- الإعلانات -

وسیم اختر نے 12 مئی سے متعلق اپنے اعترافی بیان کی تردید کردی

کراچی: پولیس کے زیر حراست متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما وسیم اختر نے 12 مئی کے حوالے سے پولیس رپورٹ میں اپنے اعترافی بیان کی تردید کردی۔

نیوز کے مطابق کراچی کے نامزد میئر وسیم اختر نے جیل سے خط تحریر کیا ہے جس میں انہوں نے 12 مئی کے حوالے سے منظر عام پر آنے والی پولیس رپورٹ میں اپنے اعترافی بیان کی تردید کردی ہے۔ وسیم اختر نے کہا ہے کہ 12 مئی کے حوالے سے کوئی اعترافی بیان دیا اور نہ ہی کسی قسم کے انکشافات کیے ہیں، میرا صرف میڈیا ٹرائل کیا جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سانحہ 12 مئی کی اعلیٰ عدلیہ سے اوپن انکوائری کرائی جائے۔

دوسری جانب کراچی میں ایم کیوایم کے مرکز نائن زیروپر پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایم کیوایم کے رہنما کنور نوید جمیل نے کہا کہ رابطہ کمیٹی کے مشاورتی اجلاس میں وسیم اختر کو ہی کراچی کے میئر کا امیدوار برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وسیم اختر کے حوالے سے سامنے آنے والی پولیس رپورٹ کو مسترد کرتے ہیں، وسیم اختر پر گھٹیا الزامات لگائے جارہے ہیں، 12 مئی کے حوالے سے جعلی رپورٹ بنائی گئی ہے، جب یہ واقعات پیش آئے وسیم اختر اس وقت مشیر داخلہ تھے۔

کنور نوید جمیل نے کہا کہ 12 مئی کے روز وسیم اختر پر فائرنگ کے احکامات دینے کا الزام بے بنیاد ہے، اس روز ہمارے بھی 14 کارکن قتل ہوئے، سانحہ 12 مئی کے واقعہ پر سب سے پہلے ایم کیوایم نے جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا تھا اور جوڈیشل انکوائری میں ہمارے کسی رہنما کا نام شامل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیوایم کراچی کی اکثریتی جماعت ہے، اس کے اور شہر کے خلاف سازشیں بند کی جائیں۔

واضح رہے کہ ایم کیوایم کے سینئر رہنما اور کراچی کے نامزد میئر وسیم اختر اس وقت پولیس کی تحویل میں ہیں جب کہ گزشتہ روز پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ وسیم اختر نے تفتیشی رپورٹ میں سانحہ 12 مئی کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ اس روز فائرنگ کے احکامات متحدہ قائد نے دیئے تھے جو ان کا اور ایم کیوایم کے قائد کا منصوبہ تھا۔