتظارقتل کیس کافیصلہ: دو پولیس اہلکاروں کو سزائے موت

کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے اے سی ایل سی اہلکاروں کی فائرنگ سے جاں بحق انتظار قتل کيس کا فيصلہ سناديا۔ اے ٹی سی نے جرم ثابت ہونے پر 2 پوليس اہلکاروں کو سزائے موت اور 5 کو عمر قید کی سزا سنادی۔

کراچی میں سندھ پولیس کے محکمہ اینٹی کار لفٹنگ سیل (اے سی ایل سی) نے 13 جنوری 2018ء کو 19 سالہ انتظار احمد کو روکا اور گولیاں مار کر قتل کردیا تھا

واقعے میں ملوث اے سی ایل سی ٹیم سے تفتیش کیلئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے احکامات پر اس وقت کے ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ثناء اللہ عباسی کی سربراہی میں 7 رکنی جوائنٹ انٹیروگیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی گئی، جے آئی ٹی نے انتظار کے قتل کو کولڈ بلڈڈ مرڈر (یعنی سفاکانہ قتل) قرار دیا اور 8 ملوث پولیس اہلکاروں کیخلاف قانونی کاروائی کی سفارش کی تھی

انتظار قتل کیس کی سماعت کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت میں جاری تھی، جس نے آج اپنا فیصلہ سناتے ہوئے محکمہ پولیس کے اے سی ایل سی کے 2 اہلکاروں بلال اور دانیال کو براہ راست فائرنگ کا جرم ثابت ہونے پر سزائے موت دینے کا حکم دیدیا جبکہ دیگر مجرمان انسپکٹر طارق رحیم، فواد خان، شاہد اور طارق محمود، اظہر احسن کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے

انسداد دہشت گردی عدالت نے تمام ملزمان پر 2، 2 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہے جبکہ ایک پولیس اہلکار غلام عباس کو عدم شواہد پر بری کردیا گيا۔

رپورٹ کے مطابق اس کیس کی واحد عینی شاہد مدیحہ نامی خاتون تھیں، جنہوں نے دو سال بعد اپنا بیان ریکارڈ کرایا تھا تاہم عدالت نے جے آئی ٹی کی رپورٹ اور دیگر شواہد کی روشنی میں اے سی ایل سی پولیس اہلکاروں کو مجرم قرار دیدی