- الإعلانات -

قندیل قتل کیس، مفتی قوی کے موبائل کا ڈیٹا حاصل کر لیا گیا

قندیل بلوچ قتل کیس میں تفتیشی ٹیم نے مفتی عبدالقوی کا موبائل فون ڈیٹا حاصل کرلیا، مفتی صاحب کا قندیل بلوچ سے آخری رابطہ 22 جون کو ہوا تھا جبکہ اس سے پہلے دونوں کے درمیان کئی بار فون پر رابطہ ہوا، مفتی عبدالقوی تفتیشی ٹیم کو کل بیان ریکارڈ کرائیں گے۔

قندیل بلوچ قتل کیس میں تفتیش کا دائرہ کار وسیع کردیا گیا، مفتی عبدالقوی کل تفتیشی ٹیم کو اپنا بیان ریکارڈ کروائیں گے۔ تفتیشی ٹیم نے مفتی عبدالقوی سے تحقیقات کے لیے 14 سوالات پر مشتمل ایک سوالنامہ تیار کیاہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مفتی عبدالقوی کا موبائل فون ڈیٹا بھی حاصل کرلیا گیا ہے جس کے مطابق قندیل بلوچ سے ان کا آخری رابطہ 22 جون کو ہوا اور 22 جون سے قبل بھی مفتی قوی اور قندیل بلوچ میں ٹیلی فونک رابطے ہوتے رہے، 14 جولائی کو ماڈل گرل قندیل بلوچ قتل کردی گئی۔

دوسری جانب قندیل بلوچ قتل کیس میں گرفتار مرکزی ملزم وسیم کو آج سول جج کی عدالت میں پیش کرکے مزید 4 روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کرلیاگیا۔

قندیل بلوچ قتل کیس میں ایک اور کردار سامنےآیا ہے اور وہ کردار ہے ڈیرہ غازی خان کا ٹیکسی ڈرائیور باسط جس نے گزشتہ روز رضاکارانہ طور پر خود کو پولیس کے حوالے کیا۔

باسط قندیل قتل کیس کے مرکزی ملزم وسیم کی معاونت کے شبہے میں پولیس کو مطلوب تھا، اس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ڈیرہ غازی خان سے ملتان کے سفر کے لیے وسیم اور حق نواز نے اس کی ٹیکسی کرائے پر لی تھی، تاہم اسے معلوم نہیں تھا کہ وسیم اور حق نواز کا منصوبہ قندیل بلوچ کو قتل کرنے کا تھا۔