- الإعلانات -

کراچی بے امنی کیس میں سپریم کورٹ کا آئی جی سندھ پر اظہار برہمی

کراچی : بے امنی کیس کی سماعت کے دوران جیل سے بھاگنے والے ملزموں کی رپورٹ طلب کر لی گئی ، عدالت نے آئی جی سندھ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے آپ کو مسائل کے حل میں دلچسپی نہیں۔

کراچی امن و امان کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے کی ، فوجی اہلکاروں کی شہادت کے معاملے پر عدالت نے سوال کیا کہ سی سی ٹی وی کیمرے کام کیوں نہیں کر رہے تھے ؟

جسٹس امیر ہانی مسلم نے ریمارکس دیئے کہ آپ کے کیمروں پر شہد کی مکھیاں بیٹھی ہیں، کیمرے واضح تصاویر نہیں لے سکتے تو کیوں لگائے گئے؟

عدالت کو پیش کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ واقعے کی فوٹیج حاصل کرلی ہے ، تحقیقات جاری ہیں ،2012 میں لگائے گئے 820 کیمروں میں سے 813 کام ہی نہیں کر رہے۔

عدالت نے سی سی ٹی وی کیمروں کے لئے الگ بجٹ مختص نہ کرنے پر اظہار برہمی کیا ۔ جسٹس خلجی عارف نے ریمارکس دیئے کہ کراچی میں امن و امان کی صورتحال تو زیادہ گھمبیر ہے۔

عدالت نے سی سی ٹی وی کیمروں سے متعلق تفصیلی رپورٹ طلب کر لی، پیرول پر ملزمان کی رہائی کے معاملے پر جسٹس امیر ہانی مسلم نے ریمارکس دیے کہ معلوم ہے کہ سزا یافتہ لوگ بھی جیلوں سے بھاگے ہوئے ہیں، یہ معاملہ پیرول پر رہا کئے گئے ملزمان سے زیادہ سنگین ہے۔

عدالت نے آئی جی جیل خانہ جات سے بھاگے ہوئے ملزمان سے متعلق تفصیلی رپورٹ طلب کر لی، ججز کے خلاف پراپگینڈے کے معاملے پر چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کراچی بے امنی کیس کی سماعت سے الگ ہوگئے۔

علیحدگی کا فیصلہ سوشل میڈیا پر لگنے والے الزامات کے باعث کیا ، کراچی امن وامان کیس کی سماعت 11 اگست تک ملتوی کر دی گئی۔