- الإعلانات -

NTSکے بارے میں ایک تشویشناک خبر!

اسلام آباد: سینیٹ قائمہ کمیٹی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے اجلاس میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ این ٹی ایس کی ملکیت کا پہلے بھی سوال اٹھایا گیا تھا جامع اور تسلی بخش جواب نہیں دیا گیا۔2012میں آمدن صفر تھی، اچانک 2013میں 19کروڑ 2014میں ا ارب 10کروڑ ہو گئی، اتنی زیادہ آمدن اور منافع بڑی بڑی پرائیویٹ کمپنیاں بھی نہیں کما رہیں اور اعتراض اٹھایا کہ این ٹی ایس کا 27فیصد خالص منافع الائیڈ بنک میں ٹی ڈی آر میں جمع کرا کر 9.5فیصد اضافہ لیا جا رہا ہے ،کمیٹی نے بتایا کہ ملک کے کونے کونے سے این ٹی ایس کے ٹیسٹ اور پیپر ریچکنگ ، زیادہ فیس کے حوالے سے چیئر مین سینیٹ کو عوامی عرضداشتوں کی بھر مار ہے کہ ٹیسٹ میں غریب اور زہین طلبائ کو نا بلوایا جاتا ہے اور نہ ہی پیپر ریچیک ہوتے ہیں اور سوال اٹھایا کہ این ٹی ایس کا فنانشل آڈٹ کیوں نہیں ہوتا اور اگر ہوتا ہے تو ان کا آڈٹ کون کر رہا ہے اور کہا کہ این ٹی ایس نے شکایات اکاو¿نٹس کے معاملات صرف پیسے کمانے والی کمپنی کے تاثر کی وجہ سے این ٹی ایس کے لئے مصیبت بنا دی ہے۔چیئر مین کمیٹی سینیٹر عثمان سیف اللہ خان کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاو¿س میں منعقد ہوا جس میں این ٹی ایس کی کارکردگی کے حوالے سے عوامی عرضداشتوں کے ذریعے این ٹی ایس کی ملکیت اس کے شراقت داروں ،ایس سی سی پی کیساتھ رجسٹریشن اور مالکان میں منافع تقسیم کرنے اور پچھلے تین سال کی آڈٹ اکاو¿نٹ رپورٹس کا ایجنڈا زیر بحث آیا۔چیئر مین کمیٹی نے کہا کہ این ٹی ایس کی ملکیت کا پہلے بھی سوال اٹھایا گیا تھا جامع اور تسلی بخش جواب نہیں دیا گیا۔2012میں آمدن صفر تھی اچانک 2013میں 19کروڑ 2014میں ا ارب 10کروڑ ہو گئی۔ اتنی زیادہ آمدن اور منافع بڑی بڑی پرائیویٹ کمپنیاں بھی نہیں کما رہیں اور اعتراض اٹھایا کہ این ٹی ایس کا 27فیصد خالص منافع الائیڈ بنک میں ٹی ڈی آر میں جمع کرا کر 9.5فیصد اضافہ لیا جا رہا ہے۔چیئر مین کمیٹی نے بتایا کہ ملک کے کونے کونے سے این ٹی ایس کے ٹیسٹ اور پیپر ریچکنگ ، زیادہ فیس کے حوالے سے چیئر مین سینیٹ کو عوامی عرضداشتوں کی بھر مار ہے کہ ٹیسٹ میں غریب اور زہین طلباءکو نا بلوایا جاتا ہے اور نہ ہی پیپر ریچیک ہوتے ہیں اور سوال اٹھایا کہ این ٹی ایس کا فنانشل آڈٹ کیوں نہیں ہوتا اور اگر ہوتا ہے تو ان کا آڈٹ کون کر رہا ہے اور کہا کہ این ٹی ایس نے شکایات اکاو¿نٹس کے معاملات صرف پیسے کمانے والی کمپنی کے تاثر کی وجہ سے این ٹی ایس کے لئے مصیبت بنا دی ہے۔سینیٹر اعتزاز احسن نے بھی سوال اٹھایا کہ 13سالوں میں 5ارب اور صرف ایک سال 1ارب 10کروڑ روپے کی کمائی کے بارے میں آگاہ کیا جائے کہ وہ کیا اقدامات تھے کہ اچانک سالانہ اضافہ بڑگیا۔ 7ہزار امید واروں کا ٹیسٹ لینے کی صلاحیت یک دم ایک کروڑ تک پہنچ گئی۔۔کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ این ٹی ایس 2002میں بنا جس کی گورننگ باڈی کے کل 23ممبران ہیں این ٹی ایس کے پاس 3ہزار ماہر اساتذہ کام کر رہے ہیں اور مختلف 68مضامین کا ٹیسٹ لیا جاتا ہے بین الاقوامی ٹیسٹنگ سروس کے کیساتھ بھی منسلک ہیں روزانہ کی بنیاد پر ایک لاکھ نتائج تیار کئے جا سکتے ہیں۔صاف اور شفاف طریقے سے ٹیسٹ کا طریقہ کار وضح کیا گیا ہے 2011میں ای پی اے ایوارڈ ملا ہے کل 5052ٹیسٹ لے چکے ہیں ہمارے 360شراکت دار ٹیسٹ کرواتے ہیں کل امیدواروں ،ایک کروڑ 50لاکھ کا ٹیسٹ لے چکے ہیں۔ضرورت مند مستحق زہین طلباءکو وضائف بھی تقسیم کئے جاتے ہیں۔ 2002سے 2015تک پانچ ارب کی آمدن ہوئی ،ادارے کی ترقی کیلئے 60کروڑ اور انتظامی اخراجات 3ارب 81کروڑ ہوئے۔سیکریٹری وزارت اور این ٹی ایس حکام سے پوچھا گیاکہ ایڈیشنل ممبرز نے 60کروڑ روپے دیے اور 40کروڑ الائیڈ بنک میں جمع کروا کر اضافہ لیا جا رہا ہے۔کمیٹی نے سفارش کی کہ ایلیٹ کلاس کے بچے این ٹی ایس ٹیسٹ نہیں دیتے۔ غریب طلباءٹیسٹ دیتے ہیں اس لئے فیس میں 20فیصد تک کمی کی جائے۔الائیڈ بنک میں جمع شدہ 40کروڑ روپیہ نیشنل بنک میں جمع کروا یا جائے یا یہ رقم زہین طلبائ میں وضائف کی شکل میں تقسیم کر دی جائے۔ کمیٹی نے این ٹی ایس کی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے۔وزارت کو ہدایت دی کہ این ٹی ایس کے معاملات میں مداخلت نہ کرے اور لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے پر بھی من و عن عمل کیا جائے۔لمز یونیورسٹی کے وی سی کو بھی گورننگ باڈی میں شامل کیا جائے تاکہ اعتماد میں اضافہ ہو اور فیصلہ کیا گیا کہ این ٹی ایس کے بارے میں کمیٹی اجلاس منعقد ہوتے رہیں گے۔اجلاس میں قائد حزب اختلاف سینیٹ سینیٹر چوہدری اعتزاز احسن ، سینیٹرز محمد اعظم خان سواتی ،پروفیسر ساجد میر ، مومن خان آفریدی کے علاوہ سیکریٹری وزارت فضل عباس میکن ، کامسیٹ کے ایس ایم جنید زیدی ،سی ای او این ٹی ایس ڈاکٹر ہارون الرشید ، ایس ای سی پی کے عبدالرحمان قریشی نے شرکت کی۔